کشتوار //خطہ چناب کو وادی کشمیر سے جوڑنے والی کشتواڑ اننت ناگ شاہرہ گزشتہ چارماہ سے گاڑیوں کی آمد ورفت کیلئے بند بڑی ہے۔ ضلع کے مڑواہ ،واڑون کی عوام نے سڑک کی جلد بحالی کی مانگ کی ہے۔ کشمیر عظمیٰ سے بات کرتے ہوے لوگوں نے کہا کہ انہیں ضلع ہیڈکواٹر تک پہنچنے کیلئے 300سے زائد کلو میٹر کا سفر کرنا پڑتا ہے ۔انہوں نے کہا کہ اگر سنتھن ٹاپ کو کھولاجاتا تو انکی مشکلات میں کمی ہوتی اور وہ کئی گھنٹوں تک جام میں پھنسنے سے بچ جاتے۔واضح رہے کہ اس وقت مڑواہ ،واڑون کی عوام کو بٹوت ، بانہال و اننت ناگ سے ہوکر واڑون و مڑواہ پہنچنا پڑتا ہے جبکہ کشتواڑ کی عوام کو بھی بٹوت بانہال سے ہوکر کشمیرکا رخ کرنا پڑتاہے۔علاقے کے معزز شہریوں کے مطابق انہیں اگر کسی مریض کو سرینگر کے ہسپتالوں تک پہنچنا ہوتا ہے، تو انہیں سخت دشواریاں پیش آتی ہیں ۔انہوں نے کہا کہ اکثر یہاں کے مریض طبی امداد نہ ملنے کی وجہ سے دم بھی توڑ دیتے ہیں اگر اس شاہراہ کو گاڑیوں کی آمد ورفت کیلئے وقت پر کھول دیا جائے تو مریضوں کو وقت پر ہسپتالوں تک پہنچایا جا سکتا ہے ۔ کشتواڑ ،ڈوڈہ ، بھدرواہ کی عوام اس سڑک پر سفر کرنے کو پہلی ترجیحی دیتے ہیں ۔اس سڑک پر ٹریفک جام کا کوئی مسئلہ نہیں رہتا ۔جہاں امسال یہ سڑک مارچ مہینے میں آمدورفت کیلئے بحال ہونے کا امکان تھا تاہم موسمی صورتحال خراب رہنے کے سبب اب سڑک کی بحالی میں مزید کچھ وقت لگ سکتا ہے ۔ حکام کا کہنا ہے کہ برف ہٹانے کا کام مسلسل جاری ہے اور موسم سازگار ہونے کی صورت میں ایک ہفتہ کے اندر اندر شاہراہ کو ٹریفک کی آمد ورفت کیلئے بحال کر دیا جائے گا ۔