جموں و کشمیر میں 20 ضلعی ترقیاتی کونسلوں کے لئے چیئر پرسن اور ڈپٹی چیئر پرسنوں کے انتخابا ت کا پہلا مرحلہ پایہ تکمیل تک پہنچ چکا ہے جس میں دو پر بی جے پی حسب توقع کنٹرول حاصل کر چکی ہے اور سرینگر و شوپیاں کے بہت ہی اہم ضلع ترقیاتی کونسلوں پر سید الطاف بخاری کی ’’اپنی پارٹی ‘‘نے اپنے جھنڈے لہرائے ہیں ، الائنس نے کولگام ضلع ترقیاتی کونسل میں ڈپٹی چیئر پرسن کا منصب حاصل کیا ہے ۔یہاں سی پی آئی ایم کے امیدوار کو مشترکہ طور پر چیئرپرسن منتخب کیا گیا ہے اور این سی سے تعلق رکھنے والی خاتون کونسلر شازیہ پوسوال کو ڈپٹی چیئر پرسن کا اعزاز بخشا گیا ہے ۔ یہ گپکار الائنس کے لئے کسی بھی طرح اور کسی بھی صورت میں خوشگوار خبر نہیں رہی ہوگی بلکہ اس خبر نے انہیں بے چین اور راتوں کو کروٹیں لینے پر مجبور کیا ہوگا۔ قرین قیاس ہے کہ سرینگر اور شوپیاں جیسی اہم اور افادیت کی حامل کونسلوں کا این سی اور الائنس کے حصار سے باہر لا نا نہ صرف ایک کارِ دارد والا معاملہ رہا ہوگا بلکہ اس کے کئی ایسے پہلو ہیں جو اس گپکار الائنس اور خصو صاً این سی کے لئے لمحہ فکریہ اور انتہائی تشویش کی بات بھی ہے ۔منتخب کونسلوں کی خرید و فروخت کے بارے میں عمر عبداللہ نے فوری ٹویٹ کرکے یہ سوال اٹھایا ہے کہ جس پارٹی نے شوپیاں میں صرف دو سیٹیں حاصل کی اور جس نے سرینگر میں محض تین سیٹوں پر کامیابی حاصل کی تھی،اس نے دونوں کونسلوں کی بلند وبالا چوٹیوں کو سر کیسے کیا ؟’’اپنی پارٹی ‘‘نے ان کونسلوں کے اعلیٰ منصبوں پر جھنڈے لہرا ئے ہیں اور اپنا کنٹرول حاصل کیا ہے ۔ظاہر ہے کہ اس کا واضح اور صاف مطلب یہ ہے کہ ’’اپنی پارٹی ‘‘نے وہ سارے داؤ پیچ کھیلے ہیں جو اب جمہوری طرز نظام کیلئے لازم و ملزوم سمجھے جاتے ہیں۔ یہ سسٹم شرو ع سے آخر تک ایسا ہی ہے اور اس کے متعلق ان سب کھیل تماشوں کا پہلے ہی سے یقین اور اندازہ ہوتا ہے۔ اس پر یہ بات یاد آئی کہ شاید ہمارے فاروق عبداللہ صاحب کو ’’مف‘‘ کے انتخابات یاد آتے ہوں اور یہ یادیں بھی شاید ستاتی ہوں کہ ہارس ٹریڈنگ میں بولیا ں لگتی ہیں لیکن کبھی کبھی بولیوں کے بغیر بھی نتائج الٹ دئے جاتے ہیں اور بس حقیقت یہی ہے کہ جو جیتا وہی سکندر کہلایا۔
ابھی اور بھی کونسلوں کے نتائج آیا ہی چاہتے ہیں لیکن ان پر اگر الائنس اپنے جھنڈے گاڑنے میں کامیاب بھی ہوتی ہے تو سرینگر کا جھولی سے باہر جانا اس کا نعم البدل نہیں ہوسکتا ۔ پہلے یہ کہ یہ با ت سبھی جانتے ہیں کہ اس الائنس میں اُس وقت یہ تمام پارٹیاں شامل تھیں جنہوں نے یہ اتحاد قائم کیا تھا اور اسی بینر تلے انتخابات لڑے گئے تھے اور اب جیسا کہ ہم جانتے ہی ہیں کہ یہ اتحاد لنگڑا ہوچکا ہے کیونکہ اسمیں شامل ایک انتہائی اہم پارٹی سجاد غنی لون ( پیپلز پارٹی )پہلے ہی اس سے ناطہ توڑ چکی ہے اور تعلق توڑنے کی وجوہات میں سب سے بڑی وجہ یہی رہی تھی کہ الائنس نے اپنے عہدو پیماں کا پاس نہیں رکھا تھا اور یہ کہ این سی نے تمام حدود توڑ کر ڈمی اور پراکسی امیدوار بھی کھڑے کئے تھے جس کی وجہ سے بہت ساری جگہوں پر مخالف امید وار کامیاب ہوئے تھے جن کے خلاف یہ الیکشن بنیادی طور پر لڑا گیا تھا۔