عاصف بٹ
کشتواڑ // ضلع مجسٹریٹ کشتواڑ کی جانب سےگزشتہ شب ضلع ہسپتال کشتواڑ میں خاتون کی مبینہ طور ہوئی موت کو لیکر مجسٹریل انکویری کے احکامات جاری کئے ہیں ۔ تفصیلات کے مطابق 26اپریل کو ضلع ہسپتال کشتواڑ میں واقعہ رونما ہوا جب تحصیل درابشالہ کے گاؤں چوریانہ کی رہائشی خاتون پائل دیوی کی موت اس وقت واقع ہوئی جب اسے ہسپتال میں داخل کیا گیاجہاں مبینہ طور پر اسے طبی سہولیات نہ ملنے سے اسکی موت واقع ہوئی۔ اسکے اہل خانہ نے ہسپتال انتظامیہ پر لاپرواہی برتنے کا الزام عاید کیا جسے اسکی موت واقع ہوئی ۔سرکاری حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ اس واقعے نے مقامی عوام میں شدید تشویش پیدا کی ہے اور اس کے خلاف احتجاج بھی دیکھنے میں آیا جس کے پیش نظر معاملے کی شفاف اور وقت مقررہ کے اندر تحقیقات ضروری سمجھی گئی ہیں۔ حکم کے مطابق اسسٹنٹ کمشنر (ریونیو) کشتواڑ کو اس معاملے کی جامع و گہرائی سے تحقیقات کرنے کی ذمہ داری سونپی گئی ہےجبکہ انھیں انکوائری کے دوران تفصیلی جائزہ لینے کو کہا گیاہے جسمیں متاثرہ خاتون کو فراہم کی گئی طبی سہولیات کا معیار ، ہسپتال میں عملے اور بنیادی سہولیات کی دستیابی، کسی بھی ڈاکٹر یا طبی عملے کی ممکنہ غفلت یا کوتاہی شامل ہے ۔انکوائری افسر تمام متعلقہ گواہوں کے بیانات ریکارڈ کریں ،میڈیکل ریکارڈ اور دیگر دستاویزی شواہد کا باریک بینی سے جائزہ لیں اور اگر ضرورت ہو تو ماہرین کی رائے بھی حاصل کریںگے۔ حکام نے واضح کیا ہے کہ انکوائری رپورٹ سات دن کے اندر مکمل کر کے ضلع مجسٹریٹ کے دفتر میں پیش کی جائے۔ اس کے علاوہ ضلع ہسپتال کشتواڑ کے میڈیکل سپرانٹنڈنٹ اور دیگر متعلقہ افسران کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ انکوائری میں مکمل تعاون فراہم کریں اور تمام ریکارڈ،سی سی ٹی وی فوٹیج اور دیگر ثبوت بلا تاخیر پیش کریں، کسی بھی قسم کی معلومات چھپانے یا رکاوٹ ڈالنے کی صورت میں قانونی کارروائی کی جائے گی۔ یہ حکم ایڈیشنل ضلع مجسٹریٹ کشتواڑ کی جانب سے جاری کیا گیا ہے، عوام نے اس اقدام کا خیرمقدم کرتے ہوئے امید ظاہر کی ہے کہ تحقیقات کے ذریعے سچ سامنے آئے گا اور ذمہ داران کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