سماجی قبولیت اور بنیادی حقوق تک رسائی میں مشکلات،قانونی تحفظ موجود لیکن عملدر آمد نہیں
بلال فرقانی
سرینگر// جموں کشمیر میںسرکار کی جانب سے خواجہ سرائوں کی بہبود و حقوق کے تحفظ کیلئے بورڑ کا قیام عمل میں لانے کے باوجود ’مخنث ‘ بدستور سماج کے حاشیہ پر زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ انہیں امتیازی سلوک، بے روزگاری، تعلیمی پسماندگی اور سرکاری خدمات تک رسائی میں شدید رکاوٹوں کا سامنا ہے، حالانکہ ٹرانس جینڈر پرسنز (تحفظ حقوق) ایکٹ 2019 اور آئینی تحفظات موجود ہیں۔ 2011 کی مردم شماری کے مطابق جموں و کشمیر میں خواجہ سرا آبادی 4,137 افراد پر مشتمل ہے، جبکہ شرح خواندگی صرف 49.29 فیصد ہے، جو اس طبقے کی سماجی و معاشی کمزوری کو ظاہر کرتی ہے۔ تاہم خواجہ سرائوں کا کہنا ہے کہ اصل آبادی اس سے کئی گناہ زیادہ ہے ۔ سرکاری ریکارڈ کے مطابق اس سے کہیں کم افراد نے خود کو محکمہ سماجی بہبود کے ساتھ رجسٹر کرایا ہے، جس کی وجہ خواجہ سرا افراد کا خوف، بدنامی اور امتیاز ی سلوک سے بچنے کی کوشش بتائی جاتی ہے۔
تحقیق
کشمیر یونیورسٹی شعبہ قانون کی حالیہ تحقیق’’خواجہ سرا برادری کو سماجی قبولیت اور بنیادی حقوق تک رسائی میں مشکلات‘‘ کے مطابق تعلیم کے شعبے میں خواجہ سرائوں کی تعداد انتہائی تشویشناک ہے۔ تقریباً 70 فیصد افراد یا تو ناخواندہ ہیں یا صرف12ویں جماعت تک تعلیم حاصل کر سکے ہیں۔ صرف 15 فیصد گریجویٹ ہیں جبکہ مزید 15 فیصد کے پاس جزوی تعلیمی قابلیت ہے۔ کئی افراد نے بتایا کہ سکولوں میں بدسلوکی کے باعث انہیں تعلیم ادھوری چھوڑنی پڑی ہے۔شہر کے مضافاتی علاقے سے تعلق رکھنے والے ایک مخنث،جو خود کو نازو،کہتی ہیں نے کہا’’جیسے ہی میں نے اپنی شناخت کو سمجھنا شروع کیا، سکول میں اذیت ناک رویہ شروع ہو گیا اوریہ ناقابلِ برداشت تھا۔‘‘معاشی سطح پر بھی حالات نہایت سنگین ہیں۔ تقریباً 75 فیصد خواجہ سرا بے روزگار ہیں۔ قریب 20 فیصد بھیک مانگنے یا غیر محفوظ ذرائع معاش پر مجبور ہیں، جبکہ صرف 5 فیصد کو باضابطہ ملازمت حاصل ہے۔
وادی کی صورتحال
کشمیر میں خواجہ سرا شادی بیاہ میں گانے، ناچنے اور رشتے کرانے کے ذریعے روزگار حاصل کررہے تھے۔ظریف احمد ظریف کے مطابق یہ روایت چودھویں صدی سے چلی آ رہی ہے، مگر ڈی جیز، بینڈز اور جدید تفریحی ذرائع کی آمد کے بعد یہ روزگار تقریباً ختم ہو چکا ہے۔نازوکے مطابق ’’لوگ اب خواتین گلوکاروں یا بینڈز کو بلاتے ہیں، ہمارے لیے کوئی موقع نہیں بچا۔‘‘تحقیق کے مطابق اکثر خواجہ سرا افراد کی ماہانہ آمدنی 6 ہزار سے 20 ہزار روپے کے درمیان ہے، جو مہنگائی کے موجودہ دور میں ناکافی ہے۔ بزرگ خواجہ سرا افراد خاص طور پر زیادہ متاثر ہیں کیونکہ اکثر کو وراثتی جائیداد سے بھی محروم رکھا جاتا ہے اورسماجی امتیاز بھی شدید ہے۔