رسول اللہؐ کے ساتھ گفتگو کے آداب:
سورہ حجرات کی پہلی آیت میں رب العزت مومنوں کو رسول اللہ ؐ کے آگے پیش قدمی کرنے سے منع کرتے ہیںاور اگلی دو تین آیتوں میں آدابِ گفتگو بیان کرتے ہوئے فرماتا ہے۔
’’ایمان والو! خبردار اپنی آواز کو نبی کی آواز پر بلند نہ کرنا اور ان سے اس طرح بلند آواز میں بات بھی نہ کرنا جس طرح آپس میں ایک دوسرے کو پکارتے ہو کہیں ایسانہ ہو کہ تمہارے اعمال برباد ہو جائیں اور تمہیں اس کا شعور بھی نہ ہو۔ بے شک جو لوگ رسول اللہ ؐکے سامنے اپنی آواز کو دھیما رکھتے ہیں یہی وہ لوگ ہیں جن کے دلوں کو خدا نے تقو یٰ کے لئے آزما لیا ہے اور انہیں کے لئے مغفرت اور اجر ِ عظیم ہے۔بے شک جو لوگ آپ کو حجروں کے پیچھے سے پکارتے ہیں ان کی اکثریت کچھ بھی نہیں سمجھتی ہے (سورہ حجرات آیت ۔۔۲۔۳۔۴)‘‘
ایک اہم سوال:
مندرجہ بالا آیات میں سے پہلی آیت میںرسولِ کریم ؐسے آگے قدم بڑھانے سے اہل ِ ایمان کو روکا گیا ہے اور اگلی تین آیتوں میں انہیں اس بات سے تاکیداً آگاہ کیا گیا ہے کہ وہ اپنی آوازکو رسول اللہؐ کی آواز پر بلند نہ کرے۔ان آیات کا شانِ نزول اپنی جگہ اگر آج ہم ان آیاتِ کریمہ کو ظاہری اور لغوی معنی پر ہی محمول سمجھیں گے تو کیا یہاں پر یہ سوال پیدا نہیں ہو گا کہ نہ ہی موجودہ دور میں اہلِ ایمان کے لئے یہ ممکن ہیں کہ وہ اپنے قدموں کو پیغمبر اکرمؐ کے قدموں سے آگے بڑھا سکیں اور نہ ہی اپنی آواز کو آپ ؐ کی آواز پر بلند کر سکتے ہیں کیونکہ اس وقت بظاہر آپؐ کے ساتھ ہم قدم ہوناخارج از امکان ہے اور آپ ؐکے ساتھ ہمکلام ہونا محالِ عادی ہے ۔تو کیا ان آیتوں کا اطلاق دورِ نبوی کے مومنوں تک ہی محدود تھا۔ اور کیا یہ حکمِ تنبیہ موجودہ دور یا آنے والے ادوار کے لئے اپنے آپ ہی ساقط ہو جاتا ہے؟بلاشبہ ان آیات کا ایک شانِ نزول ہے اور اس کے مطابق ان آیات کا ظاہری معنیٰ بھی اہمیت رکھتا ہے۔ لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ اب مرورِ زمانہ کے ساتھ ان کی معنویت جاتی رہی۔دراصل قرآن ِ کریم معجزانہ کلام ہے۔ جس کی معنویت ہر آنے والے دن کے ساتھ دوبالا ہو جاتی ہے۔اس لحاظ سے ان آیات کریمہ کے الفاظ شانِ نزول کے اعتبار سے اپنی حقیقی اور لغوی معنی میں بھی موردِ اطلاق تھے اور موجودہ دور میں بھی بطورِ استعارہ موثر اور قابلِ عمل ہیں۔اور اسے کلامِ مجید کا اعجاز ہی کہا جائے گا کہ ایک ساتھ اس کے الفاظ اصلی اور لغوی معنی میں بھی استعمال ہوئے ہیں اور بطورِ استعارہ بھی مستعمل ہیں۔یہی وجہ ہے کل فخرِ کائنات ؐکے ساتھ ہمقدم ہونے والوں کے شرف یابی کا تقاضا اگر یہ تھاکہ وہ اپنا قدم رسول اللہؐ کے آگے نہ دھریںتو ساتھ ہی ساتھ اس بات کی طرف بھی لطیف اشارہ تھا کہ اس آیت سے مراد فقط قدم آگے بڑھانا ہی نہ تھا بلکہ عمل کے اعتبار سے کسی بھی مومن کا اللہ اور رسول ؐسے پیش قدمی نہ کرنا بھی ہے۔ اور اگلی تین آیتیں بھی ذو معنی ہیں۔ بطور مجموعی پہلی آیت میں فعلی اعتبار سے اور دیگر تین آیتوں میں قولی اعتبار سے مومنوں کو اسی دائرے میںمحدود رہنے کی تاکید ہے کہ جو دائرہ اللہ تعالیٰ نے تاجدارِ انبیاءؐ کی سیرت وکردار اور گفتار و رفتار کے ذریعے کھینچا ہے۔ پس یہ بات طے ہوئی کہ موجودہ دور کے یا آئندہ ادوار کے مومن و مسلمان ہر گز ہر گز سورہ حجرات کی ان ابتدائی آیات کے حکم سے مستثنیٰ نہیں ہیںاور وہ بھی اس نا قابلِ معافی گستاخی کے مرتکب ہو سکتے ہیں۔جسے اللہ تعالیٰ زیر نظر آیاتِ مبارکہ کے ذریعہ آگاہ کر رہا ہے اور اسے بچنے کی تاکیدی حکم دے رہا ہے۔
