گاندربل//پروفیسر فاروق احمد شاہ شعبہ سکول آف مینجمنٹ اسٹڈیز اور ڈائریکٹر ریسرچ اینڈ ڈیولپمنٹ کے سربراہ نے پیر کو وائس چانسلر سنٹرل یونیورسٹی کشمیر کا عہدہ سنبھالا۔ پروفیسر فاروق احمد شاہ نے سابق وائس چانسلر پروفیسر معراج الدین میر کے عہدے سے سبکدوش ہونے کے بعد اپنا عہدہ سنبھالا۔اس سے قبل پروفیسر فاروق شاہ متعدد تعلیمی اور انتظامی عہدوں پر فائز رہے ہیں جن میں سربراہ اسٹوڈنٹس ویلفیئر ، ڈائریکٹر DIQA ، چیف پراکٹر اور سینٹرل یونیورسٹی کشمیر میں چیف وارڈن شامل ہیں۔ان کے پاس تین دہائیوں سے زائد عرصے سے تدریس اور تحقیق کا تجربہ ہے۔ پروفیسر شاہ کے اکائونٹنگ ، فائنانس اور تنظیمی امور پر تحقیقی مقالے قومی اور بین الاقوامی شہرت کے جریدوں میں شائع ہوئے ہیں۔انہوں نے آٹھ کتابیں اور 50 کے قریب تحقیقی مقالے بھی تصنیف کئے ہیں۔ پروفیسر شاہ نے ہندوستان اور بیرون ملک متعدد بین الاقوامی کانفرنسوں میں حصہ لیا ہیں۔ وائس چانسلر کا عہدہ سنبھالنے کے فورا بعد فاروق احمد شاہ نے رجسٹرارپروفیسر ایم افضل زرگر کے ہمراہ یونیورسٹی کے انتظامی عملے کے ساتھ تبادلہ خیال کیا۔اس موقع پر فاروق احمد شاہ نے کہا کہ یونیورسٹی نے تعلیمی ماہرین اور امتحانات کے لیے اپنا ایک مقام بنایا ہے اور کئی چیلنجوں اور رکاوٹوں کا سامنا کرنے کے باوجود مقررہ وقت میں طلبا کی ڈگریاں مکمل کرنے میں کامیاب رہی ہے۔ پروفیسر شاہ نے کہا کہ سنٹرل یونیورسٹی کشمیر طلبا کے لیے اعلی تعلیم کے حصول کی ترجیحی منزل بن چکی ہے ، اس کے علاوہ ریسرچ اسکالرز کی تعداد بھی کئی برسوں میں کئی گنا بڑھ گئی ہے۔ انہوں نے انتظامی عملے سے کہا کہ وہ ادارے کی مجموعی ترقی کاکام جوش اور ولولے کے ساتھ جاری رکھیں۔ پروفیسر شاہ نے سابق وائس چانسلر پروفیسر معراج الدین میر کی سنٹرل یونیورسٹی کشمیر کی ترقی میں تمام محاذوں پر شراکت کو بھی اجاگر کیا۔اس موقع پر رجسٹرار پروفیسر ایم افضل زرگر نے کہا کہ یونیورسٹی کا انتظامی عملہ اس بات کو یقینی بنائے گا کہ سابق وائس چانسلر پروفیسر معراج الدین میر کی قیادت میں حاصل ہونے والی رفتار کو آگے بڑھایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ فیکلٹی اور انتظامی عملہ دونوں مل کر کام کرتے رہیں گے اور بانی وائس چانسلر پروفیسر عبدالواحد اور پروفیسر معراج الدین میر کے مشن کو پورا کریں گے۔پروفیسر فاروق شاہ کو وائس چانسلر کا چارج سنبھالنے پر مبارکباد دیتے ہوئے انتظامی عملے نے ان کی کوششوں میں مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی۔