سرینگر //قاضی گنڈ اننت ناگ کے نسو بدرا گنڈ علاقے میں نالہ ساندرن پانچ برس قبل چھ کروڑ روپے کی لاگت سے تعمیر کیا گیا پل بے سود ثابت ہورہا ہے کیونکہ پل سے آگے کہیں جانے کیلئے راستہ ہی نہیں ہے اور نہ ہی سرکار اس سے آگے سڑک تعمیر کرنے میں سنجیدہ ہے۔پل کی تعمیر 2015 کو مکمل ہوئی جس پر قریب 6 کروڑروپے صرف کئے گئے تاہم پل سے آگے سڑک نہ ہونے کی وجہ سے پل لوگوں کے لئے بے سود ثابت ہوگیا ہے۔ مقامی لوگوں نے بتایاکہ اس پل سے تب ہی لوگ مستفید ہوجاتے جب آگے سڑک ہوتی۔ انہوں نے کہاکہ پل سے آگے صرف ایک سو میٹر سڑک تعمیر کرنے کی ضرورت ہے اورایک طرف ڈورو اور دوسری طرف اننت ناگ سڑکوں سے منسلک ہوجاتالیکن سرکار اور متعلقہ محکمہ کی غفلت شعاری کے نتیجے میں چھ کروڑ روپے کی لاگت سے تعمیر کیا گیا یہ پل کسی کام کا نہیں رہا ہے۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ اس پل کو آمدورفت کے قابل بنانے کی وجہ سے ڈورو اور اننت ناگ میں ٹریفک کا دبائو بھی کم ہوجاتا ۔انہوں نے اس سلسلے میں متعلقہ حکام سے اس سلسلے میں مداخلت کی اپیل کی ہے ۔