اسلام یعنی تابعداری و فرمانبرداری:
سورہ حجرات کی ان آیات کا اصل تقاضا یہ ہے کہ ہر دور کے مومن و مسلمانوں رسولِ اکرمؐ کے ہر اعتبار سے مطیع و فرمانبردار ہوں ۔یقینا فرمانبرداری اور قوانین و اصول کی پاسداری ایک ایسی نعمت ہے کہ جسے معاشرہ انتشارو انارکی کا شکار ہونے سے محفوظ رہتا ہے۔ بدیہی امر ہے کہ جس ملک و قوم کے افراد اصول و اقدار کے جس قدر پاسدار ہوں اسی قدر وہ ملک و قوم پرسکوں اور امن و امان کے مظہر ہوگا۔کیونکہ جہاں تابعداری کا فقدان ہو وہاں آپسی کشمکش،رنجش اور ٹکرائو کا پیدا ہونا ایک قدرتی بات ہے اورر معاشرتی بگاڑ کے پیچھے خودسری اور انانیت کا کافی عمل دخل ہوتاہے۔یہی وجہ ہے فرمانبرداری کا مادہ جس شخص میں نہ ہو وہ ہرگز ایک کامیاب معاشرتی انسان نہیں ہو سکتا ہے۔ دراصل حبِ ذات (یعنی اپنی ذات کے ساتھ محبت) اور حبِ جاہ یعنی اپنے تئیں شان و شوکت اور اقتدار و اختیار کی فطری طلب ہر فرد میں کم و بیش پائی جاتی ہے۔نتیجتاً ہر شخص اپنے آپ کو دیگر افراد پر مقدم جانتا ہے،اور اپنی رائے کو حرف ِ آخر ، لیکن دین اسلام اسی فطری خواہش کو بے لگام نہیں چھوڑتا بلکہ ایک مومن کو اصول و اقدار اور امیر و رہبر کے سامنے سرِ تسلیم خم کرنے کی تربیت کرتا ہے ۔ جس سے بقائے باہمی کی راہیں ہموار ہوتی ہے۔ اور لوگوں میں آپسی تعلقات مستحکم بنیاد پر قائم ہوتے ہیں۔ یہاں تسلیم و اطاعت کا ایک سلسلہ ہے جو ہر فرد بشر تک جا پہنچتا ہے اور اس حدیث رسول ؐ کے مطابق ہر مسلمان بیک وقت امیر بھی ہے اور تابع بھی ہے جس میں آپ نے فرمایا’’ الا کلکم راع و کلکم مسئول ‘‘ خبردار سن لو ! تم میں سے ہر شخص اپنی رعایا کا نگہبان ہے اور (قیامت کے دن) اس سے اپنی رعایا سے متعلق باز پرس ہو گی ۔ لہٰذا امیر جو لوگوں کا حاکم ہو وہ ان کا نگہبان ہے اس سے ان کے متعلق بازپرس ہو گی اور آدمی اپنے گھر والوں کا نگہبان ہے اس سے ان کے متعلق باز پرس ہو گی اور عورت اپنے شوہر کے گھر اسر اس کے اولاد کی نگہبان ہے اس سے ان کے متعلق پوچھا جائے گا ‘‘( سنن ابو دائود جلد سوم باب ۔۔امام پر رعایا کے حقوق لازم ہیں ، حدیث نمبر ۲۹۲۸) یعنی ہر فرد کو چھوٹے بڑے پیمانے پر بحیثیت مسئول امیری دی گئی ہے لیکن ساتھ ہی ساتھ وہ کسی کا مطیع بھی ہے۔لہٰذا رضا جوئی اور تسلیم و اطاعت فقط عوام کی زینت ہی نہیں بلکہ اصول و قوانین اور شریعت کے سامنے حکمران ،امیراور رہبر و رہنماء کی ذاتی رائے اور من مانی بے وزن ہو کر رہ جاتی ہے۔کیونکہ جہاں حاکم و امیر کو یہ گمان ہو کہ وہ اصول و اقدار اور قوانین سے بالا تر ہے اور اس کی کسی بھی غلطی اور جرم کی گرفت نہیں ہو سکتی ہے وہاں مطلق العنانیت سر اٹھاتی ہے۔ اور مطلق العنانیت چاہے سیاسی ہو یا فکری مزاجِ دین اسلام کے ساتھ ہر گز میل نہیں کھاتی۔اسلامی نظریہ حکومت و انتظام کی یہی سب سے بڑی خوبصورتی ہے کہ وہ صاحبِ اختیار و اقتدار کو بھی مطیع و فرمانبردار بناتا ہے۔ بلکہ جس مومن کو جتنی بڑی امارت و مسئولیت دی گئی ہو اسے اطاعت شعاری میں بھی اسی قدر بلند معیار اور پختہ کار ہونا لازمی ہے ۔
رابطہ نمبر:7006889184