ڈاکٹر عبدالمجید بھدرواہی
ایک دلنشین اور یادگار صبح کا ذکر ہے، جب زندگی کی گہما گہمی سے دور، میں اور میری شریک حیات ایک دوسرے کے روبرو بیٹھے تھے۔ گرم چائے کی پیالیوں سے اٹھتا ہوا دھواں فضا میں ایک سحر انگیز ماحول بنا رہا تھا۔ جب میری نظر ان کے پرسکون اور معصوم سراپا پر پڑی، تو ان کے چہرے پر سجی صبح کی تازگی نے میرے دل کے تار چھیڑ دیئے تھے۔ میں نے محبت کی گہرائیوں میں ڈوبی نظروں سے انہیں نہارا اور دھیمے، رومانوی لہجے میں اپنے جذبات کو زبان دی۔
“صبح کے اس اولین پہر میں آپ کا دیدار میرے دل کو ایک عجب سرور اور شادمانی بخشتا ہے، اور یوں لگتا ہے جیسے پورا دن اسی الٰہی سکون کے سائے میں بیتے گا۔ مجھے کامل یقین ہے کہ اس کائنات میں مجھ سے بڑھ کر کوئی خوش بخت اور بامراد نہ ہوگا۔”
میری اس والہانہ گفتگو پر انہوں نے شرما شرما کر اور تھوڑا سا مسکرا کر کہا، چھوڑیئے جی، اب اتنی صبح صبح مسکا نہ لگائیں۔ میں نے فوراً تلافی کرتے ہوئے ان کی آنکھوں میں جھانکا، “نہیں، مجھے آپ کے حسن کی قسم، میں حرف بہ حرف سچ کہہ رہا ہوں۔ جب میرا ہاتھ آپ کے لمس سے آشنا ہوتا ہے تو یوں محسوس ہوتا ہے جیسے میں ریشم خام کو چھو رہا ہوں، ایک سحر انگیز سنسنی میرے رگ و پے میں دوڑ جاتی ہے اور رگوں میں نیا، متحرک لہو مچلنے لگتا ہے۔
آپ کی ان مخمور سرمئی آنکھوں میں جب میں دیکھتا ہوں، تو سچ مچ ان کی گہرائیوں میں ڈوب جانے کو جی چاہتا ہے اور پھر ان خوبصورت آنکھوں میں کاجل لگانے کا آپ کا سلیقہ بھی کتنا دلنشین ہے؛ نہ بہت گہرا، نہ بہت ہلکا، بس اک متوازن سا انداز جو نگاہ کو مسحور کر دے۔ آپ کے یہ یاقوتی اور رس بھرے ہونٹ، جنہیں کسی مصنوعی لپ اسٹک کی حاجت ہی نہیں، اپنی قدرتی شادابی سے چمکتے ہیں۔ میرا نازک دل ڈرتا ہے کہ کہیں راستے کا گرد و غبار اس فطری لالگی اور رعنائی کو گہنا نہ دے۔ آپ کے ہونٹوں پر مچلتی یہ مسکراہٹ کس قدر دلربا، دلکش اور سحر انگیز ہے! اور آپ کے یہ شاداب رخسار… ان میں نہ تو شفق کی روایتی سرخی ہے اور نہ ہی لعل کی تپش، یہ تو حسن کا ایک انوکھا ہی امتزاج ہے، گویا مصورِ ازل نے سرخ اور گلابی رنگوں کے ساتھ گہرے نیلے پن کی ایک ہلکی سی پر اسرار آمیزش کر دی ہو۔
مختصراً یہ کہ آپ کا حسن ایک لافانی اور انوکھا شاہکار ہے اور میرا دل چاہتا ہے کہ تاحیات بس آپ ہی کو تکتا رہوں۔ یہاں تک کہ دفتر کے ہنگاموں میں بھی آپ کا دلنشین چہرہ میرا تصورِ جان بنا رہتا ہے اور وہاں کی دیگر خواتین مجھے بالکل بے رنگ، بے وقعت اور سڑک کے کچرے کی مانند محسوس ہوتی ہیں۔
