محمد عرفات وانی
اتوار کی صبح تھی۔ کئی ہفتوں بعد پہلی مرتبہ میری آنکھ الارم کی آواز سے نہیں بلکہ ایک گہری خاموشی کے لمس سے کھلی۔ یوں محسوس ہوا جیسے وقت نے چند ساعتوں کے لئے اپنی رفتار آہستہ کر دی ہو۔ میں نے سوچا شاید آج کا دن میرے حصے کا ہے۔ چند لمحے سکون کے، چند لمحے اپنے لئے مگر ابھی چائے کا پہلا گھونٹ بھی ہونٹوں تک نہ پہنچا تھا کہ موبائل فون بج اٹھا۔ عرفات صاحب اگر ممکن ہو تو فوراً ایمرجنسی پہنچ جائیں… آج عملہ موجود نہیں آپ کی سخت ضرورت ہے۔
میں نے نرمی سے معذرت کر لی۔ کئی ہفتوں بعد ملی اس مختصر سی چھٹی کو کھونا نہیں چاہتا تھا۔ لیکن پانچ ہی منٹ گزرے ہوں گے کہ دوبارہ فون آگیا۔براہ کرم جلدی پہنچیں… آپ کی اشد ضرورت ہے۔ میں ابھی سوچ ہی رہا تھا کہ تیسری کال آگئی۔ اس مرتبہ آواز میں رسمی درخواست نہیں بے بسی بول رہی تھی۔ میں زیادہ دیر خاموش نہ رہ سکا۔ خاموشی سے کپڑے بدلے، دروازہ بند کیا اور گھر والوں سے رخصت ہو کر باہر نکل آیا۔ علم طب شاید انسان کو سب سے پہلے یہی سبق دیتا ہے کہ بعض اوقات اپنی خواہشوں کو دوسروں کی ضرورت کے سامنے خاموش کر نا پڑتا ہے۔
سڑک پر قدم رکھتے ہی اچانک ایک اور آواز دل کے کسی گوشے سے ابھری۔ عرفات صاحب ایک دن میرے ساتھ ایک کپ چائے ضرور پیجیے۔ یہ آواز میرے لئے اجنبی نہ تھی۔ یہ ایک ایسی ادبی شخصیت کی آواز تھی جو محکمۂ صحت میں ایک اہم منصب پر فائز رہ چکے تھے مگر جن کی اصل شناخت نہ ان کا عہدہ تھا، نہ اختیار بلکہ علم، انکسار اور بے تکلف محبت تھی۔ کئی ہفتوں سے وہ وقفے وقفے سے فون کرتے یا مختصر سا پیغام بھیجتے اور ہر گفتگو کا اختتام ایک ہی جملے پر ہوتا کہ
“Arfat, I do hope you’ll visit someday. It would be a pleasure to share a cup of tea with you.”
میرا جواب بھی ہمیشہ ایک ہی ہوتا۔ سر انشاءاللہ بہت جلد حاضر ہوں گا۔ مگر زندگی میں بعض بہت جلد کبھی جلد نہیں آتے۔
ان دنوں میری دنیا ایس ایم ایچ ایس ہسپتال سرینگر کی ایمرجنسی تک محدود ہو چکی تھی۔ تین مہینوں کی وہ مسلسل مصروفیت آج بھی یاد آتی ہے تو یوں لگتا ہے جیسے وقت نے خود وہاں دوڑنا سیکھ لیا تھا۔ صبح کب دوپہر میں بدلتی اور شام کب رات کے سپرد ہو جاتی، اس کا احساس ہی نہ رہتا۔ ایمرجنسی کے دروازے پر رکتی ایمبولینسیں، وارڈوں میں دوڑتے قدم، مریضوں کی بے قرار نظریں اور ڈاکٹروں کی مسلسل مصروفیت یہی میری کائنات تھی۔ کئی کئی دن گزر جاتے اور مجھے یاد ہی نہ رہتا کہ ہسپتال کی دیواروں کے باہر بھی ایک شہر سانس لیتا ہے جہاں لوگ اطمینان سے بیٹھ کر چائے پیتے ہیں اور کبھی کبھی کسی کے آنے کا انتظار بھی کرتے ہیں۔
