راجوری//شام میں بمباری کے خلاف راجوری کی سیاسی ،سماجی اور مذہبی تنظیموں نے علماء کی قیادت میں احتجاجی ریلی نکالی ۔یہ ریلی تالاب والی مسجد راجوری سے شروع ہوکر گوجر منڈی پہنچی جہاں بڑی تعداد میں لوگ اس میں شامل ہوئے۔اس موقعہ پر علماء کرام نے تمام انسانی حقوق کی تنظیموں کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ شام کے اندر جو عام شہری بچے اور خواتین کا قتل کیا جارہا ہے جس پر جلد روک لگنی چاہئے ۔علماء کرام نے کہا کہ شام میںامریکہ اور روس عام شہریوں کو نشانہ بنارہے ہیںجو نہایت ہی شرمناک بات ہے ۔اپنے خطاب میں مولانا فاروق نعیمی اور غلام رسول ودیگران نے شام میں کی جارہی بمباری پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے تمام مسلم ممالک سے متحد ہوکر باطل کے خلاف اقدامات اٹھانے کی مانگ کی ۔ انہوں نے کہا کہ معصوم بچے اور عام شہری مارے جارہے ہیںاوراس پر اقوام متحدہ نے مجرمانہ خاموشی اختیار کررکھی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ انسانی حقوق کی تنظیمیں آج کہاں ہیں جو نہتے عام شہریوں کے قتل عام پر اپنے لب سے کوئی لفظ تک نہیں کہتی ۔ان کاکہناتھاکہ کیا یہ بچے دہشت گر دہیں اور ان پر بمباری کرکے انہیں قتل کیاجارہاہے ۔علماء کرام نے کٹھوعہ میں آصفہ کے قتل پر بھی برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ریاستی سرکار کو آصفہ کے قاتلوں کو سزائے موت دلانے کے لئے اہم کردار نبھانا ہوگا ۔ انہوں نے بھاجپا لیڈران کے بیانات کو شرمناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ انسانیت کے نام پر ایسے لوگ جو اپنے آپ کو لیڈرکہتے ہیں ،دھبہ ہیں جو عصمت دری اور قتل کے مجرموں کی رہائی میں ریلی نکال رہے ہیں ۔ان کاکہناتھاکہ ریاستی سرکار کو ایسے لوگوں کے خلاف کیس درج کرکے کاروائی عمل میں لائی جائے ۔