جاوید اقبال
مینڈھر//سب ڈویژن مینڈھر میں حالیہ طوفانی بارش اور ندی نالوں میں اچانک آنے والی طغیانی نے کسانوں کی مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔ شدید بارش کے باعث متعدد علاقوں میں زرعی اراضی زیر آب آ گئی، جبکہ کھیتوں میں کھڑی مکئی کی فصل کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچا ہے۔ متاثرہ کسانوں نے ضلعی انتظامیہ سے نقصان کا فوری سروے کرانے اور مناسب معاوضہ فراہم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔مقامی ذرائع کے مطابق گزشتہ روز ہونے والی موسلا دھار بارش کے باعث مختلف ندی نالوں میں پانی کی سطح اچانک بلند ہو گئی، جس کے نتیجے میں سیلابی پانی قریبی زرعی زمینوں میں داخل ہو گیا۔
متعدد ایکڑ زرعی اراضی پانی کی زد میں آنے سے فصلیں تباہ ہو گئیں، جبکہ کئی کھیتوں میں مٹی کا کٹاؤ بھی ہوا جس سے زمین کی زرخیزی متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔متاثرہ کسانوں کا کہنا ہے کہ اس وقت مکئی کی فصل اپنی اہم نشوونما کے مرحلے میں تھی، لیکن طوفانی بارش اور سیلابی پانی نے فصل کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ ان کے مطابق اگر بروقت سرکاری امداد فراہم نہ کی گئی تو انہیں بھاری مالی خسارے کا سامنا کرنا پڑے گا۔کسانوں نے بتایا کہ سب ڈویژن مینڈھر کے بیشتر دیہی علاقوں میں لوگوں کا بنیادی ذریعہ معاش زراعت ہے، اور مکئی یہاں کی اہم فصلوں میں شمار ہوتی ہے۔ فصل کی تباہی سے غریب اور متوسط طبقے کے کسانوں کے لیے معاشی بحران پیدا ہو گیا ہے۔متاثرین نے ضلعی انتظامیہ، محکمہ زراعت اور ریونیو حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ متاثرہ علاقوں کا فوری سروے کر کے نقصانات کا تخمینہ لگایا جائے اور حکومتی ضوابط کے مطابق کسانوں کو مناسب معاوضہ اور مالی امداد فراہم کی جائے تاکہ وہ اپنے نقصانات کا ازالہ کر سکیں اور آئندہ فصل کی تیاری کے قابل ہو سکیں۔مقامی لوگوں نے امید ظاہر کی ہے کہ انتظامیہ اس قدرتی آفت سے متاثرہ کسانوں کی مشکلات کو مدنظر رکھتے ہوئے فوری اقدامات کرے گی اور امدادی پیکیج کے ذریعے ان کی بھرپور مدد کو یقینی بنائے گی۔