نئی دہلی// نیشنل کانفرنس رُکن پارلیمان جسٹس(ر) حسنین مسعودی نے سنیچر کو پارلیمنٹ میں 5اگست2019کے فیصلوں کی منسوخی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ قانون واپس لیا جائے اور سپریم کورٹ کے احترام میں جموں و کشمیر میں نئے اور مشتبہ قوانین کے اطلاق سے اجتناب کیا جائے ۔ انہوں نے کہا کہ آپ ایک دیش اور ایک قانون کی بات کرتے ہیں لیکن بوڈو لینڈ اور دیگر ریاستوں میں سمجھوتہ کرتے ہیں۔ ہندوستان کا وزیر اعظم تک بوڈو لینڈ، منی پور اور دیگر 7ریاستوں میں زمین نہیں خرید سکتالیکن جب جموں و کشمیر کی بات آتی ہے تو ایسی خصوصیات سے آپ کو پریشانی ہوتی ہے۔انہوں نے کہا’’شمال مشرقی ریاستوں کو جو خودمختاری حاصل ہے جموں وکشمیر کی اٹانومی تو اتنی تھی ہی نہیں‘‘۔ انکا کہنا تھا کہ شمال مشرقی ریاستوں میں آپ آئی ایل پی( انر لینڈ پرمٹ) دے رہیں ، جب کوئی شخص وہاں جائے گا تو اُسے پرمٹ لینا لازمی ہے اور وہ وہاں اُتنی ہی دیر قیام کرسکتا ہے جب تک پرمٹ ہوگا لیکن جب جموں وکشمیر کی خصوصی پوزیشن کی بات آتی ہے تو آپ اسے دوسری نظر سے کیوں دیکھتے ہیں؟جموں وکشمیر کیساتھ ایسا امتیازی سلوک کیوں؟جموںوکشمیر کے عوام نے آپ کا کیا چھینا ہے؟ ہمارے عوام نے تو ملک بنانے میں تعاون دیا ہے۔ گذشتہ دنوں ہی ہمارا ایک سینئر انجینئر اترا کھنڈ میں پاور پروجیکٹ میں جان کھو بیٹھا ۔جس کی میت ابھی بھی دلی میں ہے اور اُس کو گھر لے جانے کی سہولیات نہیں ہے۔حسنین مسعودی نے کہا ’’دوریاں مت بڑھائے، جموں وکشمیر کے لوگو ں کیساتھ انصاف کیجئے،کشمیریوں کے جذبات ،احساسات اور سیاسی اُمنگوں کا احترام کیجئے،جموں وکشمیر کے عوام کو گلے لگانے کی ضرورت ہے،جموں و کشمیر ملک کیساتھ کھڑا ہے لیکن آپ ہی اسے پیچھے دھکیل رہے ہیں‘‘۔ انہوں نے حکومت سے اپیل کی کہ 5اگست2019کو لئے گئے فیصلوں کو واپس لیا جائے ۔