سرینگر//حکومت نے کالجز اور یونیورسٹیز میں طلاب اور تدریسی عملہ کی سو فیصد ٹیکہ کاری کی شرط پر تعلیمی سرگرمیاں شروع کرنے کی اجازت دینے کا فیصلہ کیا ہے تاہم اسکول و کوچنگ مراکز تا حکم ثانی بدستوربند رہیں گے۔حکومت نے اتوار کو کہا کہ وہ اعلیٰ تعلیمی اداروں میں محدود عملے اور طلباء کے ساتھ تعلیمی سرگرمیاں دوبارہ شروع کرنے کی اجازت دینے پر غور کر رہی ہے۔یہ فیصلہ ریاستی ایگزیکٹو کمیٹی ، جو چیف سیکریٹری کی سربراہی میں منعقد ہوئی، میں لیا گیا۔ میٹنگ میں ایڈیشنل چیف سکریٹری صحت و طبی تعلیم، ایڈیشنل چیف سیکریٹری، فائنانس ، پرنسپل سکریٹری محکمہ داخلہ،صوبائی کمشنروں،ضلع ترقیاتی کمشنروں،ضلع پولیس سربراہان اور دیگر افسران بھی موجود تھے۔میٹنگ میں جموں و کشمیر کی موجودہ کوویڈ صورتحال کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ریاستی ایگزیکٹو کمیٹی نے اپنے احکامات میں کہا ہے’’تمام سکول بشمول کوچنگ سینٹر آئندہ احکامات تک ذاتی طور پر پڑھانے کے لئے بند رہیں گے،تاہم ، اعلی تعلیمی اداروں کو اجازت دی جاسکتی ہے کہ وہ ذاتی طور پر تدریسی عمل اس بنیاد پر شروع کریںکہ 100 فیصد عملے اور طلباء کی ٹیکہ کاری ہوئی ہو اور متعلقہ ڈپٹی کمشنروں سے اجازت لی گئی ہو‘‘۔حکومت نے یہ بھی کہا کہ تعلیمی ادارے انتظامیہ کے ساتھ مشاورت سے خصوصی ٹیکہ کاری کے کیمپ لگاسکتے ہیں اور دیگر تعلیمی ادارے انتظامی مقاصد کے لئے ٹیکے لگا ئے گئے عملے کی حاضری کی اجازت دے سکتے ہیں۔ریاستی ایگزیکٹو کمیٹی نے مزید کہا کہ با غات میں داخلے کی اجازت صرف ٹیکے لگائے گئے افراد کو دی جائے گی جس کی مناسب تصدیق کی جائے گی۔اس کے علاوہ حکومت نے کہا کہ شبانہ کرفیو تمام اضلاع میں رات 8 بجے سے صبح 7 بجے تک نافذ رہے گا۔ گھروں کے اندر کسی بھی اجتماع میں 25افراد سے زیادہ کی اجازت نہیں ہوگی۔حکومت نے کہا’’تمام ڈپٹی کمشنراپنے دائرہ اختیار میں آنے والے میڈیکل بلاکوں کی مثبت شرح پر توجہ دیں گے اور کوویڈ کے انتظام سے متعلق اقدامات کو تیز کریں گے اور ان بلاکوں میں ضلع ترقیاتی کمشنر کی جانب سے سرگرمیوں پر پابندی عائد کی جائے گی۔ حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ ضلع ترقیاتی کمشنر بلاکوں میں مثبت شرح کا فعال ٹریک رکھیں گے اور اور اگر ان بلاکوںمیں مثبت شرح چار فیصد سے تجاوز کر جائے،تو اس صورت میںبند جگہوں جیسے کہ سرکاری،نجی دفاتر ، کمیونٹی ہالوں، شاپنگ مالوںور بازاروں میں سخت کنٹرول کے اقدامات کو نافذ کرنے پر غور کریں گے۔ حکم نامہ میں مزید کہا گیا ہے کہ ٹیکہ کاری کے علاوہ،جانچ اور نگرانی سمیت علاج کے ضوابط کو ان بلاکوںمیں مضبوط بنانے کی ضرورت ہے۔ حکومت نے کہا ’’ آر ٹی پی سی آرٹیسٹ کا تناسب بہترین کوشش کی بنیاد پر بڑھایا جانا چاہیے جبکہ ، مسافروں کو چھوڑ کر دیگر لوگوں میں اس کی شرح 70 فیصد یا اس سے زیادہ کر دینی چاہیے۔ریاستی ایگزیکٹو کمیٹی ’’ابتدائی جانچ کے نتیجے میں پائے جانے والے مثبت کیسوںکو جلد از جلد الگ تھلگ یا قرنطینہ کرنے کی ضرورت ہے اور ان کے رابطوں کو بھی جلد از جلد تلاش کیا جانا چاہیے اور اگر ضرورت ہو تو انہیں بھی الگ تھلگ یا قرنطینہ میں رکھ کہ انکی جانچ کی جانی چاہے۔ آرڈر میں یہ بھی کہا کہ کوویڈ کے مریضوں کی فوری تنہائی اور علاج معالجے کی سہولیات ، ہسپتالوں یا گھروں میں یقینی بنایا جائے گا۔ مزید کہا گیا ہے کہ ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ سختی سے اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ کوویڈ کے مناسب رویے کی مکمل تعمیل ہو اور آفات سماویٰ قانون و تعزیرات ہند کے متعلقہ دفعات کے تحت عدم تعمیل کرنے والوں کے ساتھ سختی سے نمٹا جائے۔