جاوید اقبال
مینڈھر// سعودی عرب میں روزگار کے سلسلے میں مقیم جمّوں و کشمیر کے خطہ پیر پنجال سے تعلق رکھنے والے ہزاروں مزدور پیشہ افراد اس وقت شدید مشکلات سے دوچار ہیں۔ متاثرہ افراد کا کہنا ہے کہ پاسپورٹ ویریفکیشن کے عمل میں غیر معمولی تاخیر کی وجہ سے ان کی زندگی اجیرن بن چکی ہے۔ مزدوروں کے مطابق نئے پاسپورٹ کے اجرا کے لئے بھیجی جانے والی ویریفکیشن چھ چھ ماہ تک مکمل نہیں ہو پاتی، جس کے نتیجے میں نہ انہیں بروقت اقامہ ملتا ہے اور نہ ہی ملازمت کو قانونی طور پر جاری رکھنا ممکن ہو پاتا ہے۔متاثرہ مزدوروں نے بتایا کہ سعودی عرب میں کام کرنے والے بیشتر افراد محدود آمدنی پر اپنے اہل خانہ کی کفالت کرتے ہیں، لیکن پاسپورٹ اور اقامہ کے مسائل نے ان کی روزمرہ زندگی کو شدید متاثر کر دیا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ جب پاسپورٹ کی میعاد ختم ہو جاتی ہے تو بھارتی سفارت خانہ نئے پاسپورٹ کے اجرا کیلئے متعلقہ ریاستی حکام کو ویریفکیشن بھیجتا ہے، تاہم جمّوں و کشمیر میں اس عمل میں غیر ضروری تاخیر کے باعث مزدور مہینوں انتظار کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔مزدوروں نے کہا کہ اقامہ نہ ہونے کی صورت میں کمپنیوں کی جانب سے تنخواہیں روک دی جاتی ہیں اور کئی مرتبہ ملازمت ختم ہونے کا خدشہ بھی پیدا ہو جاتا ہے۔ اس کے علاوہ قانونی پیچیدگیاں بڑھنے سے انہیں پولیس اور دیگر سرکاری اداروں کے سوالات کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے۔ متاثرین کے مطابق اقامہ کے بغیر بینک اکاؤنٹ، طبی سہولیات اور دیگر بنیادی ضروریات کا حصول بھی مشکل بن جاتا ہے، جس سے ذہنی دباؤ میں اضافہ ہو رہا ہے۔اس حوالے سے سرحدی تحصیل بالاکوٹ سے تعلق رکھنے والے سماجی کارکن ظہیر خان نے کہا کہ بیرونِ ملک محنت مزدوری کرنے والے افراد ملک و ریاست کی معیشت میں اہم کردار ادا کرتے ہیں، لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ انہی مزدوروں کو بنیادی سرکاری عمل میں تاخیر کی وجہ سے شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاسپورٹ ویریفکیشن کے عمل میں شفافیت اور تیزی لانے کی اشد ضرورت ہے تاکہ مزدور بروقت اپنے دستاویزات مکمل کر سکیں۔ظہیر خان نے لیفٹیننٹ گورنر انتظامیہ، پاسپورٹ حکام اور پولیس انتظامیہ سے اپیل کی کہ بیرونِ ملک مقیم مزدوروں کے مسائل کو انسانی بنیادوں پر حل کیا جائے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ متعلقہ دفاتر کو سخت ہدایات جاری کی جائیں تاکہ پاسپورٹ ویریفکیشن مقررہ وقت میں مکمل ہو سکے اور سعودی عرب سمیت دیگر ممالک میں مقیم مزدوروں کو قانونی، مالی اور روزگار سے متعلق مشکلات سے نجات مل سکے۔