جنیوا// عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے سربراہ نے دنیا کے ممالک کو متنبہ کیا ہے کہ لاک ڈائون میں نرمی بہت ہی خطرناک ثابت ہوگی۔ کئی ممالک میں اقتصادی مشکلات ہیں لیکن تمام ممالک کو لاک ڈائون میں نرمی سے متعلق بہت ہی احتیاط کرنی چاہیے۔ انہوں نے کہا ہے کہ یوروپی ممالک میں عالمی وبا کے کیسز میں کچھ کمی آئی ہے جو کہ خوش آئند ہے، تاہم افریقہ سمیت دوسرے ممالک میں کورونا کیسز بہت تیزی سے بڑ ھ رہے ہیں۔ڈبلیو ایچ او کے سربراہ ڈاکٹر ٹیڈورس نے مزید کہا ہے کہ عالمی ادارہ صحت لاک ڈائون میں نرمی سے متعلق حکمت عملی بنانے کے لئے کچھ ملکوں کے ساتھ کام کر رہا تھا۔ اور آپ جانتے ہیں کہ کئی ممالک شہریوں کے گھروں پر رہنے کی پابندی ہٹانے کی تیاری کر رہے ہیں۔ عالمی ادارہ صحت کے سربراہ ڈاکٹر ٹیڈروس ادھانوم گھیبریوسس کا کہنا ہے کہ لاک ڈاؤن جلد ہٹانے سے طویل عرصے تک منفی معاشی اثرات کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے اور یہ وائرس دوبارہ سر اٹھاسکتا ہے۔ ڈاکٹر ٹیڈروس کا کہنا ہے کہ ہمیں معلوم ہے کہ لاک ڈاؤن کے سماجی اور معاشی اثرات نہایت سخت ہیں تاہم ہمارے پاس ان پابندیوں سے نکلنے اور صورتحال کو بہتر بنانے کے لیے یہی بہترین راستہ ہے کہ ہم خود وائرس پر حملہ آور ہوں۔ان کا مزید کہنا ہے کہ تمام ممالک وبا پر کنٹرول کے لیے بنیادی ہدایات پر عمل کریں۔ دوسری جانب عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کا بھی کہنا ہے کہ کورونا وائرس کی وجہ سے دنیا کی کمزور معیشتیں مزید بحران کا شکار ہوسکتی ہیں۔ آئی ایم ایف کا کہنا ہے کہ ایسے ملکوں کو صحت کو ترجیح دے کر اپنی معیشتوں کو بچانا ہوگا۔خیال رہے کہ کورونا وائرس کی روک تھام کے لیے دنیا کے اکثر ممالک میں لاک ڈاؤن کیا گیا ہے جس کے باعث دنیا بھر میں معاشی سرگرمیاں منجمد ہوکر رہ گئی ہیں۔دنیا کے بیشتر ممالک میں کورونا وائرس کے مریضوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔ بیشتر ممالک اس پر قابو پانے کیلئے مختلف اقدامات کررہے ہیں۔کل تھائی لینڈ نے ملک بھر میں کرفیو کے نفاذ کا اعلان کیا تھا جبکہ اسپین کے وزیراعظم ریڈرو سائینچیز نے ملک میں لاک ڈاؤن کی مدت میں 25 اپریل تک توسیع کردی ہے۔