حال و احوال
شفیع نقیب
پانی اللہ تعالیٰ کی عظیم نعمت اورزندگی کی علامت ہے اور جب قدرت کا توازن بگڑ جائے تو یہی پانی آزمائش بن کر بستیاں اُجاڑ دیتا ہے۔ گزشتہ چند روز سے جموں و کشمیر، بالخصوص جموں خطہ، مسلسل موسلا دھار بارشوں، سیلابی ریلوں اور لینڈ سلائیڈنگ کی لپیٹ میں ہے۔ راجوری، پونچھ، ڈوڈہ، ریاسی اور دیگر پہاڑی اضلاع سے آنے والی خبریں ہر درد مند انسان کو غمزدہ کر رہی ہیں۔ کئی قیمتی جانیں ضائع ہوئیں، بے شمار افراد زخمی ہوئے، رہائشی مکانات اور کاروباری مراکز تباہ ہوئے، مویشی بہہ گئے، سڑکیں منقطع ہو گئیں اور درجنوں خاندان کھلے آسمان تلے زندگی گزارنے پر مجبور ہو گئے۔قدرتی آفات کے سامنے انسان کی بے بسی اپنی جگہ ایک حقیقت ہے، لیکن ایک مہذب معاشرہ اس وقت پہچانا جاتا ہے جب وہ مشکل کی گھڑی میں اپنے متاثرہ شہریوں کے ساتھ کھڑا ہو۔ خوش آئند امر ہے کہ حکومت نے فوری طور پر راحت رسانی کے اقدامات شروع کئے، وزیر اعلیٰ نے متاثرہ خاندانوں سے اظہارِ افسوس کیا، ہر ممکن امداد کی یقین دہانی کرائی، ضلعی انتظامیہ، پولیس، ایس ڈی آر ایف، این ڈی آر ایف، محکمہ صحت، فائر اینڈ ایمرجنسی سروسز اور دیگر اداروں کو متحرک کیا گیا۔ آج بھی پونچھ میں لاپتہ افراد کی تلاش جاری ہے اور دشوار گزار علاقوں میں امدادی کارکن اپنی جانوں کو خطرے میں ڈال کر انسانی خدمت انجام دے رہے ہیں۔ یہ جذبہ قابلِ تحسین ہے اور پوری قوم ان اہلکاروں کو سلام پیش کرتی ہے۔
لیکن سوال یہ ہے کہ کیا ہر سال یہی منظرنامہ دہرایا جاتا رہے گا؟ کیا ہماری ذمہ داری صرف آفت آنے کے بعد امدادی کیمپ قائم کرنے تک محدود رہے گی، یا ہم ان بنیادی اسباب کا بھی علاج کریں گے جو ہر بار تباہی کو دعوت دیتے ہیں؟اس بار صرف پہاڑی اضلاع ہی متاثر نہیں ہوئے بلکہ وادی کشمیر کا سب سے بڑا شہر، سرینگر، بھی چند گھنٹوں کی بارش کے بعد پانی میں ڈوب گیا۔ لال چوک، بچھوارہ، ڈل گیٹ، بلیوارڈ روڈ، جے وی سی اسپتال، پائین شہر اور متعدد رہائشی و تجارتی علاقے ایک وسیع آبی منظر پیش کرنے لگے۔ دکانوں میں پانی داخل ہوا، گھروں کو نقصان پہنچا، گاڑیاں پانی میں پھنس گئیں، سیاح حیران رہ گئے اور شہری شدید پریشانی سے دوچار ہوئے۔یہ کوئی غیر معمولی واقعہ نہیں۔ ہر سال برسات کے موسم میں یہی صورتِ حال سامنے آتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ شہری بجا طور پر سوال کر رہے ہیں کہ اگر سرینگر کو “سمارٹ سٹی” بنانے پر اربوں روپے خرچ کئے جا رہے ہیں تو پھر نکاسی آب کا نظام اتنا کمزور کیوں ہے کہ چند گھنٹوں کی بارش پورے شہر کو مفلوج کر دیتی ہے؟ کیا جدید شہری منصوبہ بندی کا مطلب صرف سڑکوں کی خوبصورتی، فٹ پاتھوں کی تعمیر اور برقی روشنیوں کی تنصیب ہے یا اس کا اصل مقصد شہریوں کو محفوظ اور باوقار زندگی فراہم کرنا بھی ہے؟