ان رومان پرور اور سحر انگیز کلمات نے بیگم کے دل پر گہرا اثر کیا۔ ان کا پورا چہرہ فرطِ جذبات سے کِھل اٹھا، انہوں نے والہانہ انداز میں آگے بڑھ کر میرے گالوں کو اپنے پیار سے سجا دیا، میرے ماتھے کو کئی بار چوما اور روایتی محبت کے ساتھ میری بلائیں لیں۔
لیکن میں نے اسی نازک لمحے ایک شرارت آمیز پینترا بدلا اور مدہم سی مسکراہٹ کے ساتھ کہا: “سنو میری جان، مائنڈ مت کرنا اور دل پر بالکل نہ لینا… یہ جو اب تک میں نے تمہاری تعریفوں کے پل باندھے اور تم نہال ہوئیں، یہ سب محض ایک فسانہ تھا، ایک جھوٹ تھا جو میں نے صرف تمہارا دل بہلانے اور تمہیں خوش رکھنے کے لئے بولا تھا۔”
یہ سنتے ہی ان پر جیسے سکتہ طاری ہو گیا، چہرے کا سارا نکھار یکدم غائب ہوا اور وہ صدمے سے بولیں: “کیا؟ یہ آپ کیا کہہ رہے ہیں؟ کیا یہ سچ ہے؟”میں نے اپنی سنجیدگی کا ناٹک برقرار رکھتے ہوئے سفاکی سے جواب دیا: “ہاں، میں بالکل سچ کہہ رہا ہوں، میرا دل اب کسی اور کی زلفوں کا اسیر ہو چکا ہے اور میں اپنی زندگی کے حسین شب و روز اسی کے ساتھ گزارتا ہوں۔”
“تم… تم اتنے بے وفا، سنگدل، ذلیل اور فریب کار نکلے!” انہوں نے شدید صدمے اور آنسوؤں سے رندھی ہوئی آواز میں تڑپ کر کہا، “میں نے تم سے شادی کر کے اپنی زندگی کی سب سے بڑی حماقت کی، میری پوری زندگی تم نے برباد کر دی۔ اب مجھے سمجھ آئی کہ اس وقت نجومی نے کیوں کہا تھا کہ تمہاری تقدیر میں صرف آنسو لکھے ہیں اور تمہارے اوپر راہو کیتو کا چکر ہے۔ محلے کے معزز امام صاحب نے بھی تو دبے لفظوں میں میرے والد کو یہی سمجھایا تھا، انہوں نے کہا تھا کہ ابھی اتنی جلدی کیا ہے، لڑکی بہت معصوم اور کم عمر ہے۔ ان کا اشارہ بالکل صاف تھا کہ اس لڑکے کے ساتھ اپنی بیٹی کی شادی مت کرنا۔
میرے رشتہ داروں، والد کے مخلص دوستوں اور میری والدہ کی سہیلیوں نے بھی مجھے کتنا روکا تھا، لیکن میں تمہاری محبت کے اس فریب میں اندھی اور بالکل پاگل ہو چکی تھی! دیکھو، سب نے سچ ہی کہا تھا کہ بیٹیوں کی ابھی عمر ہی کیا ہے، مگر افسوس، میں ہی نادان تھی جو اس سراب کو حقیقت سمجھ بیٹھی۔”
وہ زار و قطار روتے ہوئے مزید بولیں: “ذرا دیکھو بلقیس بہن کو، وہ اپنے گھر میں کتنی نہال اور پرسکون ہے! نرملا کو دیکھو، عمر کے اس حصے میں بھی اس کے چہرے پر جوانی کا نکھار ہے کیونکہ اس کا شریک حیات اسے پلکوں پر بٹھا کر رکھتا ہے۔ اور تمہارے اپنے دوست کی اہلیہ رخسانہ کتنی خوش بخت ہے، آج ادھر سیر کو تو کل ادھر پکنک کو! ایک میں ہوں جس کی قسمت ہی پھوٹ گئی۔ تم نے میرے ساتھ دغا کیا ہے، تجھے کیڑے پڑیں گے، تو کبھی سکون نہیں پائے گا اور در بدر پھرے گا! میں اب ایک لمحہ بھی اس چھت کے نیچے نہیں رہوں گی، میں ابھی کے ابھی یہ گھر چھوڑ کر جا رہی ہوں!”
