پچھلے دنوں ایک صاحب نے فیس بک پر اپنے ایک پوسٹ میں یہ شکایت کی کہ انہوں نے کچھ مخصوص شخصیات کے اوپر جتنی بھی پوسٹس ڈالیں ، انہیں خاصی پزیرائی ملی۔ جب کہ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم پر مبنی پوسٹ کو کم ہی لوگوں نے پڑھا۔ اِس کے بعد اُس صاحب نے آگے جاکر اِسے یہ نتیجہ برآمد کیا کہ یہاں پر لوگوں کے اندر شخصیت پرستی کا رجحان زیادہ ہے۔ اسی طرح سے بعض احباب یہ شکایت کرتے رہتے ہیں کہ اُن کے پوسٹس کوسو شل میڈیا پر کوئی پزیرائی نہیں ملتی ہے، جب کہ ان کے پوسٹس کافی معیاری ہوتے ہیں۔
اس ضمن میں سب سے بڑی غلطی جو کی جاتی ہے وہ یہ ہے کہ آدمی سمجھ بیٹھتا ہے کہ سوشل میدیا ہی ایک واحد دنیا ہے، جہاں پر کام کرنے کے سب سے زیادہ مواقع ہیں ۔ سوشل میڈیا ایک محدود سی دنیا ہے اور وہ بھی جو ہوا میں کام کرتی ہے۔ اسے انگریزی میں Virtual World کہا جاتا ہے۔ یہاں پر کوئی کام اگر کیا جائے تو پتہ نہیں ہوتا کہ اُس کا اثر کیا اور کہاں تک پڑا ہے۔حالانکہ اب اس کے اندر بھی ایسی انفارمیشن مہیا کی جاتی ہے ، جسے پتہ چلتا ہے کہ کس پوسٹ کو کتنے لوگوں نے پڑھا یا پسند کیا ہے ۔ لیکن اُسے بھی یہ معلوم نہیں ہو سکتا کہ پوسٹ واقعتاً کتنے لوگوں نے پڑھا ہے ۔ مثال کے طور پر پوسٹ صارف کی نظروں سے گذرا اور پسند بھی کیا گیا، لیکن یہ لازم نہیں ہے کہ پوسٹ کو پڑھا گیا ہے، یا حقیقتاً پڑھنے کے دوران مزہ لینے کے بعد ہی پسند کا بٹن دبایا گیا ہوگا۔
سوشل میڈیا پر زیادہ بھر مار جوانوں کی ہے۔ جوان اس فطری کشمکش کے زیادہ شکار ہوتے ہیں کہ وہ جو کوئی بھی پوسٹ ڈالیں اسے زیادہ سے زیادہ لوگ پسند کریں۔ کسی پوسٹ کو کتنے لوگوں نے پسند کیا، یہ انفارمیشن باقی لوگ بھی دیکھ سکتے ہیں۔ اس لیے ہر کوئی چاہتا ہے کہ سوشل میڈیا کے اندر میرے پوسٹس کو زیادہ سے زیادہ لوگ پسند کریں۔ اب سوشل میڈیا کی قباحت یہ ہے کہ اگر آپ کسی دوسرے کا پوسٹ پسند نہیں کریں گے، تو آپ کے پوسٹ کو بھی الحر بالحر کے مصداق شاید پسند نہیںکیا جائے گا۔ اس لیے یہ جانے بغیر کہ پوسٹ کیا ہے، کیا وہ واقعتاً پسند کرنے کے لائق ہے، نوجوان دوسروں کے پوسٹس کو پسند کرتے جارہے ہیں۔ اسے دو طرح کی قباحتیں واضح ہوجاتی ہیں: ایک ، نوجوان بِناسوچھے سمجھے دوسروں کے پوسٹس پسند کرتے ہیں ۔ دوسری، پسند کیا گیا پوسٹ جس شخص نے ڈالا ہوتا ہے ، اسے یہ تاثر ملتا ہے کہ اس کے پوسٹ کو پڑھا یا سمجھا گیا ہے، جب کہ معاملہ ایسا نہیں ہوتا۔
