مبصر اور تجزیہ نگار آدتیہ شرما کے مطابق کورونا وائرس کے پھیلائو کو روکنے کیلئے نافذ لاک ڈائون کے دوران اپنے گھروں کیلئے ننگے پیر پیدل چلنے والے ہزاروں مہاجر مزدوروں اور تبلیغی جماعت کے ارکان کوایک ہی عمارت میں ٹھونسے رکھنے کی تصاویر مدتوں تک بھارت میں انسانی حقوق کی پاسداری کا مُنہ چڑاتی رہیں گی۔کئی ماہرین اب کھل کر اس بات کا اظہار کررہے ہیں کہ لاک ڈائون کو حکومتی سطح پر کورونا کے علاج کے طور پیش کرکے صورتحال کا مقابلہ کرنے کی اہلیت اور صلاحیت نہ بڑھاکر لاک ڈائون کا مقصد ہی فوت ہوگیا جس کی وجہ سے عام لوگوں کی نقل و حمل پر روک لگانے کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوا۔
انسانی حقوق کے عالمی قانون کی رْو سے ہر شخص کو ممکنہ حد تک اعلیٰ ترین معیاری صحت سہولیات کا حق حاصل ہے اور اس قانون کی رو سے ملکی حکومتوں کا فرض ہے کہ وہ صحت عامہ کو درپیش خطرات کی روک تھام اور ضرورت مندوں کی طبی نگہداشت کے لیے ضروری اقدامات کریں۔ان سارے حقوق کی مکمل تفصیل اقوام متحدہ کے انسانی حقوق سے متعلق چارٹر میں درج ہیں۔انسانی حقوق سے متعلق مذکورہ چارٹر یہ بھی تسلیم کرتا ہے کہ صحت عامہ کو سنگین خطرات اور قوم کی زندگی کے لیے پْرخطر ہنگامی حالات میں بعض حقوق پر پابندیاں جائز ہو سکتی ہیں، لیکن اس کیلئے یہ شرط عائد ہے کہ اُن پابندیوں کا قانونی جواز موجود ہو۔ یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ان کا اطلاق انتہائی ضروری اور محدود مدت کے لیے ہو نیز ان پابندیوں کے دوران انسانی عزت وقار کا احترام کیا جائے اور انہیں نظرثانی کے تابع رکھا جائے تاکہ حصول مقصد کے ساتھ ہی ان کا خاتمہ کیا جائے۔
کورونا وائرس کی سطح اور شدت واضح طور پر صحت عامہ کے لیے ایک ایسا خطرہ ہے کہ بعض حقوق پر پابندیاں جائز ہو جاتی ہیں جیسے کہ شہریوں کی نقل و حرکت کی آزادی کو محدود کرنے کے لیے قرنطین یا تنہائی،اور بحرانی اوقات کے نتیجے میں پیدا ہونے والے حالات میں انتشار اور افرا تفری ایک قدرتی امر ہے ۔ یہ کنفیوژن اور بحرانی کیفیت ایک زور دار ردعمل کا سبب بن سکتی ہے اور ماہرین اس بات کا اعتراف کرتے ہیں کہ حقوق کے معیار کو لگاتار گرنے دینے سے کسی بھی ملک کے اندر حالات ابتر ہوسکتے ہیں۔اس لئے ایک قانونی طریقے کو بھی کچھ اس طرح عملانا از حد ضروری ہوتاہے کہ حقوق کا معیار بھی حد سے زیادہ نہ گرنے پائے اور عوام کو تحفظ بھی فراہم ہو، چاہے وہ ایک ان دیکھے مگر مہلک وائرس سے ہی کیوں نہ ہو۔
کورونا وائرس کے پس منظر میںماہرین ،حکومتی اقدامات اور اس کیخلاف رد عمل کی مثالوں کو مد نظر رکھتے ہوئے انسانی حقوق سے جڑے مسائل پر مسلسل گفتگو کررہے ہیں۔ماہرین ایسی تجاویز پیش کررہے ہیں جن پر عمل کر کے حکومتیں اوران کے ماتحت ادارے کورونا کے خلاف اپنے اقدامات کے دوران بھی انسانی حقوق کا احترام یقینی بناسکتے ہیں۔
