واشنگٹن// امریکی سینیٹرز نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے فیصلے کو مسترد کرتے ہوئے شام و افغانستان سے فوجی دستے واپس بلانے کے اعلان کے خلاف ترمیم منظور کر لی۔ مذکورہ قرار داد کے حق میں 70 جبکہ مخالفت میں 26 ووٹ پڑے، جس میں اس بات پر زور دیا گیا کہ ’امریکا کو شام و افغانستان میں سرگرم دہشت گرد گروہوں سے مسلسل خطرہ ہے جس کے باعث کسی بھی ملک سے امریکی فوج کے اچانک انخلا کی صورت میں امریکا کے انتہائی مشکل سے حاصل کیے گئے فوائد اور امریکی قومی سلامتی کو خطرہ ہوسکتا ہے‘۔ واضح رہے کہ امریکی سینیٹ میں حکمراں جماعت ریپبلکن سے تعلق رکھنے والے سینیٹرز کی تعداد 53 ہے اس کے باوجود یہ قرارداد باآسانی منظور کرلی گئی کیونکہ ان میں سے 46 اراکین نے اس ترمیم کے حق میں ووٹ دیے۔ اس سے یہ پیغام بھی واضح ہوا کہ امریکی سینیٹرز اگر کسی معاملے پر صدر سے اتفاق نہیں رکھتے تو وہ اپنی ہی جماعت کے صدر کے خلاف بھی ووٹ دے سکتے ہیں۔ اس کے ساتھ 23 ڈیموکریٹ اراکین نے بھی قرارداد کے حق میں ووٹ دیے جبکہ امریکی سینیٹ میں ریپبلکن اراکین کی کل تعداد 53 میں سے محض 3 نے اس کی مخالفت کی جبکہ اب اسے مشرقِ وسطیٰ پر وسیع تر سیکیورٹی بل میں شامل کرلیا جائے گا۔ دوسری جانب ایک امریکی نشریاتی ادارے سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی صدر کا کہنا تھا کہ اس طرح کا اختلاف انہیں اپنا ارادہ تبدیل کرنے پر مجبور نہیں کرسکتا۔ انخلا کے اعلان کے خلاف ریپبلکن سینیٹرز کی بڑی تعداد کے ووٹ کے تناظر میں ان کا کہنا تھا کہ 2016 کے انتخابات میں انہوں نے 14 ریپبلکن امیدواروں کے خلاف بڑی آسانی سے کامیابی حاصل کرلی تھی۔ اس حوالے سے سینیٹ میں گفتگو کرتے ہوئے سینیٹر میک کونیل نے اس بات پر زور دیا کہ امریکی قومی مفادات کے فروغ کے لیے سفارتی اور فوجی آپشنز، دونوں کے استعمال کی ضرورت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جب امریکا کی قومی سلامتی اور وسیع تر مفادات پر زد پہ ہوں، تو کچھ حالات میں نہ صرف اہم سفارتی تعلقات کے استعمال کے ساتھ امریکا کی براہِ راست مداخلت کی ضرورت ہوتی ہے۔