سرینگر// واجب الادا رقومات کی واگزاری اور ٹھیکیداروں کے دستاویزات کی تجدید کا مطالبہ کرتے ہوئے سنٹرل کنٹریکٹرس کارڈی نیشن کمیٹی نے متنبہ کیا کہ اگر واجبات کی ادائیگی نہیں ہوئی تو سابق وزراء اور قانون سازیہ ارکان کے گھروں کا گھیرائو کیا جائے گا۔ ہفتہ کو پریس کلب کے متصل سرینگر کے ایسٹیٹس ڈویژن میں بیداری مہم کے تحت منعقدہ جلسہ کے بعد پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کارڈی نیشن کمیٹی کے جنرل سیکریٹری فاروق احمد ڈار نے کہا’’ رقومات کی عدم ادائیگی کیلئے انتظامی افسر یہ جواز دیتے ہیںکہ یہ کام سابق سرکاروں کے دوران ہوا ہے۔‘‘ انہوں نے کہا کہ اگر چہ یہ جواز غیر منطقی ہے تاہم ٹھیکیداروں نے نیشنل کانفرنس اور کانگریس کی مخلوط سرکار کے علاوہ پی ڈی پی اور بی جے پی کی مخلوط سرکار کے دوران جو تعمیراتی کام کئے،اس پر اس وقت کے وزراء،قانون سازیہ ارکان نے ووٹ بٹورے تاہم آج وہ اس معاملے میں کوئی بھی لب کشائی نہیں کر رہے ہیں۔ ڈار نے کہا کہ اگر ٹھیکیداروں کے واجبات کی ادائیگی نہیں کی گئی تو ان کے پاس سابق وزراء اور قانون سازیہ ارکان کے گھروں کا گھیرائو کرنے کے علاوہ اور کوئی چارہ نہیں ہے۔ ڈار نے کہا کہ انجینئروں کی یہ دلیل غیر منطقی ہے کہ ان کے وقت میں یہ تعمیراتی کام نہیں ہوا ہے اور وہ اس کا انتظامی اکارڈ نہیں دیں سکتے،تاہم انہوں نے کہا کہ نا ہی اس دلیل میں کوئی وزن ہے اورنہ اس کا جواز ہے،کیونکہ ٹھیکیدار کسی شخص یا افسر پر اعتبار نہیں کرتے بلکہ کرسی کا اعتبار کرتے ہیں۔ ڈار نے کہا کہ فی الوقت600کروڑ روپے کے واجبات سرکار کے پاس ہیںاور انہیں واگزار کرنے میں لعت و لیل کیا جا رہا ہے۔ اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ انجینئر انتظامی معاہدوں کی آڑ میں تعمیراتی ٹھیکیداروں کی رقومات کو بے جا انداز میں التواء میں رکھ رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ اس سلسلے میں سابق فائنانشل کمشنر خزانہ ارون مہتا نے احکامات جارے کئے تھے،جس میں انہوں نے رقومات کی واگزاری کی ہدایت دی تھی۔ کارڈی نیشن کمیٹی کے جنرل سیکریٹری نے10لاکھ روپے سے کم تعمیراتی کاموں کو ای ٹینڈرنگ سے مستثنیٰ رکھنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ10برسوں سے ٹھیکیدار اس کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ٹھیکیداروں کے کارڈوں کی تجدید (رینول) فوری طور پر کی جانی چاہے کیونکہ اس میں تاخیر سے ٹھیکیدار ٹینڈرنگ عمل میں حصہ لینے سے رہ جاتے ہیں۔ اس موقعہ پر سینٹرل کانٹریکٹرس کارڈی نیشن کمیٹی کے سیکریٹری ارشد احمد بٹ، جاوید احمد زرگر، شیخ جاوید،عبدالخالق ینگورہ،فاروق احمد،عمر جاوید،طارق مشتاق،بلال احمد اور دیگر عہداروں کے علاوہ ٹھیکیداروں کی کافی تعداد موجود تھی۔