شہزادہ بسمل صاحب کے منتخب کالموں کے مجموعےــ’’چلتے چلتے‘‘کی تیسری جلد یا یوں کہیے کہ اُن کے منتخب کالموں کا تیسرا مجموعہ منظرعام پر آچکاہے۔اِس سےجموں و کشمیر کے اُردو دوست خطّے میں اُردو کالم نگاری کی ایک نئی تاریخ رقم ہورہی ہے۔نہ صرف اس لیے کہ ایک ہی مصنف کے قلم سے ایک ہی نام سےمسلسل تیسرا مجموعہ شائع کیا جارہا ہے،بلکہ اس اعتبار سے بھی کہ پہلی بار زندگی کے ہفت رنگی تجربات ، ژرف نگاہ محسوسات اور باریک بین مشاہدات کے نتیجے میں ایک نہایت ہی دلکش اسلوب اور حسین پیرایے میں حیات آموز اور حیات آمیز کالم پڑھنے کو مل رہے ہیں۔ میرے دعوے کی دلیل خود بخود سامنے آئے گی،جب آپ فہرست ِ عنوانات پر ایک نظر ڈال کرکتاب کے اگلے صفحات میں بسمل صاحب کے چنیدہ کالموں کا مطالعہ فرمائیں گے۔آپ ان کو پڑھ کرنہ صرف محظوظ ہوں گے،بلکہ مستفیض بھی۔
یادش بخیر…. آج سے بائیس تئیس سال قبل (اگست ۱۹۹۹ء میں)راقم الحروف کو اُن کی دو کتابوں’’آنحضرتؐ : (قدیم ہندو صحائف میں ذکرِ پیغمبرِآخرالزماںؐ)‘‘ اور’’مجھے بچائو‘‘(جھیل ڈل کی کہانی،خود اُسی کی زبانی)کی تقریظ لکھنے کی سعادت نصیب ہوئی تھی، تو راقم ناچیزنے اوّل الذکر کتاب کے آغاز میں ’’سخن ہائے گفتنی‘‘کے زیر عنوان دیگر باتوں کے ساتھ یہ الفاظ بھی تحریر کیے تھے :
’’ڈرامائی صورت میں دفتر شاہی کی موشگافیاں حل کرنے والی اِس پر اسرار شخصیت کا نام نامی غلام قادر خان ہے،جو ادبی دُنیا میں شہزادہ بسملؔ کے قلمی نام سے کئی مرحلہ ہائے شوق طے کرچکے ہیں۔بسمل صاحب قلم کے دھنی ہیں۔کثیر نویس ہیں اور زودنویس بھی۔وہ بیک وقت کئی اصنافِ ادب کی زلفوں کے اسیر ہیں۔فکاہیہ ادب میں ان کا اپنا ایک الگ انداز ہے۔ تحقیق میں وہ اس فن کے تمام مقتضیات سے واقف ہیں۔انشائیہ نگاری کو انہوں نے ایک نئی طرح دی ہے۔افسانہ نویسی (کشمیری،اُردو،ہندی) ان کا خاص میدان ہے…….دسیوں انشائیے،درجنوں افسانے،بیسیوں فکاہیے اور متعدد مقالے لکھنے کے بعد وہ اب میدانِ تحقیق میں اتر گئے ہیں اور چند نئے اور منفرد موضوعات پر اپنی خلاقانہ صلاحیتوں کا لوہا منوانے جارہے ہیں…….‘‘(آنحضرتؐ[سخن ہائے گفتنی]،ص ۱۱)
ظاہر ہے کہ بائیس سال کی طویل مدت میںبسمل صاحب نے قرطاس و قلم کے دشت کی سیاحی میں بہت کچھ حاصل کیا ہے اور اس سے بھی زیادہ contributeکیا ہے۔اس دوران اُن کے تخلیقی جوہر نکھرتے رہے اوردیگر اصناف کے ہمراہ کالم نویسی کے میدان میں بھی انہوں نے کارہائے نمایاں انجام دئیے۔چنانچہ اُن کی تحریروں کا مطالعہ کرکے پتہ چلتا ہے کہ زبان و بیان پر قدرت،موضوعات کے انتخاب کی ندرت،عنوانات کی جدت، اسلوبِ نگارش کی انفرادیت، پیش کش کا بانکپن اور نایاب اشعار کا جابجابرمحل استعمال– بسمل صاحب کی کالم نگاری کی چند نمایاں خصوصیات میں شامل ہے۔
کئی دہائیوں میں لکھے گئےاُن کے منتخب کالموں کا پہلا مجموعہ’’چلتے چلتے‘‘ سال 2019ء کے اواخر میں منظرعام پر آگیا،جس کو ادبی حلقوں میں خاصی پذیرائی حاصل ہوئی۔اس سے قبل 2018ء کے وسط میں اُن کے دو افسانوی مجموعے:’’رقصِ بِسمل‘‘ اور ’’خوشبو کی موت ‘‘ منظر عام پر آچکے تھے۔ 288صفحات پر مشتمل ’’چلتے چلتے‘‘ کی دوسری جلد2021ء کے اوائل میں شائع ہوئی ۔اور اب اسی سلسلے کی تیسری کڑی کے طور پر زیر نظر مجموعہ’’چلتے چلتے3__ ‘‘ منظر عام پر آگیا ہے،جو280صفحات پر مشتمل ہے اور اپنی متنوّع خصوصیات اور بسمل صاحب کے منفرد اسلوب ِ بیان کی بناء پریقیناً باذوق قارئین اور دقیقہ رس ناقدین کی نگاہِ التفات حاصل کرنے میں کامیاب ہو گا،اِن شاء اللہ۔