میں چل تو ہسپتال کی طرف چل رہا تھا مگر دل بار بار کسی اور سمت مڑ جاتا تھا۔ اچانک خیال آیا کہ آج رات تک تو بہرحال ہسپتال پہنچنا ہی ہے۔ اگر اس سے پہلے چند لمحے نکال کر اس شخص سے مل لیا جائے جو کئی ہفتوں سے خلوص کے ساتھ میرا منتظر ہے تو شاید دل پر رکھا ایک بوجھ بھی ہلکا ہو جائے۔ میں سڑک کے کنارے رک گیا۔ ایک سمت فرض کھڑا تھا۔ دوسری سمت خلوص۔ چند لمحوں تک میں خاموش کھڑا رہا۔ پھر گھڑی پر نظر ڈالی، آسمان کی طرف دیکھا اور دل ہی دل میں ایک فیصلہ کر لیا۔
اگلے ہی لمحے میرے قدم ہسپتال کی طرف نہیں بلکہ اس ادبی شخصیت کے گھر کی سمت اٹھ چکے تھے۔ مجھے اس وقت ہرگز اندازہ نہ تھا کہ میں صرف ایک دعوت قبول کرنے نہیں جا رہا بلکہ ایک ایسے واقعے کا حصہ بننے والا ہوں جو برسوں بعد بھی میری یادداشت میں اسی طرح زندہ رہے گا جیسے تازہ چائے کے کپ سے اٹھتی ہوئی پہلی بھاپ۔
میں نے ایک گاڑی روکی۔ اس نے کچھ دور تک میرا ساتھ دیا پھر اپنا راستہ بدل لیا اور مجھے وہیں اترنا پڑا۔ آگے سڑک غیر معمولی طور پر سنسان تھی۔ چند گاڑیوں کو ہاتھ دیا مگر کوئی نہ رکی۔ ایک لمحے کے لئے خیال آیا کہ شاید آج بھی یہ ملاقات قسمت کے کسی اور دن پر ٹل جائے لیکن اگلے ہی لمحے وہی مانوس جملہ ذہن میں گونج اٹھا کہ عرفات صاحب ایک کپ چائے ہمارے ذمے رہی۔
میں بے اختیار مسکرا دیا اور پیدل چلنا شروع کر دیا۔ راستہ طویل ضرور تھا مگر اس دن قدموں میں تھکن نہیں تھی۔ شام آہستہ آہستہ اپنی سنہری چادر شہر پر پھیلا رہی تھی۔ چناروں کے پتوں سے گزرتی ہوا میں خزاں کی ہلکی سی خوشبو گھلی ہوئی تھی۔ میں چلتا جا رہا تھا اور سوچتا جا رہا تھا کہ آخر ایک ایسا شخص جس نے زندگی میں بڑے بڑے عہدے، بڑے اجتماعات اور بے شمار لوگوں کی رفاقت دیکھی ہو وہ ایک طالب علم کی آمد کا اس قدر منتظر کیوں ہے۔ پھر دل نے آہستہ سے جواب دیا کہ شاید خلوص کا تعلق نہ عمر سے ہوتا ہے، نہ عہدے سے، نہ شہرت سے بلکہ وہ صرف انسان سے ہوتا ہے۔
تقریباً چار کلومیٹر پیدل چلنے کے بعد میں اس کالونی میں پہنچا جہاں شہر کے اعلیٰ افسران رہتے تھے۔ کشادہ سڑکیں، ایک جیسے خوبصورت بنگلے، خاموش درخت اور ہر طرف ایسا سکون جیسے شور نے اس بستی میں داخل ہونے سے پہلے ہی اجازت مانگ لی ہو۔
میں نے موبائل نکال کر پتہ دوبارہ دیکھا مگر چند قدم چلنے کے بعد احساس ہوا کہ ہر گھر دوسرے سے اس قدر مشابہ ہے کہ منزل کی پہچان آسان نہیں۔ ایک راہ گیر سے پوچھا وہ لاعلم تھا۔ تھوڑا آگے دو مزدور کام کر رہے تھے، انہوں نے بھی معذرت کر لی۔ چند لمحوں کے لئے یوں محسوس ہوا جیسے میں ایک ایسی بستی میں کھڑا ہوں جہاں ہر چیز موجود ہے، سوائے اس ایک دروازے کے جس کی مجھے تلاش تھی۔
