۔17 ؍ جنوری2019 ء کی تاریخ کا وہ اضطراب انگیز سانحہ اب ہم میں سے زیادہ لوگ شاید فراموش کر چکے ہوں گے جس نے کرب زدہ وادی کے طول وعرض میں غم و غصہ کی لہر دوڑادی ۔ اسے سانحہ کہئے یا المیہ مگر اس میں ہمارے لئے کافی عبرتیں اور موعظتیں پنہاں ہیں بشرطیکہ ہو کوئی نصیحت پکڑنے والا۔ یاد کیجئے وہ یخ بستہ دن، چلہ کلاں کی سردیاں اپنے عروج پر تھیں اور پبلک ٹرانسپورٹ تقریباً معدوم تھا۔اسی عالم ِاضطراب میں سرینگر سے 150؍ کلو میٹر دور سرحدی ضلع کپواڑہ کلاروس کی ایک حاملہ گجر خاتون کئی میل پیدل چل کر پہلے اپنے مقامی شفاخانے کا رُخ کر تی ہے تاکہ دردِزہ سے خلاصی پائے ۔ درد سے تڑپ رہی اس لاغرو غریب خاتون کو وہاں سے سرینگر کے معروف زچہ و بچہ لل دید ہسپتال ریفر کیا جاتاہے۔ زنانہ ہسپتال سری نگر کی دہلیز پر قدم رکھ کر اس کی اُمیدوں کا چراغ یہ سوچ کر روشن ہوجاتا ہے کہ اب اُسے یہاں ایڈمٹ کیا جائے گا ۔ بے شک وہ لمبے سفر کی تھکان سے نڈھال وپریشاں ہے مگر یہ خیال کر کے اپنا ٹوٹا ہوا حوصلہ سمیٹتی ہے کہ لل دید میں اپنے بچے کی پہلی چیخ سن کر تمام تھکاوٹ اُتاروں گی ، درد کی ٹیسیں مسکراہٹوں میں بدل جائیں گی، مبارک بادیوں کی گونج سے پورا گھرانہ جھوم اُٹھے گا مگر آہ ! بہت جلد اس کے خوابوں کا گھروندا ٹوٹ پھوٹ جاتا ہے جب لل دید کے اربابِ حل وعقد اُسے ہسپتال میں ایڈمٹ کر نے سے منع کر تے ہیں اور انتہائی بے رحمانہ انداز میں واپس گھر لوٹا دیتے ہیں ۔ حدیہ کہ مریضہ کی حالت ِزار سے بھی ان کا دل پسیج نہیںجاتا ، اس کی کمزور آہیں اور سسکیاں بھی ان کی پتھر دلی میں کوئی شگاف نہیں ڈالتیں ، اس غریب کے خاوند کی منتیں بھی رائیگاں جاتی ہیں ۔ چار وناچار یہ بے بس قافلہ واپس گھر کی راہ لیتا ہے مگر ہسپتال سے چند کلو میٹر دور پارمپورہ کی مسجد کے قریب کوتاہ نصیب حاملہ سرراہ ایک مردہ بچہ کو جنم دے جاتی ہے ۔ یہ کہانی جتنی دلدوز ہے ،اُتنا ہی ہماری بے رحمی اور انسانیت سے عاری فکر وعمل پرمر ثیہ کرتی ہے ۔
پھر سے ذرااس کہانی کی پرتیں کھول کر دیکھیں کہ ہمارے اندر مروت ، اُخوت اور ہمدردی کے سوتے کس قدر خشک ہوچکے ہیں ۔ واقعی ایک باضمیر اور باحس سماج پر یہ سارا قصہ ایک زور دار طمانچہ ہے مگر ہما رے حاکمانِ بالا کے لئے یہ بس ایک خبر تھی۔ غور کیجئے کہ خاتون پہلے کئی فٹ موٹی برف پیدل روند کر سب ڈسٹرکٹ ہسپتال کپواڑہ پہنچی، وہاں سے بچاری کو بے نیل و مرام لوٹاکرڈسٹرکٹ ہسپتال کپواڑہ جانے کی ہدایت ملی ، کپواڑہ پہنچی تو ڈاکٹروں نے اس کی ابتدائی طبی جانچ کے بعد اپنے شانوں سے ذمہ داری کا بوجھ جھٹک کر اُسے سرینگر روانہ کردیا ۔ کیاوہاں خاتون کی نازک حالت ،موسم کی نامہربانی اور ٹرانسپورٹ سہولیات کی عدم دستیابی کے پیش نظر مریضہ کا علاج ومعالجہ مقامی طور نہیں کیا جاسکتا تھا؟ اور جوں ہی وہ وضع ِحمل کے لئے واردِ لل دید ہوئی اور طبی عملہ کو اپنی بپتا سنائی تو کھٹور دِل لوگوں نے سنی اَن سنی کرکے اُس کو انتہائی باہر کا راستہ د کھایا۔ منت سماجت کا کون سا انداز ہے جو اس کاتوں کے شوہر اور رشتہ داروں نے نہیں اپنایا لیکن پتھر کہاںپگھلتے جو اُس وقت پگھلتے ۔حق تو یہ ہے کہ ڈاکٹری اورطبابت کا پیشہ ایک عبادت ہے اور جاں لیوا مراحل میں بھی مریض اور اس کے اعزہ واقارب کو ڈاکٹروں سے ہی بے حد اُمیدیں وابستہ ہوتی ہیں۔ بیمار اور تیمار دار اُنہیں اپنا چارہ گر اور مسیحا سمجھ کر اپنے ماں باپ اور اولاد سے زیادہ اپنا ہمدرد وغم گسار مانتے ہیں لیکن اگرطبیب وحکیم ہی ایسا منفی رویہ اختیار کر نے لگیں تو پھر کس فرد بشر کے ساتھ رحم دلی اور شفقت کی توقعات وابستہ کی جاسکتی ہیں؟ میں مانتاہوں کہ تمام ڈاکٹر اپنے پیشے کے تقاضوں سے نابلد ہیں اور نہ انسانی اقدار سے رُوگردان مگر ایک گندی مچھلی سارے تالاب کو گندا کر کے رکھ چھوڑتی ہے ۔ مجھے اپنے پچپن کا زمانہ یاد آتا ہے جب پسماندگی اور غربت کا دور دورہ تھا، لوگوں میں اشیائے ضروریہ خرید نے کی سکت نہیں تھی ،کسمپرسی اور ناداری کے ان حالات میں جب کوئی مریض کسی حکیم و طبیب کے پاس جاتا تو اُس کی نبض پر ہاتھ رکھتے ہی بیمار کے تن بدن میں سکون و راحت اور اطمینان کی لہر یں سرایت کر جاتیں اور اس کی نصف تکلیف دفعتاً نودوگیارہ ہوجاتی۔ ڈاکٹر اس سے بے تکلفی کا انداز اختیار کرلیتا ،اس کے گھر کے حالات وکوائف پوچھتا ،اس کے کسب وروزی کے بارے میں سوال کرتا، اس لئے تاکہ جو دوائی وہ تجویز کرے ،کیا وہ خریدنے کی قوت اور طاقت بیمار کے پاس یا اُس کے گھر والوں میں ہے بھی؟ اکثر الاوقات ایسا بھی دیکھا جاتا کہ حکیم صاحب خود اپنی جیب سے ان دواؤں کا بندوبست کرلیتا یا کسی اور سے کروالیتا ،مگر وا ہ حسرتا! حصولِ دولت کی دھن ہمارے سروں پر آج اس قدر سوار ہے کہ نمبر2 دوائیاں فروخت کرنے میں بھی کوئی باک نہیں اور کئی ڈاکٹر حضرات ایسی دوائیاں تجویز کرنے کے ساتھ ساتھ خاص دکانات سے ہی لینے پر مُصر نظر آتے ہیں۔ فی الوقت یہ مسئلہ ہمارا موضوعِ بحث نہیں بلکہ L.D ہسپتال میں پیش آیا جگر سوز واقعہ پر ہمیں اپنے گریباں میں جھانکنا ہے ۔ اس سانحہ نے واقعی مظالم ومصائب کے خوگر کشمیر ی معاشرہ کے اوسان خطا کردئے اور آج بھی رہ رہ کر یہ بات ذہن میں کلبلاتی ہے کہ انسان سلیم القلب نہیںبلکہ کٹھور ہو ، جذبات سے عاری پتھر ہو، حرصِ مال و زر کے ہاتھوں مردہ ضمیر ی کا پیکر ہو تو ایسے ناقابل معافی واقعات کا وقوع پذیر خارج ازامکان قرار نہیں دیا جاسکتا ۔ کہاں اسلام کا نظام ِمروت و رافت کہ مریض کی بس عیادت ہی گناہوں کی بخشش کا باعث بیان کی گئی ہے اور کہاں یہ الم ناک صورت احوال کہ نہ صرف عام مریض کے ساتھ بلکہ رحم ِمادر میں پلنے والی ننھی جان سے بھی کھلواڑ کیا جائے!!! ؎
حیران ہوں دل کو رؤں کہ جگر کو پیٹوں میں
ہم انفر ادی اور اجتماعی سطح پر اس نوع کی تکلیف دہ کہانیوں پر جہاں اشک بارہونا چاہیے، وہاں ہمیں اس بات کا بھی جائزہ لینا چاہیے کہ یہ کہانیاں ہے درمیان بنتی ہی کیوں ہیں ۔ اس بارے میںا صولی طور ہمیں یہ اعتراف بھی ہونا چاہیے کہ ہمارے زیادہ تر سرکاری شفاخانوں پر مریضوں کا زبردست دباؤ رہتا ہے، وہاں کا عملہ گویا ہمہ و قت حالتِ جنگ میں رہتا ہے ، آبادی کے تناسب کے اعتبار سے محکمہ صحت ِعامہ اور حکمران جدید سہولیاست سے لیس نئے ہسپتالوں کو تعمیر کے حوالے سے زیادہ سنجیدہ نہیں۔ عام مشاہدہ تو یہی ہے کہ ہسپتالوں میں اتنی بھیڑ لگی رہتی ہے کہ پانچ بچے شام تک اکثر ڈاکٹر مریضوں کا علاج و معالجہ کرتے نظر آتے ہیں اور ان میں قائم جانچ مراکز پر بھی مریضوں کا بھاری رَش کبھی ہوشربا ہوتا ہے۔ ضلعی اور تحصیل ہسپتالوں میں بھی اس قدر جدید سہولیات اور نئی ٹیکنالوجی میسر نہیں کہ وہاں کے مریضوں کو سرینگر Refer نہ کیا جائے۔ بالفاظ دیگر ایک افراتفری کا عالم ہے اور کوئی کسی کی نہیں سنتا۔ یہ امر بھی برحق کہ ڈاکٹر صاحبان کی تعداد مختصر مگر ورک لوڈ اتنا زیادہ کہ وہ بس سرپکڑتے رہ جاتے ہیں۔ وہ بارہا انتظامیہ کو اس حوالے سے آگاہ ضرور کرتے ہیں لیکن مشکل کشائی کا ہر وعدہ وعدۂ فردا ثابت ہوتا ہے۔ حکمرانوں کی اس بارے میں چشم پوشی بے حد تشویش ناک ہے ،اس لئے ان کی شان ِ بے نیازی کو انسانی جانوں سے ہونے والے متواتر کھلواڑ سے اُنہیں بری الذمہ قرار نہیں دیا جاسکتا ۔ یہ بات بھی دُرست مانی جاسکتی ہے کہ زچہ بچہ ہسپتالوں میںآنے والی حاملہ خواتین کو اپنی مدتِ حمل کے آغاز میں ہی ضابطے کے تحت اپنی رجسٹریشن کرانی ہوتی ہے تاکہ وہ باقاعدگی کے ساتھ وضع حمل تک ان کے یہاں زیر علاج رہیں اور احتیاط کے تمام پہلوؤں سے آگاہ بھی رہیں ۔ تب جاکر وقت ِمقررہ پر اُن کی Delivery اچھے ڈھنگ سے ہوتی ہے۔ یہاں تک تو ڈاکٹر صاحبان اور نیم طبی عملے کا اعتراض ا ورعذر صد فی صد صحیح ماناجاسکتا ہے کہ آخری مرحلے پر اچانک کوئی خاتون بنا ابتدائی رجسٹریشن کے ہسپتال میں آدھمکے تو ہم بے دست وپا ہوکر کیا کریں، جب کہ پہلے ہی ہم پر کام کا بھاری دباؤ ہو۔ جائز و معقول عذر مگر یہ بھی تو ٹھوس حقیقت ہے کہ ہمارے معاشرے میں ابھی اس قدر بیداری اور جاگرتی نہیں ، تعلیم اس قدر عام نہیں ، زچہ بچہ سے متعلق ہسپتالوں کے قواعد و ضوابط سے شہروںاور دور دراز کے سبھی لوگ یکساں طور واقف ہو نہیں سکتے، اس لئے نازک مواقع پر ہسپتالوں میں ان کی اچانک اور ہنگامی آمد ضرور مسائل پیدا کرتی ہوگی مگر یہ بھی کیا سچ نہیں کہ ان نازک مراحل میں اُنہیں واپس بھی نہیں لوٹایا جاسکتا ہے؟یہ کوئی عام تکلیف تو ہوتی نہیں کہ اگر ایک ڈاکٹر صاحب میسر نہیں تو کسی اور کے پاس جاکر مرض سے چھٹکارا پایاجائے۔ اس کے لئے تو بس چند مخصوص ومحدود مقامات ہی ہیں ، جہاں سے اگر کسی اپنی لاپروائی یا ناواقفیت کے سبب دُھتکار کر نکالا گیا تو لازماً زچہ وبچہ دونوں کی جان بھی جاسکتی ہے اور ایک خاندان ہی نہیں بلکہ اُن کے ساتھ وابستہ کئی خانوادے دائمی پریشانی اور حزن و ملال کے شکار ہوسکتے ہیں۔ اس لئے جہاں متعلقہ حکام پر لازم آتا ہے کہ وہ ڈاکٹروں کی مشکلات اور ہسپتالوں پر لمحہ لمحہ بڑھتے دباؤ کے پیش نظر خاطر خواہ ضروری اقدامات کریں وہاں ڈاکٹری جیسے عظیم پیشہ سے وابستہ حضرات کو بھی اپنے پیشے کی لاج رکھتے ہوئے ہمدردی و مروت اور ایثار کا دامن کبھی بھی نہ چھوڑنا پڑے گا اور کبھی کبھی ہنگامی حالات میں محض انسانی زندگی کے بچاؤ میں قواعد وضوابط کی گردان سے اوپر اُٹھنے میں کوئی پس وپیش نہیں ہوناچاہیے ۔، مطلب ہنگامی صورت حال میں مریضہ کو ہسپتال کے قواعد و ضوابط نہ جاننے کی کوئی کڑی سزا نہ دی جائے۔ خیر بات جس خاتون کی ہورہی ہے ممکن ہے کہ اپنے آبائی ضلع کے ہسپتال میں اپنی رجسٹریشن کرائی ہوتبھی وہ اُسےL.D ہسپتال روانہ کرتے ۔ اگر ایسا ہوا بھی نہیں ہے تو بھی کسی پسماندہ اور پریشان حال خاتون ، اس کے سادہ لوح شوہرا ور گھر والوں کے ساتھ یہ ناروا سلوک کسی طور بھی شائستہ اور شرافت والا نہیں کہلاسکتا ۔
الحمد اللہ ہم انسان ہونے کے ساتھ مسلمان بھی ہیں اور ہمارے دین مبین میں انسانی جان کی حرمت اور طب وصحت کی عظمت و نگہداشت اپنی تمام باریکیوں کے ساتھ بیان کی گئی ہے۔ سب جانتے ہیںکہ انسانی جان اور صحت کی حفاظت ہر دور کی اولین ترجیحات میں شامل رہی ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ مسلم حکمرانوں نے اس تعلق سے جو گراں قدر خدمات انجام دی ہیں وہ تاریخ کا تاب ناک گوشہ بنی ہیں۔ سیدناعمر بن خطاب ؓ کو لیجئے، حکمران بھی ایسا کہ تقریباً نصف دنیا آپؓ کے زیر نگین، لیکن رات آنکھوں میں اس لئے بے چینی میں کٹ رہی ہے کہ اس سناٹے میں کسی مظلوم و مجبور بیمار و مقروض کی صدائے دردناک کہیں سے سنائی تو نہیں دے رہی ہے!