راجوری//سرکاری حکام کمیونٹی ہیلتھ سنٹر (سی ایچ سی )تریاٹھ میں ایک بھی ڈاکٹرتعینات کرنے میں ناکام ثابت ہواہے جس کی وجہ سے ضلع راجوری کی تحصیل تریاٹھ کی 30ہزارآبادی کومشکلات کاسامناکرنا پڑرہاہے۔مقامی لوگوں نے الزام عائدکیاہے کہ حکومت ان کے ساتھ جانوروں جیساسلوک کررہی ہے۔کشمیرعظمیٰ نے حقائق جاننے کی کوشش کی اورپایاکہ سی ایچ سی تریاٹھ اورہسپتال میں ایک بھی ڈاکٹرعرصہ درازسے تعینات نہیں کیاگیاہے۔محکمہ صحت کے ایک سینئرعہدیداران نے تصدیق کی کہ سی ایچ سی ہذامیں میڈیکل افسران (ڈاکٹروں ) کی دواسامیاں جبکہ ایک ڈینٹل سرجن کی اسامی خالی پڑی ہوئی ہے۔اس کے علاوہ عہدیدارنے بتایاکہ تریاٹھ ہسپتال کے معاملات کوایک ہیڈفارمیسسٹ چلارہاہے اورہسپتال میں دیگرعملہ جن میںایک جونیئرفارمیسسٹ ،ایک سینئراسسٹنٹ ،ایک جونیئراسسٹنٹ ،دوایف ایم پی ایچ ڈیلیوز، ایک جونیئر لیب ٹیکنیشن ،ایک ہیلتھ ایجوکیٹراوردونرسنگ آرڈرلیز بھی تعینات ہیں۔ذرائع سے موصولہ اطلاعات کے مطابق صفائی کرمچاریوں کی تین اسامیوں میں سے دو، نرسنگ آرڈرلیزکی پانچ میں سے تین اسامیاں، سی ایچ اوایک ، ایک آیاکی اسامی ،وارڈبوائزکی دواسامیاں، جونیئرسٹاف نرسوں کی تمام سات اسامیاں،ایک الیکٹریشن اورایک سوپروائزری فارمیسسٹ کی اسامیاں خالی پڑی ہوئی ہیں۔علاقہ کے لوگوں نے سرکاری حکام پرہزاروں لوگوں کی زندگیوں کے ساتھ کھلواڑکرنے کاالزام عائد کیاہے۔انہوں نے کہاکہ سی ایچ سی اوراسپتال کو خداکے بھروسے چھوڑدیاگیاہے اورغریب عوام کوصحت سہولیات سے محروم رکھاجارہاہے۔لوگوں نے کہاکہ تریاٹھ کے مختلف علاقے بشمول متھیانی ،ہری چما،دروٹھی، رونٹھل، سروٹھی، خابر، برموری گالا، رانسو، چک ،میاں چک، پاتی ، تریرو، گلہان،منگال ،نراماجرا کی عوام کی طبی سہولیا ت کادارومداراسی ہسپتال ہے جوکاغذوں میں ہی چل رہاہے۔انہوں نے کہاکہ ہمارے ساتھ حکومت جانوروں جیساسلوک کررہی ہے۔ہسپتال سے متعلق ایک ویڈیوبھی سوشل میڈیاپروائرل ہوئی ہے جس میں دیکھاجاسکتاہے کہ ہسپتال میں صرف ایک ہی پیرامیڈیکل ملازمہ ہے اوراس کے علاوہ ہسپتال میں کوئی بھی اہلکارنہیں ہے۔مقامی لوگوں نے ڈی ڈی سی راجوری سے مداخلت کرنے کی استدعاکرتے ہوئے ہسپتال کی صورتحال بہتربنانے کامطالبہ کیاہے۔