ترہگام میں مرد وزن کا احتجاج ، مزگام بونیار میں آبادی پریشان
اشرف چراغ +فیاض بخاری
کپوارہ/بارہمولہ/ شمالی ضلع کپوارہ کے ڈولی پورہ ترہگام سے تعلق رکھنے والے مرد وزن منگل کے روز 3کلو میٹر کی مسافت پیدل طے کر کے ترہگام پہنچ گئے جہا ں انہو ںنے کرالہ پورہ کپوارہ شاہراہ پر مین چوک ترہگام کے نزدیک پینے کے پانی کی عدم دستیابی کے خلاف زور دار احتجاج کیا ۔احتجاج میں شامل لوگو ں کا کہنا ہے کہ انتظامیہ نے ڈولی پورہ علاقہ کو یکسر نظر انداز کیا جس کا خمیازہ انہیں بھگتنا پڑتا ہے ۔ڈولی پورہ ترہگام سے 2کلو میٹر کی دوری پر ہے اور آج تک پینے کے پانی کے حوالے سے لوگ سفر کر رہے ہیں ۔6سال قبل بلاک ڈیولپمنٹ کونسل نے ڈولی پورہ میں 2بڑے بور ویل تعمیر کئے تاکہ لوگو ں کو پینے کا صاف پانی فراہم کیا جائے گا لیکن 1سال کے بعد ہی بوریل خشک ہوگئے اور لوگ پھر پینے کے پانی سے محروم ہوگئے ۔2020میں مرکزی سرکار نے جل جیون مشن کے تحت ترہگام ڈولی پورہ واٹر سپلائی سکیم کو منظوری دی اور اس کے لئے 14کرو ڑ 23لاکھ روپے مختص کئے تاکہ ترہگام کے ایک بڑے علاقہ جس میں ڈولی پورہ ،منزر ،چک ہائن ،ہائن ،کباب مرگ اور ترہگام قصبہ شامل ہیں کو پینے کا صاف پانی فراہم کیا جائے گا ۔
محکمہ جل شکتی نے اگرچہ پنزگام سے ڈولی پورہ منزر تک پائپ لائن کو مکمل کیا اور اس کے لئے مختلف مقامات پر 4پانی کی ٹینکیا ں بھی تعمیر کی لیکن ابھی تک ان علاقوں کو پانی کی تقسیم کاری پائپ لائن کو نہیں بچھایا گیا جس کی وجہ سے 10ہزار نفوس پر مشتمل آبادی پینے کے پانی سے محروم ہے ۔منگل کے روز مقامی مرد و زن ترہگام پہنچ گئے جہا ں انہو ں نے اس سکیم کو مکمل نہ کرنے کے خلاف دھرنا دیا اور احتجاج کیا ۔احتجاج کے دوران کرالہ پورہ کپوارہ شاہراہ پر گا ڑیو ں کی نقل و حمل بھی کئی گھنٹوں تک مسدود ہو کر رہ گئی اور کارو باری سر گرمیا ں بھی متا ثر ہوئی ۔ ایکز کیٹو انجینئر محکمہ جل شکتی کپوارہ دویژن محمد رفیق کا کہنا ہے کہ ترہگام ڈولی ورہ سکیم 70فی صدی مکمل ہو چکی ہے اور اندورنی بستی کو پانی کی تقسیم کاری کے لئے پائپ لائن نہیں ہے کیونکہ رقومات کا معاملہ ہے اور یہ مسئلہ پہلے ہی حکام کی نو ٹس میں لایا گیا ۔انہو ں نے کہا کہ جو ں رقومات واگزار ہو گئی ترہگام ڈولی پورہ واٹر سپلائی سکیم کو مکمل کیا جائے گا۔انہو ں نے کہا کہ محکمہ کے فلیڈ عملے کو ہدایت دی گئی کہ ڈولی پورہ کو واٹر ٹینکر کے ذریعے پینے کا پانی فراہم کرے ۔ادھرضلع بارہمولہ کے مزگام بونیار علاقے میں شدید گرمی کے دوران پینے کے پانی کا سنگین بحران پیدا ہوگیا ہے، جس کے باعث مقامی آبادی کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ مقامی باشندوں کے مطابق کئی محلوں میں پانی کی سپلائی یا تو مکمل طور پر بند ہے یا انتہائی کم مقدار میں فراہم کی جا رہی ہے، جس کے باعث خواتین، بچے اور بزرگ دور دراز علاقوں سے پانی لانے پر مجبور ہیں۔ لوگوں کا کہنا ہے کہ گرمی کی شدت میں پانی کی عدم دستیابی نہ صرف گھریلو امور کو متاثر کر رہی ہے بلکہ صحت عامہ کے حوالے سے بھی تشویش کا باعث بن رہی ہے۔عوام نے ضلع انتظامیہ اور محکمہ جل شکتی کے اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ مزگام میں پانی کی بلا تعطل فراہمی کو یقینی بنایا جائے، مستقل عملہ تعینات کیا جائے، خراب پائپ لائنوں اور دیگر تکنیکی خرابیوں کو فوری طور پر دور کیا جائے اور علاقے کے پانی کے نظام کو مضبوط بنانے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کیے جائیں۔