ڈلگیٹ میں کرایہ کے ایک کمرے میں رہائش پذیر شادیاں کرنے والے خواجہ سرا’’ ببلو‘‘ نے بتایا کہ انہیں روزمرہ زندگی میں تضحیک، ہراسانی اور نفرت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ امتیاز کا آغاز اکثر گھروں سے ہوتا ہے، جہاں خاندان خواجہ سرا بچوں کی شناخت چھپانے کی کوشش کرتے ہیں اور انہیں روایتی صنفی کردار اپنانے پر مجبور کیا جاتا ہے، جس سے نفسیاتی دباؤ اور صدمے جنم لیتے ہیں۔ببلو نے ٹرانس جینڈر قوانین کے نفاذ پر عدم اطمینان کا اظہار کیا۔سرکاری خدمات تک رسائی بھی ایک بڑا مسئلہ ہے۔ قریب 70 فیصد افراد کو آدھار کارڈ، ووٹر آئی ڈی اور دیگر دستاویزات حاصل کرنے میں مشکلات پیش آتی ہیں، جس کے باعث وہ فلاحی سکیموں سے محروم رہتے ہیں۔صحت کے شعبے میں بھی صورتحال مایوس کن ہے۔ خواجہ سرا ئوں کا ماننا ہے کہ انہیں صنفی حساس طبی سہولیات میسر نہیں ہیں اور بعض کو ڈاکٹروں کے امتیازی رویے کا بھی سامنا کرنا پڑتا ہے۔ایل جی بی ٹی حقوق کے کارکن ڈاکٹر اعجاز احمد بْند کا کہنا ہے کہ خواجہ سرا ئوں کو خاندانوں سے نکال دیا جاتا ہے، روزگار سے محروم رکھا جاتا ہے، عبادت گاہوں میں داخلے سے روکا جاتا ہے اور بعض اوقات تدفین تک کی اجازت نہیں دی جاتی۔ ان کی کتاب’’کشمیر کے خواجہ سرا، ایک حاشیہ پر دھکیلی گئی شناخت‘‘(Hijras of Kashmir:A Marginalized Form of Personhood) کو بھی سخت تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔ حبہ کدل میں رہائش پذیر ایک خواجہ سرا ڈیزی نے کہا’’ایسا لگتا ہے جیسے حکومت اور سماج چاہتے ہیں کہ ہم زمین سے مٹ جائیں‘‘۔ ایڈوکیٹ اعجاز احمد ڈار کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ کے 2014 کے تاریخی فیصلے (نلسا کیس) کے تحت خواجہ سرا افراد کو ’’تیسری جنس‘‘ تسلیم کیا گیا ہے، مگر زمینی حقیقت یہ ہے کہ قانونی شناخت ابھی تک سماجی قبولیت اور عملی تحفظ میں تبدیل نہیں ہو سکی۔سرکار نے گزشتہ ہفتہ کو ایک حکم نامہ جاری کیا جس میں کہا گیا’’ٹرانس جینڈر پرسنز (تحفظ حقوق) رولز 2020 کے تحت یہ حکم دیا جاتا ہے کہ مرکزی زیر انتظام علاقہ جموں و کشمیر میں خواجہ سرا افراد کو شناختی سرٹیفکیٹ کے اجرا سے متعلق کسی بھی شکایت یا اپیل کی صورت میں ڈویژنل کمشنر جموں اور ڈویڑنل کمشنر کشمیر اپیلیٹ اتھارٹی ہوں گے۔‘‘
ماہرین
کشمیر یونیورسٹی میں شعبہ سوشیالوجی کے سابق سربراہ پروفیسر پیرزادہ محمد امین کے مطابق ’’ایل جی بی ٹی اور بالخصوص خواجہ سرا ئوں کی فلاح و بہبود کو قدرتی اور آئینی حقوق کے دائرے میں یقینی بنانا ریاست اور سماج دونوں کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ ‘‘ انہوںنے کہا کہ خواجہ سرا انسانی معاشرے کا اٹوٹ حصہ ہیں اور ان کے ساتھ امتیازی سلوک کا خاتمہ ایک آئینی و اخلاقی تقاضا ہے۔ ماہرِ نفسیات ڈاکٹر عارف حسین نے کہا’’خواجہ سرا ئوںکو سب سے زیادہ نقصان سماجی ردِ عمل اور خاندانوں کے مسترد کیے جانے سے ہوتا ہے۔‘‘ ان کا کہنا تھا کہ مسلسل تضحیک، اور تنہائی انہیں ذہنی دبائو، اور خود اعتمادی کی شدید کمی کی طرف دھکیل دیتی ہے اور یہ کوئی ذہنی بیماری نہیں بلکہ سماج کا رویہ اصل مسئلہ ہے۔