سرینگر// سیلف ہیلپ گروپ انجینئرئوں نے حکومت کی جانب سے اس اسکیم کو ختم کرنے کے فیصلے کو تعلیم یافتہ و پیشہ ور انجینئرئوں کو بے روزگار کرنے سے تعبیر کرتے ہوئے سرکار سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنے فیصلے کو واپس لے۔ سرینگر کے ایوان صحافت کشمیر میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سیلف ہیلپ گروپ انجینئرئوں کی ایسو سی ایشن نے کہا کہ سرکار نے اس اسکیم کو سال2003میں بے روزگار انجینئرئوں کو روزگار فراہم کرنے کیلئے متعارف کیا تھا،جبکہ2017میں باضابطہ طور پر اسکیم کیلئے رہنما خطوط جاری کئے گئے۔سید پرویز حسین نامی ایسو سی ایشن کے صدر نے بتایا کہ گزشتہ سال10 اگست کو ایک جنبش قلم سے سرکار نے اس اسکیم کو ختم کرنے کا فیصلہ لیا،جو بے روزگار انجینئروں کے ساتھ سرا سر نا انصافی ہے۔ انہوں نے کہا’’ ہم بے روزگار انجینئر ہیں جو اس اسکیم کے تحت اپنا روزگار کماتے ہیں،تاہم نامعلوم وجوہات کی بنیاد پر اس اسکیم کو ختم کرنے کا اعلان کیا گیا۔ سید پرویز نے کہا’’ سرکار ان انجینئروں کے کنبوں کے بارے میں سوچیں جو اس اسکیم سے اپنا روزگار حاصل کرتے تھے‘‘۔انہوں نے کہا کہ اس سلسلے میں انہوں نے انتظامی افسراں اور گورنر کے مشیر سے بھی بات کی،جبکہ سرکار کی جانب سے معاملے پر تشکیل دی گئی کمیٹی کے سربراہ سے بھی ملاقی ہوئے اور انہیں بھی اپنی روداد سنائی،تاہم7ماہ گزرنے کے باوجود بھی ابھی تک اس اسکیم کو بحال نہیں کیا گیا۔ پرویز نے کہا کہ اگر سرکار نے ان کے روزگار کی سبیل کیلئے کوئی خاطر خواہ انتظام نہیں کیا اور اس اسکیم کو بحال نہیں کیا تو وہ سڑکوں پر احتجاج کرنے کیلئے مجبور ہونگے۔