مینڈھر//مینڈھر کا دور دراز سنگیوٹ علاقہ بنیادی سہولیات سے محروم ہے جس کی وجہ سے یہاں کے لوگوں کوشدیدمشکلات کاسامناکرناپڑرہاہے۔تفصیلات کے مطابق سنگیوٹ ،مینڈھر سے پچاس کلو میٹر کی دوری پر پڑتا ہے اور علاقہ کی سرحد راجوری سرحد پر جا کر ملتی ہے ،مذکورہ علاقہ میں سڑکیں نہ ہونے کی وجہ سے لوگوں کو کئی کلو میٹر پیدل سفر طے کرنا پڑتا ہے۔اس سلسلے میں لوگوں کا کہنا ہے کہ گذشتہ کئی سال قبل ایک سڑک کی تعمیر محکمہ تعمیرات عامہ نے شروع کروائی تھی لیکن سڑک اس وقت تک گاڑیوں کی آمدروفت کے قابل نہیں ہے جبکہ سڑک پر کچھ ہی کلو میٹر گاڑیاں چلتی ہیں اور جب بارش ہو جاتی ہے گاڑیاں بند ہو جاتی ہیں جس کے بعد وہاں پر موجود فوج سیول لوگوں کی مدد کرکے سڑک کو گاڑیوں کی آمدروفت کے قابل بناتی ہے لیکن متعلقہ محکمہ سڑک کی طرف کوئی دھیان نہیں دے رہا ہے ان کا کہنا تھا کہ علاقہ میں بجلی اور پانی کی حالت نہائت ہی خستہ ہے جبکہ بجلی کی کٹوتی کا کوئی ٹائم ٹیبل نہیں ہے اور غریب عوام متعلقہ محکمہ کو ہر مہینے سینکڑوں روپے کرایہ بھی دیتی ہے لیکن محکمہ بجلی جیسی اہم سہولیات ان کو میسر نہیں کرواتے جس کی وجہ سے بچوں کی پڑھائی پر بھی اثر پڑ رہا ہے جبکہ بغیر بجلی کئی کام ادھورے چھوڑنے پڑتے ہیں ان کا کہنا تھا کہ پانی کی سکیموں کی حالت نہائت ہی خستہ ہے اور وقت پر پانی لوگوں کو دستیاب نہیں ہوتا کیونکہ متعلقہ محکمہ کے ملازمین ڈیوٹی پر نہیں جاتے اور ہمیشہ کوتاہی برتی جاتی ہے جس کی وجہ سے لوگوں کو کئی کلو میٹر دور جا کر پانی کا بندو بست کرناپڑتا ہے لیکن محکمہ کے ملازمین ہمیشہ لاپرواہی برت رہے ہیں جس کی وجہ سے زیادہ تر سکیمیں فیل ہو چکی ہیں لوگوں کا کہنا تھا کہ سنگیوٹ علاقہ بڑی آبادی پر مشتمل ہے لیکن علاقے کی طرف نہ ہی انتظامیہ دھیان دیتی ہے اور نہ ہی ریاستی حکومت ان کا کہنا تھا کہ علاقہ کے اندر پڑھائی کا بھی بندو بست ٹھیک نہیں ہے البتہ ایک ہائی سکول موجود ہے لیکن اس وقت تک سرکار نے اس کا درجہ نہیں بڑھایا اور بچوں کو کئی کلو میٹر پید ل سفر کرکے ہائر سکنڈری سکول بھاٹہ دھوڑیاں آنا پڑتا ہے جس کی وجہ سے کئی قسم کی بچوں پریشانیوں کا سامنہ کرنا پڑتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ علاقہ کے اندر کوئی بڑا ہسپتال بھی نہیں ہے جس کی وجہ سے بیمار آدمی کو راجوری یا پونچھ جانا پڑتا ہے کیونکہ سب ضلع ہسپتال مینڈھر جانے کے لئے بھی پچاس کلو میٹر سفر کرنا پڑتا ہے جس سے لوگوں کو کئی قسم کی پریشانیوں کا سامناہے۔ انھوں نے ریاستی حکومت سے اپیل کی کہ مینڈھر تحصیل کا سنگیوٹ علاقہ دور دراز واقعہ ہے جس کی طرف دھیان دیا جائے اور لوگوں کو بنیادی سہولیات فراہم کروائی جائیں کیونکہ یہ علاقہ راجوری کی سرحد کے ساتھ ساتھ سرنکوٹ سے بھی جا کر ملتا ہے جس کی وجہ سے حکومت کی نظروں سے علاقہ اوجل ہے اور وقت پر لوگوں کو بنیادی سہلویات فراہم نہیں ہو رہی ہیں۔ انھوں نے ریاستی حکومت سے اپیل کی کہ علاقے میں بنیادی سہلویات فراہم کی جائیں تاکہ لوگوں کو کسی بھی قسم کی پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