سرینگر// پولیس نے گزشتہ روز لالچوک اور جہانگیر چوک میں صحافیوں او رعزاداروںکو زد وکوب کرنے کے واقعات کا نوٹس لیتے ہوئے3افسرن کو ضلع پولیس لائنز سرینگر کے ساتھ منسلک کیا جبکہ دیگر6کے تبادلے عمل میں لائے گئے۔ 8ویںمحرم کی مناسبت سے منگل کو عزاداروں کے جلوس کے دوران پولیس نے فوٹو جرنلسٹوں کوپیشہ وارانہ ذمہ داریاں انجام دینے سے روکا اور ان پر لاٹھی چارج کیا۔صحافیوں پر اندھا دھند طریقے سے لاٹھیاں برسانے اور عزاداروں کیخلاف لالچوک اور ڈل گیٹ میں طاقت کا استعمال کرنے کی ویڈیوز وائرل ہوئیں جن کی محبوبہ مفتی، عمر عبداللہ اور سجاد لون نے شدید مذمت کی۔پولیس سربراہ دلباغ سنگھ نے واقعہ کا نوٹس لیتے ہوئے ایس ایس پی سرینگر کو ہدایت دی کہ وہ اس معاملے کی نسبت ملوث اہلکاروں کے خلاف کارروائی عمل میں لائے۔ بدھ کو ہی ایس ایس پی سرینگر نے پولیس تھانہ شیر گڑھی اور پولیس تھانہ مائسمہ کے ایس ایچ ائوزکے علاوہ انچارج پولیس پوسٹ نہرو پارک غلام مصطفی کو ڈسٹرکٹ پولیس لائنز سرینگر سے منسلک کرنے کے احکامات صادر کئے۔ اسکے علاوہ ایس ایچ او تھانہ کوٹھی باغ اسحاق احمد کو تبدیل کر کے ایس ایچ او راجباغ تعینات کیا گیا جبکہ انسپکٹر مدثر نذیر کو ایس ایچ او کوٹھی باغ مقرر کیا گیا ہے۔ پولیس چوکی با غیاث کے انچارج انسپکٹر کو تبدیل کر کے انچارج پولیس چوکی نہرو پارک تعینات کیا گیا ہے ۔سب انسپکٹر شیخ عادل جو ایس پی آفس ساوتھ سرینگر سے منسلک تھے، کو انچارج پولیس چوکی باغیاث تعینات کرنے کے احکامات بھی صادر کئے گئے۔انچارج پولیس چوکی اردو بازار سب انسپکٹر شوکت علی درزی کا تبادلہ کر کے ایس ایچ او مائسمہ جبکہ سب انسپکٹر ظہیر نثار کو انچارج پولیس چوکی اردو بازار تعینات کیا گیا ہے۔