آخرکار میں نے انہیں فون کر لیا۔ سر… میں شاید آپ کی کالونی میں ہوں لیکن گھر تلاش نہیں کر پا رہا۔ دوسری طرف سے بے ساختہ ہنسی سنائی دی۔ بس وہیں کھڑے رہیے میں ابھی آرہا ہوں۔ چند ہی لمحوں بعد سفید کرتا پہنے ایک باوقار شخص دور سے میری طرف آتے دکھائی دیا۔ ان کے چہرے پر ایسی خوشی تھی جو صرف اپنے لوگوں کی آمد پر محسوس ہوتی ہے۔ قریب پہنچتے ہی انہوں نے میرا ہاتھ دونوں ہاتھوں میں لے لیا اور مسکراتے ہوئے بولے کہ آخر آپ نے وعدہ نبھا ہی دیا۔
ان کے لہجے میں شکایت نہیں صرف اپنائیت تھی، اور شاید یہی اپنائیت مجھے چار کلومیٹر پیدل چلوا لائی تھی۔ گھر کے اندر قدم رکھتے ہی میری نگاہ دیواروں سے لگی کتابوں کی الماریوں پر ٹھہر گئی۔ ہر طرف کتابیں، ادبی رسائل، اخبارات اور خاموشی سے بکھری ہوئی ایک علمی فضا۔ یوں محسوس ہوتا تھا جیسے اس گھر کی دیواریں بھی لفظوں سے مانوس ہیں۔ سادگی وہاں کی سب سے قیمتی آرائش تھی۔
ہم ابھی بیٹھے ہی تھے کہ ایک باپردہ لڑکی خاموشی سے اندر آئی۔ اس نے جوس کے گلاس میز پر رکھے، نہایت ادب سے سلام کیا اور جواب سن کر اسی سکون کے ساتھ واپس چلی گئی۔ یہ ایک مختصر سا منظر تھا مگر اس نے اس گھر کے ماحول کا پہلا تعارف میرے سامنے رکھ دیا۔ بعض گھروں کی تہذیب گفتگو سے پہلے رویوں میں دکھائی دیتی ہے۔
کچھ ہی دیر میں ہماری گفتگو شروع ہو گئی۔ بات ادب سے چلی، پھر کشمیر، معاشرہ، صحافت، سیاست، نئی نسل اور کتابوں تک جا پہنچی۔ ان کے ہر جملے میں برسوں کا تجربہ بولتا تھا مگر لہجہ اس قدر نرم تھا کہ اختلاف بھی احترام کا روپ دھار لیتا تھا۔ میں پوری طرح اس علمی نشست میں محو تھا کہ اچانک دروازے کے قریب ہلکی سی آہٹ سنائی دی۔
میں نے بے اختیار سر اٹھایا۔ ایک شخص خاموشی سے اندر داخل ہوا۔ اس کے ہاتھ میں چائے کی ٹرے تھی۔ سادہ سا کرتا، پاؤں میں عام سی چپل، چہرے پر متانت اور آنکھوں میں عجیب سی شائستگی۔ اس نے پہلے ڈاکٹر صاحب کی طرف دیکھا پھر میں نے اس کی طرف متوجہ ہو کر نہایت مؤدبانہ انداز میں سلام کیا۔
اس نے جواب دیا اور خاموشی سے ہمارے سامنے کپ رکھے، چائے انڈیلی اور آہستگی سے چینی کی ڈبیہ میز کے قریب سرکا دی اور اسی وقت ڈاکٹر صاحب نے اس سے کہا کہ یہی عرفات ہے، اس کی ہر حرکت میں ایسی سلیقہ مندی تھی جو سکھائی ضرور جاتی ہے مگر شخصیت کا حصہ بننے میں برسوں لگتے ہیں۔