جب معاملہ حد سے بڑھ گیا اور فضا بد دعاؤں اور تلخ آہوں سے بوجھل ہونے لگی، تو مجھے احساس ہوا کہ اب کھیل ختم ہو جانا چاہیے، اس سے پہلے کہ یہ گھریلو جھگڑا رسوائی بن کر سڑک پر آجائے۔ میں نے لپک کر ان کا لرزتا ہوا ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لیا اور والہانہ انداز میں کہا: “ارے میری نادان، میری پاگل جان! ذرا ٹھہرو اور میری بات سنو۔ میں تو محض تمہیں چھیڑنے کے لئے یہ رومانوی ڈرامہ رچا رہا تھا، میں تو صرف یہ دیکھنا چاہتا تھا کہ غصے اور سچے جذبات کی پریشانی میں تمہارا یہ حسن کس طرح دوبالا ہوتا ہے، اور تم اس روپ میں کتنی زیادہ خوبصورت نظر آتی ہو۔ خدا اور اس کے حبیب کی قسم! یہ سب صرف ایک وقتی مذاق تھا، ایک پیاری سی چھیڑ چھاڑ تھی۔ ارے تم تو میری کائنات ہو، میری زندگی ہو! میں نے سوچا کہ ہر اتوار تو عیش و آرام سے گزرتا ہے، کیوں نہ اس اتوار کو زندگی میں تھوڑی سی انوکھی ہلچل مچائی جائے۔”
بیگم نے ابھی بھی غصے، سسکیاں بھرتے ہوئے اور شدید بے یقینی سے مجھے دیکھا اور بولیں: “پھر جھوٹ! یہ سو فیصد سراسر جھوٹ ہے! مجھے چھوڑو، میں اب تمہاری کسی بات میں نہیں آنے والی، میں اپنے والدین کے گھر جا رہی ہوں۔”
میں نے فوراً میز سے مصحف اٹھایا اور تڑپ کر کہا: “یہ دیکھو، میرے ہاتھ میں قرآن پاک ہے، کیا میں اس متبرک کتاب کی قسم کھا کر تمہیں یقین دلاؤں؟”
انہوں نے تقدس کا لحاظ رکھتے ہوئے سنجیدگی سے کہا: “قرآن پاک معمولی باتوں پر قسمیں کھانے کے لئے نازل نہیں ہوا، لیکن چونکہ اس وقت ہماری زندگی اور محبت کا سوال ہے، اور اللہ بخشنے والا ہے… اس لئے سچ کہو، کیا یہ بھی کوئی نیا جھوٹ ہے؟”
“پھر سنو کہ اصل حقیقت کیا ہے!” میں نے مسکرا کر محبت آمیز لہجے میں کہا، “اگلے سوموار تمہارا یومِ پیدائش ہے اور میں نے اس خوشی کے دن کو یادگار بنانے کے لیے تمہارے والدین، تمام قریبی رشتہ داروں، مخلص دوستوں اور دفتر کے رفقاء کو ایک شاندار دعوت پر مدعو کر رکھا ہے!”
یہ سن کر انہوں نے مان بھرے انداز میں منہ بنایا اور بولیں: “یہ بھی یقیناً کسی نئے اور خوبصورت جھوٹ کا پلندہ ہوگا، میں تم سے بات ہی نہیں کرتی۔”
اسی لمحے میں نے اپنی جیب سے ایک مخملی، چمکتا ہوا ڈبہ نکالا اور ان کے سامنے کھول دیا: “اور یہ ہیرے کا نفیس ہار… صرف تمہاری اس سالگرہ کے لئے! اب تو اپنی اس محبت پر یقین آگیا نا؟”
بیگم ایک عجب الجھن اور خوشی کے امتزاج میں ڈوب گئیں اور بولیں: “خدا کے لئے بس کیجیے، مجھے سمجھ نہیں آرہا کہ میں تمہاری پہلی دردناک کہانی پر یقین کروں یا اس رومانوی حقیقت پر، میں تو سچ مچ پاگل ہو جاؤں گی۔ اچھا ٹھہریئے، پہلے اپنا فون اٹینڈ کیجیے، دیکھے کسی کا فون آ رہا ہے۔”
میں نے فون اٹھایا، سکرین دیکھی اور کھلکھلا کر ہنس پڑا: “یہ لو، تمہارے ابا جان کا فون ہے۔ وہ فرما رہے ہیں کہ ہمیں کل دوپہر ٹھیک تین بج کر تینتیس منٹ پر ریلوے اسٹیشن ان کا استقبال کرنے آنا ہے۔”
بیگم کا چہرہ خوشی سے چمک اٹھا اور وہ بولیں: “اچھا اچھا! سچ مچ؟ اب تو مجھے کامل یقین آگیا ہے!”
یہ سنتے ہی ان کے چہرے پر رونق اور شادابی کا ایک نیا نکھار ابھر آیا، جیسے خزاں کے بعد اچانک بہار آگئی ہو۔ انہوں نے والہانہ اور شدید محبت کے عالم میں مجھے اپنے گلے سے لگا لیا، میرے ماتھے اور ہاتھوں کو چوما، اور بار بار گلے لگ کر نم آنکھوں سے معافی مانگنے لگیں کہ غصے میں ان سے گستاخی ہو گئی۔ وہ سارا جھوٹ دراصل محبت کا ایک خوبصورت، لطیف اور لازوال رنگ تھا۔
“ارے تم تو میری زندگی ہو، میرے آسمان کی کہکشاں ہو جسے اللہ نے خالصتاً میرے لیے زمین پر اتارا ہے۔ تم تو اس سے پہلے ستاروں کے دیس میں کہیں بستی تھی… سچ مچ، تجھے اس زمین پر اتارا ہی گیا ہے تو صرف میرے لیے!”
���
کریم منزل، پیس کالونی، شیخوپورہ،بڈگام
موبائل نمبر؛ 8825051001