کشتواڑ//ڈویژنل کمشنر جموں کے کشتواڑ دورے کے پیش نظر ڈی ڈی سی ممبر مڑواہ نے کہا کہ اگر سنتھن شاہرہ کو کل شام تک نہ کھولا گیا تو وہ ضلع ترقیاتی کمشنر کے دفتر کے باہر احتجاج کریں گے۔ منی سیکریٹریٹ کے احاطے میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ڈویژنلکمشنر کا کشتواڑ دورہ خوش ا آئندہے لیکن ستم ظریفی یہ ہے کہ مڑواہ و واڑون کی عوام کوضلع ہیڈکوارٹر آنے کیلئے گھنٹوں کا سفر دنوں میں طے کرنا پڑرہا ہے۔ انھوں نے کہا کہ سینکڑوں کی تعداد میں مزدور باہر سے آکر کشتواڑ میں کام کررہے ہیں تو کیونکر انھیں اپنے ہی ضلع میں آنے سے محروم رکھا جارہا ہے۔انھوں نے ابھی تک کئی مرتبہ ضلع انتظامیہ و جموں کشمیر انتظامیہ سے رابطہ کرکے اس سڑک کے کھولنے کی مانگ کی لیکن اس پر کوئی توجہ نہیں دی جارہی ہے جس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ ڈی ڈی سی ممبران کو دکھائے گئے خواب جھوٹے تھے۔انھوں نے کہا کہ انھیں اس وقت سنتھن شاہراہ کی سخت ضرورت ہے اور اسے جلد کھولاجانا چاہئے۔ انھوں نے ضلع ترقیاتی کمشنر سے مانگ کہ آلوفارم کے مقام پر پولیس و طبی ماہرین کی ٹیم کو رکھا جائے اور ہر آنے و جانے والے کی ٹیسٹنگ کی جانی چاہئے اور مکمل ایس او پی کے تحت گاڑیوں کی چلنے کی اجازت دی جانی چاہئے تاہم شاہراہ کو بحال کیاجائے۔اس دوران پی ڈی پی کے ریاستی سیکریٹری اورڈوڈہ و کشتواڑکے انچارج شیخ ناصر حسین نے کہا کہ اس وقت جو حالات کشتواڑ میں ہے اور ضلع ترقیاتی کمشنر ہر ممکنہ کوشش کرہے ہیں لیکن طبی سہولیات کا فقدان ضلع ہسپتال کشتواڑ میں ہے جبکہ طبی نظام مکمل طور درہم برہم ہوچکا ہے۔انہوں نے کہاکہ ابھی تک ضلع ہسپتال کشتواڑ کا آکسیجن پلانٹ غیرفعال ہے جبکہ وینٹی لیٹر بھی بے کار پڑے ہوئے ہیں اور جولوگ اس وقت وائرس سے متاثر ہورہے ہیں انھیں جموں یا پھر سرینگر کے ہسپتالوں کا رخ کرنا پڑتاہے جبکہ اہم سنتھن شاہراہ کو ہنوز بند رکھا گیا ہے۔شیخ ناصرنے کہا کہ اگرچہ امید کی جارہی تھی کہ مارچ کے مہینے میں اس سڑک کو آمدرفت کیلئے کھولا جائے گالیکن نامعلوم وجوہات کی بناپر اسے بند رکھا جارہا ہے اور جب انتظامیہ سے سوالات پوچھے جاتے ہیں تو طرح طرح کے بہانے بنائے جاتے ہیں۔ ان کا کہناتھا کہ انتظامیہ ایک ہی ضلع کے اندر سڑکیں بند کئے ہوئے ہے،یہاں کی عوام اتنی ناسمجھ نہیں ہے، ہمیں معلوم ہے کہ پس پردہ کچھ اور ہے اور یہ ایک سازش ہورہی ہے کہ علاقہ کو کشمیر سے نہ جوڑاجاسکے۔انہوںنے ڈویژنل کمشنر جموںسے گزارش کی کہ وہ اس سڑ ک کو جلد از جلد کھلوانے کے احکامات جاری کریں اور ضلع ہسپتال کے اندر ہر ممکنہ سہولیات فراہم کریں بصورت دیگر وہ سڑکوں پر آکر احتجاج کریں گے۔