سرینگر میونسپل کارپوریشن کے کمشنر نے اعتراف کیا کہ بارش کی شدت موجودہ ڈرینیج نظام کی گنجائش سے زیادہ تھی، ساٹھ سے زائد واٹر لاگنگ ہاٹ اسپاٹس کی نشاندہی کی گئی ہے، پمپنگ اسٹیشن اور موبائل پمپ مسلسل کام کر رہے ہیں اور کنٹرول روم چوبیس گھنٹے فعال ہے۔ یہ اقدامات یقیناً ضروری ہیں، لیکن ان سے ایک بنیادی حقیقت بھی سامنے آتی ہے کہ شہر کا موجودہ ڈرینیج نظام موسمیاتی تبدیلی کے نئے تقاضوں کے مطابق ازسرِ نو ترتیب دینے کی ضرورت رکھتا ہے۔اصل مسئلہ صرف نکاسی آب نہیں بلکہ ہماری مجموعی منصوبہ بندی بھی ہے۔ گزشتہ دو دہائیوں میں آبادی میں اضافہ ہوا، زرعی زمینیں تیزی سے کنکریٹ کے جنگل میں تبدیل ہوئیں، قدرتی نالے سکڑ گئے، برساتی پانی کے قدرتی راستے بند ہوتے گئے، جھیلوں اور آبی ذخائر پر دباؤ بڑھا اور بے ہنگم تعمیرات نے قدرتی توازن کو متاثر کیا۔ ایسے حالات میں اگر شدید بارش ہو تو پانی آخر جائے کہاں؟اس سے بھی زیادہ تشویش ناک صورتحال پہاڑی علاقوں کی ہے۔ راجوری، پونچھ اور ڈوڈہ میں کئی رہائشی مکانات اور کاروباری مراکز ایسے مقامات پر تعمیر کئے گئے جہاں برساتی نالے صدیوں سے بہتے آئے ہیں۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ان تعمیرات کی اجازت کس نے دی؟ کیا تعمیراتی قوانین پر عمل درآمد ہو رہا ہے؟ کیا متعلقہ ادارے اپنی ذمہ داری پوری کر رہے ہیں؟ اگر قدرتی آبی گزرگاہوں پر تعمیرات کی اجازت دی جائے گی تو سیلابی ریلے اپنا راستہ خود بنائیں گے اور نقصان آخرکار انسان ہی کو اٹھانا پڑے گا۔
اس تمام منظرنامے کا ایک اور پہلو بھی ہے جسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا، اور وہ ہے ’’موسمیاتی تبدیلی‘‘۔ آج دنیا بھر میں بارشوں کے انداز بدل رہے ہیں، گلیشیر تیزی سے پگھل رہے ہیں، درجہ حرارت میں اضافہ ہو رہا ہے اور شدید موسمی واقعات پہلے سے زیادہ عام ہو چکے ہیں۔ جموں و کشمیر بھی اس عالمی تبدیلی سے محفوظ نہیں۔ کبھی بے وقت برفباری، کبھی غیر معمولی گرمی، کبھی خشک سالی اور اب چند گھنٹوں میں مہینوں جتنی بارش اسی بدلتے ہوئے موسمی نظام کی نشانیاں ہیں۔ماہرین موسمیات مسلسل خبردار کر رہے ہیں کہ اگر جنگلات کی بے دریغ کٹائی، آبی ذخائر پر تجاوزات، غیر سائنسی تعمیرات اور ماحول دشمن ترقیاتی منصوبوں کا سلسلہ جاری رہا تو مستقبل میں ایسے واقعات کی شدت مزید بڑھ سکتی ہے۔ افسوس یہ ہے کہ ہم اکثر قدرت کے انتباہ کو حادثہ سمجھ کر بھلا دیتے ہیں، حالانکہ ہر آفت ہمیں اپنی اصلاح کا ایک موقع بھی دیتی ہے۔