رات کی پرہول خاموشی تھی کہ خلیفۂ وقت اپنی ذمہ داریوں سے انصاف کرتے ہوئے خفیہ گشت کے معمول میں محو اور مصروف، دور سے ایک دیّا ٹمٹماٹا نظر آرہا ہے، قریب جارہے ہیں،ایک خیمہ لگا ہواہے اور ایک مسافر اُس کے باہر بیٹھا بے چینی اور کرب کا اظہار کررہا ہے۔ اندر اُ س کی بیوی درد زہ میں مبتلا ہے۔ اس نازک گھڑی میں نہ کام کی چیزیں میسر اور نہ کوئی اور خاتون جوا س خاتون کے کام آئے، سیدنا عمر فاروق ؓاور قریب جاتے ہیں۔اجنبی سے صورت حال دریافت کر تے ہیں مگر وہ ذہنی پریشانی میں بے رُخی سے آپ ؓ سے الجھ بھی جاتاہے۔ اس کی سرگزشت سمجھ کر سیدنا عمر ؓ واپس مڑجاتے ہیں ، پھر جلد ہی چشم فلک اندھیرے میں دو سائے اُبھر تے دیکھتا ہے، سیدنا عمر ؓ اپنی اہلیہ محترمہ کے ہمراہ خیمہ میں آتے ہیں، آتے ہی اُن کی شریک ِحیات چولہا چڑھا دیتی ہے ، پکتے روغن کی ہلکی ہلکی خوشبو سے ماحول پر سکون بن جاتا ہے۔ وضع ِحمل کا وقت قریب اور حکمران کی قابل ا حترام اہلیہ( آج کل کی اصطلاح میں خاتونِ اول ) دایہ کا کام بڑے شکر وامتنان سے شروع کرتی ہیں۔ چند لمحات پہلے اجنبی کے ذہن میں یہ بات آئی تھی میں سیدنا عمر ؓ کے دیار میں ہوں، لیکن کون بندۂ خدا اُنہیں میری بے چینی اور کرب سے باخبر کردے ۔ دریں اثناء یکایک خیمہ کے اندر سے آواز آتی ہے :امیر المومنین! اپنے بھائی کو خبر دیجئے کہ اللہ نے اُسے ایک بیٹا دیاہے___ خاتون کا شوہر سنتا ہے تو زمین پیروں کے نیچے سے سرکتی محسوس ہوتی ہے ، کیا واقعی یہ ہمارے امیر المومنین ہیں، جن سے میں ابھی اُلجھا تھا، بے رُخی برتی تھی ،جھگڑا کیا تھا؟ اجنبی شرمندگی کے احساس کے ساتھ کھڑا ہوجاتا ہے اور سیدنا عمر ؓ اُسے مبارک دیتے ہوئے دلاسہ دیتے ہیں: کوئی بات نہیں بھائی ،یہ تو میری ذمہ داری ہے کیونکہ داورِ محشر کی عدالت میں امور کے ذمہ داروں سے پوچھ گچھ ہوگی۔
قصہ مختصر یہ کہ ہم انسان بھی ہیں اور الحمد اللہ مسلمان بھی اور ہمارے اذہان میں یہ بات راسخ ہونی چاہئے کہ ہم جہاں بھی ہوں، انسانیت ، معذوروں ، مریضوں، مجبوروں، مقہوروں اور مصائب سے چُور ستم رسیدہ لوگوں کے لئے باعث راحت سکون ثابت ہوں، مذہب و ملت کی کسی تمیز کے بغیر ، رافت اور شفقت ہمارا شیوہ ہو اور ہمیں منافرت اور مغائرت سے دلی نفرت ہو۔ انسانیت کی خدمت ہماراشعار ہو ۔ بہر حال یہ آخرت کی جواب دہی کا گہرا احساس ہی ہے جو دونوں حاکم و محکوم اورامیر ومامور کو ایک بہتر ، انسان دوست ، رحم دل، ہمدرد فرد بنا سکتا ہے۔
رابطہ :9419080306