میں نے سرسری سی نگاہ اس پر ڈالی اور دل ہی دل میں یہی سمجھا کہ شاید وہ گھر کا کوئی ملازم ہے۔ مجھے اس وقت کیا معلوم تھا کہ چند ہی لمحوں بعد میری یہ رائے ٹوٹنے والی ہے اور اس کے ساتھ انسانوں کو پہچاننے کا میرا ایک پیمانہ بھی۔ وہ شخص خاموشی سے ایک طرف ہٹ گیا۔ ڈاکٹر صاحب نے چائے کا کپ اٹھایا، ایک گھونٹ لیا اور مسکراتے ہوئے بولے کہ عرفات صاحب آج واقعی دل خوش ہو گیا۔ اب تو مجھے یقین ہونے لگا تھا کہ شاید آپ کبھی نہیں آئیں گے۔
میں شرمندگی سے مسکرا دیا۔ سر قصور میرا ہی تھا۔ ہر بار ارادہ کرتا مگر ہسپتال کی مصروفیات اجازت ہی نہیں دیتی تھیں۔ انہوں نے محبت بھری نگاہ سے میری طرف دیکھا۔ مجھے معلوم ہے۔ جو لوگ انسانوں کی جان بچانے میں مصروف رہتے ہیں، ان کا وقت اکثر ان کا اپنا نہیں رہتا۔ ان کی اس ایک بات نے دل پر جمی ہوئی ساری جھجک دھو دی۔
گفتگو پھر سے چل نکلی۔ کبھی کسی شاعر کا ذکر ہوتا، کبھی کسی کتاب کا، کبھی کشمیر کے بدلتے ہوئے سماجی منظرنامے پر بات ہوتی۔ وقت جیسے خاموشی سے ہمارے درمیان بیٹھ گیا تھا۔ اسی دوران وہی شخص دوبارہ اندر آیا۔ اس نے نہایت سکون سے خالی کپوں کے قریب گرم پانی کا برتن رکھا اور آہستہ سے کہا کہ ابو… اور کچھ لاؤں۔ ڈاکٹر صاحب نے واپس کہا نہیں بیٹا، شکریہ۔ وہ ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ واپس چلا گیا۔
یہ لفظ میرے کانوں سے ٹکرایا ضرور مگر گفتگو کا سلسلہ اس قدر دلچسپ تھا کہ میں اس پر زیادہ غور نہ کر سکا۔ میں نے یہی سمجھا کہ شاید گھر کے ملازمین بھی انہیں محبت سے ابو کہہ دیتے ہوں یا شاید میں نے صحیح سنا ہی نہ ہو۔ کچھ دیر بعد وہ تیسری مرتبہ آیا۔ اس نے خاموشی سے خالی کپ سمیٹے۔ میں نے بے اختیار کہا سر میری وجہ سے آپ کو زحمت ہوئی۔
وہ مسکرایا۔ یہ زحمت نہیں خوشی ہے۔ آپ ہمارے مہمان ہیں۔ اس کے لہجے میں ایسی سادگی تھی جو دل میں اترتی چلی گئی۔ اس کے جانے کے بعد نہ جانے کیوں میرے دل میں ایک ہلکا سا تجسس پیدا ہوا۔ میں نے ڈاکٹر صاحب کی طرف دیکھا اور پوچھا سر… یہ شخص کون ہے۔ ڈاکٹر صاحب کے لبوں پر ایک نرم سی مسکراہٹ ابھری۔ یہ میرا بیٹا خالد ہے۔ میں خاموش رہا۔ شاید میرے چہرے پر حیرت ابھی باقی تھی، اس لئے انہوں نے خود ہی بات آگے بڑھائی۔ خالد اس وقت انتظامی سروس میں ہے۔ ایک لمحے کے لئے یوں لگا جیسے وقت ٹھہر گیا ہو۔ میں خالد کے نام سے تو واقف تھا مگر یہ ہرگز نہ جانتا تھا کہ وہی شخص میرے سامنے نہایت انکسار سے چائے پیش کر رہا ہے۔