کورونا یا کووڈ19 ایک بیماری ہے جس کا سبب ایک نیا وائرس ہے جس کی سب سے پہلے نشاندہی دسمبر 2019 میں ہوئی تھی۔ یہ وائرس انسان کے نظام تنفس کو متاثر کرتا ہے۔اس کی روک تھام کے لیے ابھی تک ویکسین تیار نہیں ہوئی ہے اورنہ ہی اس کا کوئی علاج دریافت ہوا ہے ،سوائے اس کے کہ صرف علامتوں کو کنٹرول کیا جا سکتا ہے۔جدیدسائنس اور تحقیق کی اسی لاچارگی کا نتیجہ ہے اس عالمی وبا ء نے اب تک دنیا بھر میں کم و بیش70 لاکھ افراد کو متاثر کیا ہے اور4 لاکھ سے زیادہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
حیرانگی کا عالم ہے کہ اس وبا ء سے زیادہ متاثر وہ ممالک بھی ہیں جنہیں اُن کی سائنسی ترقی، انسانی آزادی اور معیار زندگی پر ناز ہے۔انہی ممالک کی کاوشوں کا نتیجہ ہے کہ عالمی میثاق برائے معاشی، معاشرتی و ثقافتی حقوق، جسے زیادہ تر ممالک نے منظور کر رکھا ہے، کے تحت ہر فرد کو ’’ممکنہ حد تک اعلی ترین معیار کی جسمانی و ذہنی صحت کا حق حاصل ہے‘‘۔اس میثاق کی رو سے ’’حکومتیں وبائی اور متعدی اور دیگر بیماریوں کی روک تھام، علاج اور کنٹرول کے لیے مؤثر اقدامات کرنے کی پابند ہیں‘‘۔
میثاق کی پاسداری پر نظر رکھنے والی اقوام متحدہ کی کمیٹی برائے معاشی، معاشرتی و ثقافتی حقوق کے مطابق ’’صحت کے حق کا حقوق کی عالمی دستاویز میں درج دیگر حقوق ،جن میں خوراک، روزگار، تعلیم، انسانی وقار، زندگی، عدم امتیاز، برابری، ایذا رسانی کی ممانعت، خلوت، معلومات تک رسائی، اور انجمن سازی، اجتماع اور نقل و حرکت کی آزادی کے حصول کے ساتھ بہت قریبی تعلق ہے اور اس سبھی حقوق کا تحفظ ْاسی کے تحفظ پر منحصر ہے، یہ اور دیگر حقوق اور آزادیاں صحت کے حق کے لازمی اجزا کو پورا کرتے ہیں‘‘۔بالفاظ دیگر لوگوں کو صحت سہولیات فراہم کرنا حکومتوں کی ذمہ داریوں میں شامل ہے اور بہتر سے بہتر سہولیات عوام کا حق ہے۔یعنی دنیا بھر کی حکومتیں اس بات کیلئے جوابدہ ہیں کہ وہ اپنے شہریوں کو کس طرح کی صحت سہولیات فراہم کرتی ہیں۔
یہ حقائق اب کسی سے پوشیدہ نہیںکہ جنہوںنے کورونا ’وارئیرس‘ کا حوصلہ بڑھانے کیلئے ملکی سطح پر مہم چلائی ،اُنہی کو کئی مقامات پر محض اس لئے قانون کے شکنجے میں لایا گیا کہ اُنہوں نے حکومت کے کورونا مخالف اقدامات کی ماہرانہ نقطہ چینی کی جرأت رندانہ کی تھی۔اس طرح کی کئی مثالیں ملک کے مختلف علاقوں سے رپورٹ بھی ہوئی ہیں۔ شمال مشرقی حصے کے کئی علاقوں کے ساتھ ساتھ ملک کے وسطی ریاستوں میں تو لاک ڈائون کے دوران نفرت اور نسلی امتیاز کے دلخراش واقعات بھی رونما ہوئے اور مخصوص لوگوں کو دکانوں سے ضروری چیزیں تک فراہم کرنے سے انکار کیا گیا۔شمال مشرق میں مقیم چینی نژاد شہریوں کے ساتھ امتیازی سلوک کے واقعات تو امریکی، یورپی اور کچھ ایشیائی میڈیا اداروں کی طرف سے رپورٹ بھی ہوئے ۔اگرچہ ملک کا میڈیا ایک مخصوص فرقے کیساتھ نفرت آمیز واقعات پر خاموش ہی رہا لیکن سوشل میڈیا پر ایسے واقعات نے تو دنیا بھر کے انصاف پسند لوگوں کو ہلا کر رکھ دیا ۔
