جموں//مختلف سکھ تنظیموں کے مشترکہ محاذ سکھ انٹلیکچول سرکل اورجموں وکشمیرسکھ سنگت نے مرکزی اورریاستی حکومت پر یکم نومبر1984 کوقتل کئے گئے سکھوں کے لواحقین کوانصاف فراہم کرنے میں ناکام رہنے کاالزام عائد کیاہے۔انہوں نے کہاکہ یکم نومبر1984کواس وقت کی وزیراعظم اندراگاندھی کی ہلاکت کے بعدسکھوں مخالف قتل عام شروع ہواتھا جس میں 5000سکھوں کوقتل کیاگیاتھا۔انہوں نے کہاکہ کسی بھی ہندوستانی حکومت نے سکھوں کے قتل عام کے متاثرہ کنبوں کوانصا ف دلانے کیلئے اقدامات نہیں اٹھائے۔اس دوران جموں کشمیرسکھ سنگت نے سکھوں کی ہلاکت پرخاموشی کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کرکے سکھوں کے قتل عام کے دن کویوم سیاہ کے طورپرمنایا۔اس دوران سکھوں کی احتجاجی ریلی اندراچوک سے شروع ہوااوربس سٹینڈ،گمٹ چوک ،وینایک بازارسے ہوکرپریس کلب پہنچ کراختتام ہوئی ۔اس دوران سکھوں نے ہاتھوں میں بینراٹھارکھے تھے جن پرحکومت مخالف نعرے درج تھے۔اس دوران ایس نریندرسنگھ خالصہ ، ایس پرویندرسنگھ ودیگرمقررین نے حکومت کوتنقیدکانشانہ بنایااورسکھ مخالف فسادات کے متاثرہ کنبوں کوانصاف دینے کامطالبہ کیا۔اس دوران مظاہرین میںایس نریندرسنگھ خالصہ، ایس پرویندرسنگھ، گردیوسنگھ ،ایس منموہن سنگھ، کامریڈسکھ دیوسنگھ ، ایس منجیت سنگھ راکی، ایس امریندرسنگھ،ایس رویندرسنگھ اورایس رنجیت سنگھ ، سکھدیوسنگھ کامریڈ، گگن دیپ سنگھ ، گردیپ سنگھ، کمل نین سنگھ، جگجیت سنگھ، رویندرسنگھ، رمنیک سنگھ،ہربھجن سنگھ، جگدیوسنگھ اوررشمیت کوروغیرہ شامل تھے۔