اس سلسلے میں اس اہم چیز کی طرف اشارہ کرنا بھی ضروری بن جاتا ہے کہ سوشل میڈیا کے اندر مصنوعی ذہانت (Artificial Intelligence) کام کرتی ہے۔ مصنوئی ذہانت سے مراد یہ ہے کہ سوشل میڈیا انسان کی پسند و ناپسند کا پورا خیال رکھتا ہے۔ وہ دیکھتا ہے کہ صارف اُس کے اندر کس قسم کی حرکتیں کر تا ہے۔ کس کس قسم کے پوسٹس کو وہ زیادہ پسند کرتا ہے، کن دوستوں کے پوسٹس پر زیادہ تر لائک کا بٹن دبادیاجاتا ہے، حتیٰ کہ اگر پوسٹ کو لائک نہیں کیا ، لیکن وہاں پر رُکا گیا ہے، اس چھوٹی سی عمل کی طرف بھی سوشل میڈیا کا دھیان ہوتا ہے۔ اس کے بعد سوشل میڈیا خود سے یہ تعین کرتا ہے کہ متعلقہ صارف کی سوشل میڈیا وال پر کون اور کس قم کے پوسٹس آنے چاہیے۔ اگر عملی زندگی کے اندر میرا کوئی دوست ہے، لیکن اس کے پوسٹس کو میں دیکھ کر پسند نہیںکرتا، اگلی مرتبہ سوشل میڈیا اس کی پوسٹس میری وال پر نہیں لائے گا۔ سوشل میڈیا کے اندر مصنوعی ذہانت کا عالم یہ ہے کہ انسان اپنی عملی زندگی میں جو حرکتیں اور بول چال وغیرہ اختیار کرتا ہے ، اُسی کے حساب سے بھی سوشل میڈیا اُس سے معاملہ کرتی ہے۔
مصنوعی ذہانت کے کارنامے یہی پر ختم نہیں ہوتے، بلکہ انسان جب سوشل میڈیا پر کوئی پوسٹ ڈالتا ہے تو یہاں سے ٹیکنالوجی خود سے یہ اخذ کرتی ہے کہ الفاظ کی بناوٹ کیا ہے، پوسٹ کا موضوع کیا، ٹیکسٹ ہے یا کوئی تصوویر، اندازِبیان کون سا ہے، الفاظ جو استعمال کیے گیے ہیں ، کیا وہ نئے ہیں یا گھسے پٹے، اُس کے بعد ہی سوشل میدیا یہ طے کر دیتا ہے کہ اس پوسٹ کو کن کن لوگوں کی وال پر آنا چاہیے۔ اس چیز کے اندر صارف کا کوئی ہاتھ نہیں ہوتا۔ مصنوی ذہانت یہ بھی دیکھتی ہے کہ صارف کس قسم کا انسان ہے۔ اُس کے کتنے دوست ہیں، کتنے فالورز ہیں، اس کا نام سوشل میڈیا کے اندر کتنا لیا جاتا ہے، عملی زندگی میں وہ کس قسم کی حرکات و سکنات ہے، وغیرہ وغیرہ۔ اسی کے حساب سے اُس کے پوسٹس کو پذیرائی ملتی ہے۔ سوشل میڈیا اس بات کا خود سے تعین کرتا ہے کہ ڈالے گئے پوسٹ کی ترکیب و تنظیم کتنی نئی اور نرالی ہے۔ بات جتنی نئی ہوگی، زبردست انداز میں پیش کی گئی ہوگی، اتنا ہی اس کو پذیرائی ملے گی۔
اب اگر کوئی صارف سوشل میڈیا کا بہت کم استعمال کرتا ہے، دوسروں کے پوسٹس کو کم ہی لائک کرتا ہے، کمنٹ وغیرہ بھی محدود طریقے سے کرتا ہے، تو اُس کے پوسٹس کو زیادہ رسپانس نہیں ملنا کوئی نرالی بات نہیں ہے۔ ایسے لوگوں کو پریشان بھی نہیں ہونا چاہیے۔ کیوں کہ جب وہ دوسروں کے پوسٹس وغیرہ کو شاذ ہی دیکھتے ہیں تو بھلا اُس کے پوسٹس کو زیادہ لوگ کیوں پسند کریں۔ سوشل میڈیا کی دنیا یہی ہے۔ اسی طرح اگر کوئی صارف سوشل میڈیا کے اندر نہایت ہی سرگرم عمل ہے، لائک و تبصرے دن بھر کرتا رہتا ہے، تو وہ جو کچھ بھی پوسٹ کرے، قطع نظر اس سے کہ پوسٹ معیاری ہے یا نہیں ، اس کا زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچنا سوشل میڈیا کی ٹیکنالوجی و پالیسی کے مطابق ایک فطری عمل ہے۔