دیر نہ کریں،اب وقت آ گیا ہے کہ حکومت، ماہرینِ ماحولیات، انجینئرز، شہری منصوبہ ساز، جامعات اور عوام ایک مشترکہ حکمتِ عملی اختیار کریں۔ سب سے پہلے سرینگر اور دیگر شہروں کے ڈرینیج نظام کا آزاد تکنیکی آڈٹ ہونا چاہئے۔ برساتی پانی کے قدرتی راستوں کی بحالی، جدید اسٹورم واٹر ڈرینج، بارش کے پانی کو ذخیرہ کرنے کے منصوبے، پمپنگ اسٹیشنوں کی استعداد میں اضافہ، جدید مشینری کی فراہمی اور عملے کی تربیت ناگزیر ہے۔اسی طرح پہاڑی اضلاع میں لینڈ سلائیڈنگ اور سیلاب کے خطرے والے علاقوں کی ازسرِ نو نقشہ بندی کی جائے۔ ندی نالوں، دریاؤں اور برساتی گزرگاہوں کے کنارے نئی تعمیرات پر مکمل پابندی عائد کی جائے۔ غیر قانونی تجاوزات کے خلاف بلاامتیاز کارروائی ہو۔ جنگلات کے تحفظ کو ترقیاتی منصوبوں کا لازمی جزو بنایا جائے۔ اسکولوں، کالجوں اور مقامی کمیونٹی کو قدرتی آفات سے نمٹنے کی تربیت دی جائے، تاکہ ہر شہری خود بھی اپنی اور دوسروں کی مدد کر سکے۔اس کے ساتھ ساتھ متاثرہ خاندانوں کی بحالی کو صرف مالی امداد تک محدود نہ رکھا جائے۔ جن لوگوں نے اپنے گھر، روزگار اور عزیز کھوئے ہیں، انہیں مستقل رہائش، روزگار کی بحالی، بچوں کی تعلیم اور نفسیاتی معاونت بھی فراہم کی جائے۔ یہی ایک ذمہ دار اور فلاحی حکومت کااولین اخلاقی فرض ہے۔اس گھمبیر صورت حال باوجود ہمیں اعتراف ہے کہ جو ادارے دن رات امدادی سرگرمیوں میں مصروف ہیں، ان کی خدمات قابلِ قدر ہیں،لیکن اس کے ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ پالیسی سازی کے مرحلے پر دیانت داری سے اپنی کمزوریوں کا اعتراف کیا جائے۔ جو شہر اور بستیاں آج پانی میں ڈوب رہی ہیں، اگر ان کے مسائل کا مستقل حل نہ نکالا گیا تو کل شاید نقصان اس سے کہیں زیادہ ہو۔
جموں و کشمیر قدرت کی بے مثال نعمتوں سے مالا مال ہے۔ یہاں کے دریا، جھیلیں، جنگلات اور پہاڑ ہماری شناخت ہیں۔ اگر ہم نے انہیں محفوظ رکھا تو یہی وسائل ہماری آنے والی نسلوں کی خوشحالی کی ضمانت بنیں گے، لیکن اگر ہم نے انہیں صرف تجارتی مفادات کی نذر کر دیا تو پھر قدرت اپنا حساب خود لے گی اور اس حساب میں سب سے زیادہ نقصان انسان ہی کا ہوگا۔ ضرورت اس بات کی نہیں کہ بارش رکنے کا انتظار کیا جائے، بلکہ اس بات کی ہے کہ غفلت ٹل جائے، بے ہنگم تعمیرات رک جائیں، جنگلات کی کٹائی رک جائے، ناقص منصوبہ بندی پر روک لگے اور وہ سوچ ترک کی جائے جو ہر حادثے کے بعد چند روز افسوس کرتی ہے اور پھر سب کچھ فراموش کر دیتی ہے۔اگر آج ہم نے اپنی ذمہ داریوں کا احساس کر لیا، سائنسی منصوبہ بندی کو اپنایا، ماحولیات کے تحفظ کو قومی ترجیح بنایا اور عوامی مفاد کو ہر فیصلے پر مقدم رکھا، تو یقیناً آنے والی بارشیں رحمت بن کر برسیں گی، زحمت نہیں۔
رابطہ:9622555263
email:[email protected]