بانہال//جموں سرینگر شاہراہ پر ضلع رام بن کے قصبہ جات میں جواہر ٹنل سے لیکر بٹوت تک کوئی پبلک یا چلڈرن پارک سیر وتفریح کیلئے نہ ہو نے کی وجہ سے عام لوگوں اور بچوں کے ساتھ ساتھ یہاں سے گذرنے والے مسافروں اور سیاحوں کو بھی بیٹھنے اور ٹہلنے کی کو ئی جگہ موجود نہ ہے۔قصبہ بانہال سے گذرنے والی ریلوے لائن اور فورلین کے لمبے ٹنل تعمیر کئے جانے کے بعد ان ٹنلوں کو دیکھنے کے لئے وادی کے علاوہ جموں اور دیگر ریاستوں سے بھی لوگ دیکھنے کے لئے بانہال آتے ہیں لیکن یہاں پر کوئی پبلک پارک نہ ہو نے کی وجہ سے ان لوگوں کو یہاں رکنے کے لئے مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ویری ناگ کشمیر سے لیکر پتنی ٹاپ کے درمیان ضلع رام بن میں شاہراہ پر واقع قصبہ بانہال رام بن اور بٹوت میں اس قسم کی کوئی بھی سہولیات میسر نہ ہے۔ مختلف حکومتوں کی طرف سے اگر چہ صوبہ جموں اور کشمیر کے کئی علاقوں میں چلڈرن اور پبلک پارکیں تعمیر کی گئی لیکن اس ضلع کے قصبہ جات میں اس معاملے کی طرف کھبی بھی کسی سرکار نے توجہ مرکوز نہ کی۔ بانہال اور قصبہ رام بن میں عام لوگ اپنے بچوں کو کھیل کود و ٹہلنے کے لئے انہیں کوئی بھی پارک موجود نہ ہے۔وادی سے بانہال سب سے لمبے ریلوے ٹنل کو دیکھنے آنے والے لوگ مقامی ہوٹلوں اور قصبہ کے بیچوں بیچ گذرنے والے نالہ بچھلڑی کے کناروں پر کھانے کھاتے ہوئے دیکھے جاتے ہیں۔اگر چہ کچھ ممبران اسمبلی کا کہنا ہے کہ اْنہوں نے بانہال میں پارک تعمیر کر نے کا منصوبہ بنایا تھا لیکن زمین کی عدم دستیابی اْن کے مطابق اس معاملے میں اْن کے لئے رکاوٹ کا باعث بنا ۔مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ اگر کشمیر اور جموں کے دوسرے مقامات پر کئی پارکیں تعمیر کی گئی لیکن ان قصبہ جات کی طرف کسی نے بھی اس معاملے میں دلچسپی ظاہر نہ کی ہے۔ لوگوں نے موجودہ سرکار سے اپیل کی ہے کہ وہ قصبہ رام بن اور بانہال میں فوری طور پر پبلک پارکیں تعمیر کریں تاکہ یہاں کے عوام اور بچے کو بھی کھیلنے کودنے کا موقع مل سکے۔ قصبہ بانہال میں اگر چہ شاہراہ کے برلب ایک چھوٹی سی میونسپل پارک دہائیوں پہلے سے موجود ہے لیکن محکمہ کی عدم توجہی کی وجہ سے یہ چھوٹی سے پارک بھی بنا سبزے کے بنجر میں تبدیل ہو گئی ہے۔ اور یہاں پر بھی دور دراز کے علاقوں سے مختلف کاموں کے لئے تحصیل ہیڈ کواٹر کا رخ کر نے والے لوگوں کو بھی بیٹھنے کے لئے جگہ نہ ہے۔