ایکسائز محکمے نے فائنانس ڈیپارٹمنٹ کو ایک دفتری خط بتاریخ ۱۶ ؍جون لکھا ہے، جس میں جموں خطے کے ساتھ ساتھ وادی کشمیر میں ۱۸۳؍ شراب کی دکانیں کھولنے کی باضابطہ اجازت مانگی گئی ہے۔ اس خط کے ساتھ جو کہ سوشل میڈیا پر بہت ہی وائرل ہوا ہے۔ ۱۳؍ صفحات پر مشتمل اُن جگہوں کی فہرست بھی دی گئی ہے ، جہاں پر محکمے کو شراب کی دکانیں کھولنے کا منصوبہ ہے ۔
حالاںکہ اس حوالے سے ابھی تک کوئی زمینی پیش رفت نہیں ہوئی ہے اور نہ ہی باقی محکمہ جات نے کوئی اجازت دی ہے اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس حوالے سے سبھی سٹیک ہولڈرس کو اعتماد میں لیاجائے گا لیکن عوامی حلقوں میں اس منصوبے کو لے کر سخت ناراضگی پائی جا رہی ہے اور حساس حلقوں کی طرف سے اس پر پُر زور الفاظ میں مذمت کی جارہی ہے۔ عوامی حلقے مانگ کر رہے ہیں کہ ایسے کسی بھی منصوبے کو عملانے سے متعلقہ محکمے کو باز رہنا چاہیے۔
سماج میں شراب کی حرمت کو لے کر کئی سارے زاویے ہیں۔ اس میں سب سے پہلے مذہبی زاویہ کار فرما ہے۔ دنیا کے تمام مذاہب میں شراب کے استعمال پر سخت وعیدیں آئی ہیں۔ اس کو انسان کی روحانی صحت کے خلاف قرار دیا گیا ہے۔ ساتھ ساتھ یہ بھی کہا گیا ہے کہ اسے سماج میں نفرتوں، عداوتوں اور تذبذبوں کا بازار گرم ہوتا ہے۔ دوسرا زویہ اس میں صحت کے حوالے سے ہے۔ اس بات سے کسی کو مفر نہیں کہ شراب انسانی صحت کے لیے سخت مضر ہے۔ جسمانی صحت کے ساتھ ساتھ یہ انسان کی نفسیاتی صحت پر بھی اثر انداز ہوتا ہے۔ شراب کی انسانی صحت پر اثر پزیری کا یہ حال ہے کہ اسے انسان اپنی زندگی سے ہاتھ بھی دھو سکتا ہے۔ ماہریں کہتے ہیں کہ ایک صحت مند انسان کو نہ صرف شراب ، بلکہ کسی بھی نشہ آور چیز سے دور رہنا چاہیے۔ کشمیر میں اس حوالے سے ایک اور زاویہ بھی دیکھا جا سکتا ہے اوور وہ ’’سیاسی کارفرمائی‘‘ کا زاویہ ہے۔ لوگ سمجھتے ہیں کہ جموں و کشمیر کے عوام کو مدہوش کرنے اور بہکانے کی خاطر ایسا منصوبہ اختیار کیا جارہا ہے۔
یہ کچھ ایسے زاویے ہیں جو کہ اس وقت کشمیر کے ہر کسی باسی کے وردِ زبان ہیں۔ لیکن ہم اس مجوزہ منصوبے کو لے کر انتظامی نقطہ نظر سے کچھ اصولی باتیں اختصار کے ساتھ قارئیں تک پہنچاناچاہتے ہیں، اور پتہ لگانے کی کوشش کریں گے کہ آیا انتظا می نقطہ نظر سے ایسے منصوبے کو صحیح قرار دیا جا سکتا ہے یا نہیں؟
کسی بھی سماجی منصوبے کا پہلا قدم ’’ضرورت‘‘ (Need) کو سمجھا جاتا ہے۔ سب سے پہلے پالیسی سازوں کو یہ دیکھنا چاہیے کہ آیا سماج میں کسی خاص منصوبے کی ضرورت ہے یا نہیں۔ اس کے بعد دیکھا جاتا ہے کہ اُس ضرورت کو لے کر سماج میں عوامی رد عمل (Public Opinion) کیا ہے۔ عوامی رد عمل منصوبے کو ایک نہج دیتا ہے۔ بلکہ عوامی رد عمل کو ہی صحیح اور غلط کو پرکھنے کا میزان قرار دیا جاسکتا ہے ۔ اس ضمن میں ایک لطیف نقطے کی طرف اشار ہ کرنا بھی مناسب معلوم ہوتا ہے کہ اگر منصوبہ ساز حقیقتاً عوام کی بھلائی اور ترقی کے لیے اقدامات کر رہے ہوں ، لیکن عوامی رد عمل اس کی طرف سرد مہری دکھا رہا ہو، تو منصوبے کو بدلنے کی ضرورت ہے۔ کیوں کہ جب عوام اچھے کی اچھائی کا ادراک ہی نہ سمجھتی ہو توبھلا ایسی اچھائی کا کرنا کیا معنی رکھتا ہے۔عوامی رد عمل کے بعد جو چیز کسی منصوبے کو حتمی شکل دیتی ہے وہ ماہرین کی ماہرانہ صلاحتیں ہوتی ہیں۔ ماہرین حکومت وقت کو باضابطہ طور مسودے کی صورت میں کوئی پروگرام عملانے کی صلاح دیتے ہیں ۔
کسی سماجی منصوبے میں اگر یہ تین چیزیں نہ ہوں تو اُسے کسی بھی طور پر فائدہ مند منصوبہ قرار نہیں دیا جا سکتا ۔ بلکہ قرین قیاس ہے کہ اسے کوئی منصوبہ بند سازش کے طور پر ہی دیکھنا مناسب رہے گا ۔
جموں کشمیر میں شراب کی دکانیں کھولنے کی مجوزہ تجویز کو لے کر اگر مندرجہ بالا تین اصولی نقطوں کی نظر سے دیکھا جائے تو یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ یہ سراسر ایک عوام کش منصوبہ ہے، جس کی نہ کوئی ضرورت ہے، نہ ہی رائے عامہ کی طرف سے اس پر کوئی واہ واہ ہورہی ہے اور نہ ہی اس میں ماہرین کوئی اجازت دے رہے ہیں ۔ بلکہ الٹا، اس منصوبے کے بارے میں ضرورت نہ ہونے کی تو دور کی بات ہے، یہاں پر جتنی بھی شراب کی دکانیں چل رہی ہیں انہیں بند کرنے کی پر زور مانگ عرصہ دراز سے کی جار ہی ہے۔ اس کے بعد عوامی رد عمل کی بات اگر کی جائے تو وہ انتہا ئی بیزار و بے قرار ہے۔ رہی ماہرین کی بات تو وہ اسے انتظامی نا اہلی و ناکارہ کارکردگی سے تعبیر کر تے ہوئے خوامخواہ کی بے چینی کو جنم دینے کے مترادف سمجھتے ہیں۔
(مضمون نگارجامعہ کشمیر کے شعبہ سماجی ورک کے محقق ہیں)