دنیا کے بدلتے حالات کے تناظر میں انسان کو بے شک اَپ ڈیٹ رہنے کی ضرورت ہے، لیکن اُس کے لئے ایسے ذرائع کا استعمال کرنا جہاں انسان کو انفارمیشن کے بدلے دشمنی، عداوت، ذہنی تنائو ، سماجی رابطے کا سکڑائو، والدین سے دوری، بہن بھائی سے لا تعلقی وغیرہ نصیب ہو جائے وہاں انسان کو سوچنا چاہے کہ وہ کس سمت میں جارہا ہے۔ ایک نوجوان گھر میں اپنے والدین کے سامنے ظاہراََ توموجود ہوتا ہے لیکن اس کا دماغ کہی او ہی ر سرگوشیاں کر رہا ہوتا ہے۔ اپنی ہی دنیا میں مگن وہ اپنے آپ سے ہی ہنستا کھیلتا ہے۔ ماں پاپ ترس رہے ہوتے ہیں کب ہمارا بچہ اپنی تخیلاتی دنیا سے نکل کر حقیقی دنیا میں قدم ڈال کر ہم سے دو چار باتیں کر لے۔ یہی حال ہماری باقی محفلوں کا ہے۔ انسانوں کو انسانوں کے ساتھ بات کرنی کی دعوت دی جاتی ہے، لیکن وہاں پر تو ہر کسی کے سروں پر جیسے پرندے بیٹھے ہوتے ہیں۔ ایک دوست دوسرے دوست کی توجہ کا طلب گار ہوتا ہے، لیکن دوسرا دوست سامنے بیٹھے انسان کو نظر انداز کر کے اپنی ہی انگلیوں سے کچھ خطوط کھینچ رہا ہوتا ہے۔انفارمیشن کے مارے وہ ہر کسی کا اسٹیٹس چک کر رہا ہوتا ہے، لیکن اپنی حقیقی زندگی کے تئیں اس سے جو انفار میشن چاہیے تھی، اسے وہ بالکل ہی غافل نظر آتا ہے۔ انسان کسی ویڈیو یا اسٹیٹس کو دیکھ کر کچھ ہنستا ہوا نظر تو آرہا ہے، لیکن عملی زندگی میں وہ غم سے نڈھال ہوتا ہے۔انہی حقائق کو مدِ نظر رکھتے ہوئے ماہرینِ نفسیات تو اب اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ سوشل میڈیا سے انسان اپنے آپ کو خوش رکھنے یا انفارمیشن حاصل کرنے کے بجائے غم میں ہی لت پت کر دیتاہے۔
اس پسِ منظر کو ملحوظ نظر رکھتے ہوئے یہ کہنا بھی حماقت ہوگی کہ سوشل میڈیا کا استعمال ہی بند کیا جائے۔ اصل میں یہ سوشل میڈیا کا ہی قصور نہیں ہے، بلکہ یہ اس ذہنیت کی پیداور ہے جس سے انسان یہ سمجھ بیٹھا کہ سوشل میڈیا کے استعمال سے میں بالکل ہی سوشل (social) ہو گیا۔ وہی دوسری طرف اکثر صارفین کا سوشل میڈیا کا استعمال انفارمیشن کے لئے نہیں بلکہ تفریح و ٹائم پاس کرنے کے لئے ہوتا ہے۔ اس بات کو سمجھنے میں کوئی مشکل نہیں ہے کہ سوشل میڈیا پر انسان کا برتائو کئی گنا زیادہ اِس سے مختلف ہوتا ہے جس کا مظاہرہ وہ حقیقی یا عملی زندگی میں کرتاہے۔ انٹرٹین منٹ (entertainment) کے مارے صارفین اپنی شناخت تک کو بھی مسخ کررہے ہیں۔ خدا نے اس کی جن چیزوں پردہ ڈالا تھا اور جس پر پردہ ڈالنے کی دعا اس سے سکھائی گئی ہے انسان نے اس سے بھی بے اعتنائی برتی۔ یہاں سے ایک اور چیز دیکھنے کو ملتی ہے کہ جب انسان نے اپنی نجی رازداری (privacy) پر خود ہی کلہاڈی مار دی، وہاں دوسروں کو اس کی اصلیت سمجھنے کا موقع مل جاتا ہے، نتیجتاً انسان ایک ہوا کے معمولی تنکے کی مانند رہ جاتا ہے۔
