عظمیٰ نیوز سروس
سرینگر//سکاسٹ کے ڈائریکٹوریٹ آف ایکسٹینشن نے کرشی وگیان کیندر گاندربل کے اشتراک سے کسان سارتھی 2.0پر ایک روزہ تربیتی ورکشاپ کا انعقاد کیا، جس کا مقصد ڈیجیٹل زرعی توسیع اور کسانوں کے لیے ٹیکنالوجی پر مبنی مشاورتی خدمات کو مضبوط بنانا تھا۔ورکشاپ میں کشمیر کے تمام 10 کرشی وگیان کیندروں (KVKs) کے تقریبا 60 ماہرین، جن میں پروگرام کوآرڈینیٹرز، سبجیکٹ میٹر اسپیشلسٹس، فیکلٹی ممبران اور دیگر ایکسٹینشن ماہرین شامل تھے، نے شرکت کی۔تربیت کے دوران شرکا کو کسان سارتھی 2.0 پورٹل کے ذریعے ڈیجیٹل زرعی مواد تیار کرنے، اسے کسانوں تک پہنچانے اور مشاورتی خدمات کے انتظام کے طریقوں سے آگاہ کیا گیا۔
ڈائریکٹر ایکسٹینشن اور ڈین فیکلٹی آف ہارٹیکلچر پروفیسر ریحانہ حبیب کانٹھ نے زرعی توسیعی خدمات میں ڈیجیٹل ذرائع کے زیادہ سے زیادہ استعمال پر زور دیا اور سائنسدانوں سے اپیل کی کہ وہ کسانوں تک سائنسی سفارشات پہنچانے کے لیے معیاری تکنیکی مواد پورٹل پر فراہم کریں۔اختتامی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے آئی سی اے آر-اے ٹی اے آر آئی زون-1 لدھیانہ کے ڈائریکٹر ڈاکٹر پرویندر شیرون نے کہا کہ کسان سارتھی 2.0 جیسے ڈیجیٹل پلیٹ فارم سائنسی معلومات کو کسانوں تک پہنچانے کے عمل کو مثر بنا سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایسے پلیٹ فارم تحقیق اور کسان برادری کے درمیان فاصلے کو کم کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔تکنیکی سیشن میں کسان سارتھی 2.0 کے نوڈل افسر اور سینئر سائنسدان ڈاکٹر آشیش سنتوش مرائی نے پورٹل کی مختلف خصوصیات، جن میں مواد کی تیاری، ملٹی میڈیا معلومات کی فراہمی، کسانوں کے سوالات کا انتظام اور ماہرین کی مشاورتی خدمات شامل ہیں، کا عملی مظاہرہ کیا۔ورکشاپ کے اختتام پر ڈیجیٹل مواصلاتی حکمت عملی اور معیاری زرعی توسیعی مواد کی تیاری پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ شرکا نے امید ظاہر کی کہ یہ تربیت کشمیر میں کسانوں تک ڈیجیٹل زرعی مشاورت کی فراہمی کو مزید مثر بنانے میں مددگار ثابت ہوگی۔