ہمارے یہاں کی صورتحال تو انتہائی مایوس کن ہے جہاں کورونا سے پیدا صورتحال سے نمٹنے کے زیادہ تراختیارات طبی ماہرین کے بجائے پولیس اورسیول انتظامیہ کے ہاتھوں میں ہیں۔ گذشتہ کم و بیش تین ماہ سے قانون نافذ کرنے والے اداروں پرحقوق کی پامالیوں کے کئی الزامات عاید ہوتے رہے ہیںجن میں بتایا گیا کہ وردی پوش اہلکاروں نے عام لوگوں پر ڈنڈے برسائے اور لاک ڈائون کے نفاذ کو یقینی بنانے کیلئے طبی و نیم طبی عملے کو مبینہ طور ہراساں کیا ۔ معاملے کا سنگین پہلو یہ ہے پولیس کی طرف سے ’پھول پیش کرنے‘ کے باوجود طبی و نیم طبی عملہ اس بات کو لیکر نالاں ہے کہ اُنہیں شناخت ظاہر کرنے کے بعد بھی سڑکوں پر بلاوجہ روکا جارہا ہے جس سے نہ صرف اُن کا کام متاثر ہورہا ہے بلکہ اُن کی عزت نفس کوبھی شدید ٹھیس پہنچ رہی ہے۔ عزت نفس تو ہر شہری کی یکساں طور پر اہم اور واجب الاحترام ہوتی ہے لیکن کورونا جیسے طبی بحران کے دوران طبی و نیم طبی عملہ مخصوص حالات کا سامنا کرتا ہے اس لئے اُن کا خاص خیال رکھنا حکومتی اداروں کی اولین ذمہ داریوں میں شامل ہونا چاہئے ۔
کورونا متاثرین یا مشتبہ متاثرین کے پاس بھی شکایات کے انبار ہیں۔ ان شکایات میں تنقید کا نشانہ محکمہ صحت کو ہی بننا پڑ رہا ہے ۔قرنطین میں لیجانے سے قبل مشتبہ متاثرین کی شکایت ہے کہ اُن کے ساتھ عزت و احترام سے پیش نہیں آیا جارہا ہے اور جب وہ مختلف قرنطین مراکز پہنچائے جاتے ہیں تو وہاں ابھی اُن کے ساتھ چھوت چھات والا معاملہ روا رکھا جاتا ہے۔اور تو اور اُنہیں مناسب اور بہتر سہولیات کی عدم دستیابی کی بھی شکایات رہی ہیں۔
یعنی بات پھر شہریوں کے صحت عامہ کے حقوق تک پہنچ جاتی ہے۔ اگر مذکورہ شکایات میں حقیقت ہے، جو فی الواقع ہے کیونکہ اس کا عتراف محکمہ صحت کے بعض افسران کو بھی ہے، تو یہ بات اظہر من الشمس ہوجاتی ہے کہ ہمارے یہاں کا صحت شعبہ بجائے خود بیماری کا شکار اور علاج کا محتاج ہے۔محکمہ صحت سے وابستہ کئی سینئر معالجین یہ بات تسلیم کرتے ہیں کہ محکمہ جدید خطوط پر استوار نہیں ہے اور اُنہیں امراض کی تشخیص اور بعد میں علاج کیلئے ضرورت کی سہولیات میسرنہیں ہیں۔وہ مناسب بنیادی ڈھانچہ کی کمی کا بھی رونا رورہے ہیں اور اُنہیں یہ بھی شکایت ہے کہ پیشہ ور معالجین کو محکمہ فیصلہ سازی کے عمل میں شامل نہیں کرتا ہے جس سے محکمہ اور معالجین و دیگر نیم طبی عملے کے درمیان ایک وسیع خلیج بن گئی ہے۔ انسانی حقوق سے متعلق چارٹر کے مندرجات کو ملحوظ رکھا جائے تو ہمارے یہاں کے طبی ، قرنطین مراکز یہاں تک کہ نامی گرامی اسپتالوں کی ابترصورتحال یہاں کے حکام کو کٹہرے میں کھڑا کرنے کیلئے کافی ہیں۔