ان حالات میں سوشل میڈیا کا استعمال کرنا نہایت ہی دشوار کن ہے۔ اب یہ بات صحیح ہے کہ سوشل میڈیا سے عوامی ردِ عمل کو ترتیب و تدوین کیا جا سکتا ہے، لیکن اس کے لئے بھی دن میں ایک گھنٹے سے زیادہ وقت کا لگانا معیوب نظر آرہا ہے۔اپنے وقت کا صحیح استعمال کر کے انسان کو سوشل میڈیا کا استعمال اپنے اور دوسروں کے مفاد کی خاطر کرنا چاہے۔ چنانچہ سوشل میڈیا پر ایک دوسروں کا رجحان و نفسیا ت کا اندازہ لگانا مشکل نہیں ہے اس لئے حساس معاملات پر سیر بحث کرنا انسان کو اکتاہٹ کا شکار کردیتی ہے۔ غائبانہ دنیا میں بسا اوقات ایک دوسرے کو سمجھنے میں غلط فہمی (misunderstanding) بھی ہو جاتی ہے ۔ انسان ایک بات کہنے کا مقصد رکھتا ہے لیکن پڑھنے والا کچھ اور ہی مطلب نکالتا ہے ، اس لئے بہتر یہی ہے کہ انسانی معاملات کو نبھابے میں حد درجہ ان ممکنہ ذرائع کا انتخاب کیا جائے جہاں انسان کا انسان سے واقعاتی دنیا میں میل ملاپ ہو۔
اسی طرح موجودہ دور کے تناظر میں یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ سوشل میدیا آج کی زندگی کا ایک جزو لاینفک بن چکا ہے۔ کورونا وائرس کے لاک ڈائون میں اس کی اہمیت کچھ زیادہ ہی بڑھ گئی ہے۔ اس سلسلے میں سوشل میڈیا کی بھی اپنی ایک مخصوص اہمیت ہے، جسے نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ لیکن اس کے باوجود اس بات سے شاید ہی کوئی اختلاف کر سکتا ہے کہ میڈیا سے زیادہ انسان کو عملی زندگی میں سوشل رہنا چاہیے۔ چنانچہ آج کل ہر کوئی سوشل میڈیا پر مفکر و مجدد بننے کی کوشش کر رہا ہے۔ انسان کی عمل چنانچہ آنکھوں سے غائب ہوتی ہے، اس لیے کسی طرح بھی یہ بات ثابت نہیں کی جاسکتی کہ انسان جن افکار و نظریات کا پرچار کر رہا ہے، واقعی میں وہ اُن خیالات کا حامی انسان یا نہیں۔ سوشل میڈیا پر عوامی رد عمل کو دیکھا جاسکتا ہے، رائے عامہ کو ہموار کیا جاسکتا، لیکن انسان کو عملی زندگی میں کسی چیز پرابھارا نہیں جا سکتا۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ صارف اپنے ٹائم شیڈول اور مصروفیات کو مد نظر رکھتے ہوئے، اس کے ساتھ ساتھ سوشل میڈیا کی ترکیب کو بھی سمجھتے ہوئے ، کچھ اپنی فطرت کو بھی مد نظر رکھتے ہوئے اپنے لیے سوشل میڈیا پالیسی مرتب کرے۔ اس پالیسی کی خصوصیت یہ ہونی چاہیے کہ انسان کا وقت فضول میں برباد نہ ہوجائے، ذہنی پریشانیاں لاحق نہ ہوجائیں، اپنے صحت پر کوئی منفی اثر نہ پڑجائے، اس کے ساتھ ساتھ ضرورت کے مطابق اپنے دوستوں کی خاطر ان کے پوسٹس کو لائک اور کمنٹ بھی کریں اور اپنی بات بھی دوستوں تک ٹھیک طرح سے پہنچے ۔