بے اختیار میری نگاہ دروازے کی طرف اٹھ گئی۔ چند لمحے پہلے یہی شخص نہایت خاموشی سے ہمارے سامنے چائے رکھ رہا تھا اور میں اسے گھر کا ایک ملازم سمجھ بیٹھا تھا۔ مجھے اپنی غلطی پر شرمندگی ضرور ہوئی مگر اس سے کہیں زیادہ اس گھر کی تربیت پر حیرت ہوئی۔ ڈاکٹر صاحب نے شاید میری خاموشی پڑھ لی تھی۔ وہ دھیرے سے بولے کہ گھر کے اندر عہدے دروازے پر رہ جاتے ہیں، عرفات صاحب۔ اندر صرف رشتے داخل ہوتے ہیں۔
میں نے پہلی بار محسوس کیا کہ بعض جملے کتابوں میں نہیں ملتے وہ صرف کرداروں کی زندگی میں لکھے جاتے ہیں۔ کچھ دیر بعد میں نے اجازت چاہی اور میں نے معذرت خواہانہ لہجے میں کہا خالد صاحب میں آپ کو پہچان نہ سکا، معاف کیجیے گا اور پھر ڈاکٹر صاحب خود دروازے تک ساتھ آئے۔ خالد بھی باہر آگیا۔ ڈاکٹر صاحب نے میری طرف دیکھا اور کہا راستہ کافی ہے خالد چھوڑ دے گا۔ میں نے مسکراتے ہوئے عرض کیا کہ سر آپ کی محبت میرے لئے کافی ہے۔ باقی سفر میں خود طے کر لوں گا۔ خالد نے اصرار نہیں کیا۔ خاموشی سے مصافحہ کیا اور کہا کہ پھر کبھی ضرور آئیے گا۔
میں باہر نکل آیا۔ رات پورے شہر پر اپنی خاموش چادر پھیلا چکی تھی۔ چنار پہلے کی طرح خاموش کھڑے تھے، ہوا پہلے کی طرح سرد تھی اور سڑک بھی وہی تھی مگر میرے اندر کچھ بدل چکا تھا۔ آتے وقت میرے قدم صرف ایک دعوت کی طرف بڑھ رہے تھے، واپسی پر میرے ساتھ ایک ایسا سبق چل رہا تھا جسے نہ کسی درسگاہ میں پڑھایا جاسکتا ہے اور نہ کسی کتاب کے صفحات میں مکمل طور پر سمویا جاسکتا ہے۔
رات گئے جب میں دوبارہ ایمرجنسی پہنچا تو زندگی اپنی پوری رفتار سے دوڑ رہی تھی۔ مریض آرہے تھے، ڈاکٹر مصروف تھے اور وقت پہلے کی طرح کسی کا انتظار نہیں کر رہا تھا۔ چند لمحوں بعد کسی نے میرے سامنے چائے کا ایک کپ رکھا۔ میں نے کپ ہاتھ میں لیا تو بے اختیار میری نگاہ اس سے اٹھتی ہوئی بھاپ پر ٹھہر گئی۔ اچانک مجھے وہ شام یاد آگئی، وہ خاموش گھر، وہ باوقار باپ، وہ سادہ لباس میں ملبوس نوجوان اور چائے کی وہ ٹرے… جس نے مجھے ایک لمحے میں یہ سکھا دیا تھا کہ عظمت عہدوں سے نہیں کردار سے جنم لیتی ہے۔
وقت گزر جاتا ہے، ملاقاتیں یادوں میں ڈھل جاتی ہیں، مگر بعض لمحے انسان کی شخصیت کا مستقل حصہ بن جاتے ہیں۔ اس دن میں نے صرف ایک کپ چائے نہیں پی تھی، بلکہ عاجزی، تہذیب اور اعلیٰ تربیت کو اپنی آنکھوں سے مجسم دیکھا تھا۔ شاید اسی لیے آج بھی جب کوئی میرے سامنے چائے کا کپ رکھتا ہے تو مجھے چائے کا ذائقہ نہیں بلکہ اس گھر کی خوشبو، اس باپ کی تربیت اور اس بیٹے کا انکسار یاد آجاتا ہے۔
���
کچھمولہ ترال پلوامہ کشمیر
موبائل نمبر؛9622881110