اُردو کالم نویسی یا کالم نگاری وہ صنف ہے،جس نے بیسویں صدی میں کافی عروج حاصل کیا۔چنانچہ فی الوقت کالم نگاری کا دائرہ کار اور دائرہ عمل اس قدر پھیلا ہوا ہے کہ اس کی سماجی و سیاسی،تہذیبی و تمدنی،اخلاقی اور ہمہ گیر وسعت اور معنویت سے کوئی انکار نہیں کر سکتا ہے ۔بقول شخصے:کالم نگاری نہ ادب و شاعری ہے،نہ تقریر و خطابت کا نام ہے، اور نہ سیاست کا،بلکہ یہ حکایت و داستاں سرائی ہے ۔یہ بیک وقت صحافت و ادب بھی ہے اور شاعری بھی،کالم نگاری داستاں گوئی بھی ۔ یہاں تک کہ وہ تقریر و خطابت کی شعلہ سامانی کو اپنے دامن وسیع میں سمیٹے ہوئے ہے ۔کالم نگار کا قلم کبھی شعلے برساتا ہے اور کبھی شبنم ،تو کبھی معاشرے کے ناسور پر نشتر لگاتا ہے اور کبھی دلوں پر مرہم رکھتا ہے۔پاکستان کی اُردو صحافت میں اس صنف کواتنی پذیرائی حاصل ہوئی کہ وہاں روزانہ جو بیسیوں اخبارات شائع ہوتے ہیں ،اُن میں ہر اخبار میں اوسطاً دس بارہ تازہ تازہ کالم قارئین کی نذرکیے جاتے ہیں۔
جہاں تک کشمیر کی اُردو صحافت کا تعلق ہے،یہاں کے بیشتراخبارات نے ایک منظم انداز میں کالم نگاری کو فروغ دینے کی کوئی سنجیدہ کوشش نہیں کی۔ گزشتہ دو عشروں میںلے دے کےروزنامہ’’کشمیر عظمیٰ‘‘ ہی وہ پہلا اخبار نظر آتا ہے،جس نے کسی قدر اہتمام کے ساتھ کالم نگاری کی اشاعت وترویج کے لیےادارتی سطح پر کوششیں کیں۔ چنانچہ بسمل صاحب کے بیشتر کالم ،جو زیر نظر مجمو عے (اور اُن کے ماقبل دو مجموعوں)میں شامل ہیں،اسی اخبار کے صفحات میں اشاعت پذیر ہوچکے ہیں۔شاید اسی اخبار کی دیکھا دیکھی چند دیگر مقامی اُردو اخبارات نے بھی اس جانب توجہ دی اور اپنے صفحات کالم نگاروں کے لیے وقف کردیے۔جموں کےاُردو روزناموں نے،البتہ، کالم نگاری کو بہت فروغ دیا۔ اُمید کی جانی چاہیے کہ بسمل صاحب کا رشتہ آئندہ بھی قرطاس و قلم کے ساتھ پائیدارواستواررہے گااور اُن کے فکروفن کے شاہکار قارئین کی راہیں روشن کرتے رہیں گے۔جہاں تک میری معلومات کا تعلق ہے،بسمل صاحب کی جھولی بھری پڑی ہے، اُن کے کالموں،انشائیوں، افسانوں اور فکاہیات کے کئی مجموعوں کے مسودوں سے،جو ہنوز منتظرِ اشاعت اور تشنۂ طباعت ہیں۔اُن کایہ ادبی سرمایہ دبستانِ کشمیر کے اُردو ادب کے لیے گنج ہائے گراں مایہ اور قابل قدراثاثے کی حیثیت رکھتا ہے۔اللہ کرے کہ ان نایاب موتیوںکی اشاعت و طباعت کا انتظام جلد از جلدہوجائے۔
2021ء کے آخری مہینوں میں بسمل صاحب کو ایک عارضے کے سبب مشکل حالات سے گزرنا پڑا۔افاقہ ہوتے ہی ضعفِ جسمانی کے باوجودانہوں نے پھر سے قرطاس و قلم کو گلے لگایا اور زیر نظر مجموعہ اور اس کے ساتھ ہی فکشن کا ایک اور مجموعہ ’’سوزِ بسمل‘‘ طباعت کے لیے تیار کرلیے،جو اَدب کے تئیں اُن کی والہانہ وابستگی کا غمّازہے۔اللہ تبارک و تعالیٰ سے دُعا ہے کہ اُن کو شفائے عاجلہ و کاملہ عطا فرمائے اور صحت ِ کامل کے ساتھ اُن کو زبان و ادب کی بیش از بیش خدمت کرنے کے مواقع عطا فرما ئے ، آمین ثم آمین،یا رب العالمین۔قارئین سے بھی دُعا کی درخواست ہے۔
میں ذاتی طور پر اِس پیرانہ سالی میںبسمل صاحب کی مثبت سوچ، جذبِ دروں ، جوشِ جنوں اور عالی ہمتی کو سلامِ عقیدت پیش کرتا ہوں۔اللہ اُن کو سلامت رکھے۔
(رابطہ۔9906662404 )