سجاد غنی کی علیحدگی پر اس اتحاد نے اپنے ہونٹ ہی سی لئے ، نہ تو فاروق عبداللہ اور نہ مفتی محبوبہ نے ہی اس پر کوئی بیان جاری کیا تھا۔ظاہر ہے کہ بہت نازک معاملات میں خاموشی ہی بہتر ہوتی ہے اور اسی خاموشی کے ساتھ یہ تلخ گھونٹ حلق سے اتارے گئے ہیں لیکن اس خاموشی کی زباں یہی ہے کہ ’’کچھ تو ہے جس کی پردہ داری ہے‘‘ ۔ ایسا سجاد صاحب نے الائنس سے علیحدگی کے مو قعے پر کہا تھا ،اب اس بات کا مختصر جائزہ کہ سرینگر کونسل’’ ا لائنس اور خصو صاً این سی‘‘ کے لئے اہم اور کلیدی حیثیت کی حامل کیوں ہے اور اسی تاریخی پس منظر میں’’ اپنی پارٹی ‘‘نے بھی وہ سب کچھ کیا ہوگا جو اس قلعے کی فتح میں ضروری اور ناگزیر سمجھا ہوگا ۔جب آپ بھی اپنے ذہن پر زور د یں گے تو کئی معقول وجوہات آپ کے ہاتھ بھی لگ سکتی ہیں ۔تاریخ شاہد ہے کہ کسی بھی ملک،کسی بھی تحریک اور انقلاب میں اس ملک کے کیپٹل کو کلیدی اور حتمی حیثیت ہوتی ہے۔ شیخ محمد عبداللہ جب اپنے دور میں شدید اور جھلسادینے والی تمازت کے ساتھ اسی شہر کے افق سے نمودار ہوئے تو دیکھتے دیکھتے سارے جموں و کشمیر کے سیاسی آسماں پر اور کوئی سایہ بھی نظر نہ آسکا ۔ اور یہ کوئی انہونی نہیں کیونکہ تاریخ بتاتی ہے کہ اکثر و پیشتر رہنما اپنے ممالک کے کیپٹل میں جب تک قبولیت حاصل نہیں کرتے کبھی سارے ملک کو تسلیم نہیں ہوتے ۔دوئم یہ کہ تمام انقلابات کی شروعات ممالک کے کیپٹلوں سے ہی ہوئی ہے ۔سوئم یہ کہ کیپٹل اپنے ملک کے لئے سیاسی پاور سٹیشن کے مانند ہوتے ہیں جہاں سے سیاسی اور دوسر ی برقی روئیں قریہ قریہ پہنچ جاتی ہیں ۔غرض یہاں کی ہوائیں اپنے شہر و گام کی ٹرینڈ سیٹ کرتی ہیں ۔وہ واقعات ، خیالات یا شخصیات کے معاملات ہوں ، شہر کی ٹرینڈ کو ہر حال دوسرے شہر ، قصبے اور گاؤں فالو کرتے ہیں۔
کو نسل کا اس لحاظ سے این سی کی جھولی سے باہر آنے کا معاملہ صرف کونسل کے کنٹرول ہی کا نہیںبلکہ اس کے پیچھے ایک مکمل نظریاتی پہلو بھی ہے ۔یہ شیخ خاندان کا گھر اور گڑھ تھا ۔ یہاں فاروق،عبداللہ اور عمر عبداللہ اپنے مظبوط قلعوں میں اپنی ایک دیرینہ اور بڑی فوج کے حصار میں تھے اور آپ سمجھ سکتے ہیں کہ اس بار یہ حصار ٹوٹ چکا ہے اور اس کا مطلب اور اہمیت کیا ہے، اس سے صرف نظر نہیں کیا جاسکتا ۔این سی کے خلاف ایک زمانے میں کسی امیدوار کو کھڑا ہونے کی جسارت نہیں ہوتی تھی اور کسی نے جرأت رندانہ بھی کی تو ہسپتالوں میں ہفتوں اپنی ٹوٹ پھوٹ کا علاج کرانا پڑا ، چہ جائیکہ اب یہ کہ اس اہم اور مرکزی سنٹر کے تاج سے ہی محروم ہواجائے ۔کیا یہ نتائج آگے کبھی منعقد ہونے والے اسمبلی انتخابات کا پیش خیمہ سمجھے جاسکتے ہیں ؟ کیا یہ پیروں تلے زمین کھسکنے کا واضح عندیہ سمجھا جاسکتا ہے ؟ ۔ہمیں اس سے پہلے سید الطاف بخاری کے اس بیان کو یہاں لازمی کوٹ کرنا چاہئے جو ا نہوں نے الائنس کی ٹوٹ پھوٹ پر ابھی پچھلے مہینے ہی دیا۔ انہوں نے ایک بار پھر دہرایا تھا کہ ’’اب پرانی سیاست اور سیاسی نظریات کا کوئی خریدار اور کوئی اہمیت نہیں اور یہ لوگ (این سی ، پی ڈی پی ) عوام کو دھوکہ اور فریب دیتے رہے ہیں، یہ سب لوگ یعنی اتحادی استحصالی ، موقعہ پرست ، ابن ا لوقت اور عوام کے جذبات کو بلیک میل کرتے رہے ہیں اور ا س طرح کی کسی سیاست کا کوئی مقام اور خریدار نہیں بلکہ ہمیں زمینی سطح پر رہ کر ہی عوام کی خدمات انجام دینا ہوں گی ‘‘۔الفاظ کا ہیر پھیر ہوسکتا ہے لیکن ان کے بیان کا واضح متن یہی تھا اور یہ بھی کہ اتحاد ان کے تصورسے بھی بہت ہی پہلے ٹوٹ چکا ہے۔ اپنی پارٹی کا یہ ورژن اور نقطہ نگاہ پہلے سے ہی ایک تسلسل کے ساتھ اپنے جنم دن سے ہی آتا رہا ہے اور یہ بھی آپ جانتے ہیں کہ ’’اپنی پارٹی ‘‘ابھی گھٹنوں کے بل چلنے کی عمر کو بھی نہیں پہنچی ہے ، یا یوں کہنا مناسب ہوگا سیاسی طور پر ابھی دودھ کے دانت بھی نہیں ٹوٹے ہیں یعنی اس کا قیام اور اعلان 8 مارچ دو ہزار بیس کو ہوا تھا۔ یہ نئی پارٹی روائتی سیاست ، اُدھر بھی اور اِدھر بھی کے بجائے ایک ہی پکش میں کھڑی دکھائی دیتی ہے جو بظاہر کشمیر کی روائتی سیاست کے بالکل متضا د ہے۔لیکن اب وقت اور زمانے کی دھاروں کی چال ڈھال بھی دیکھئے کہ ایک نو زائیدہ پارٹی ،جو اپنے ایک ہی ورژن کے ساتھ ایک ہی پکش میں کھڑی نہ صرف آگے بڑھی ہے بلکہ بہت ہی کم اور مختصر سی مدت میں کشمیر کے اہم مرکزی ادارے پر فتح پاکر اس بات کا بر ملا اعلان کر چکی ہے’’ دوکھڑاؤں ‘‘پر چلنے کے باب اب بند ہوچکے ہیں بلکہ اب صرف سیاست دانوں اور سیاسی پارٹیوں کو بھی بغیر کسی شش و پنج کے اپنا ایک ہی ایجنڈا ، ایک طرف کا ایجنڈا لے کر سامنے آنا ہوگا۔
اس کے لئے دلیل یہ بھی ہے کہ گپکاراتحادی بھی شروع سے وفاق پرست ہی تھے لیکن یہ لوگ وقت کے تقاضوں کو سمجھتے ہوئے ’’ڈبل گیم ‘‘کا ٹرینڈ سیٹ کر چکے تھے ،اس کے باوجود کہ یہ دوسرا عنصر سالن میں ذائقے کے لئے ایک اور مصالحے سے زیادہ کی اہمیت نہیں رکھتا تھا لیکن بی جے پی نے بھارت میں جو نظریاتی کارڈ کھیلا تھا، تجربے کے لحاظ سے کامیاب ہوا ہے اور یہاں تک کہ کانگریس بھی سافٹ ہندتوا کے جال میں پھنس گئی جس سے اس کی اپنی پہچان بھی مسخ ہوکر رہ گئی ۔یہی معقول وجہ نظر آتی ہے کہ سابق وفاق پرست کشمیری پارٹیاں زیر عتاب ہیں ۔ان تجربات کی روشنی میں شاید ’’ اپنی پارٹی‘‘ نے کشمیر میں ددو طرفہ کھیل میں رہنے کے بجائے ایک طرف کو چن لیا ہے اور اس پہلے مر حلے میں کیپٹل کونسل پر جھنڈا لہراکر ایک واضح پیغام دیا ہے جو کسی نئے ہی سیاسی مدو جز کا پیش خیمہ ثابت ہوسکتا ہے ،ایک ایسی تبدیلی جو کبھی کشمیریوں کے ذہن میں بھی نہیں رہی ہوگی ،لیکن حالات اور واقعات اس کے ظہور پذیر ہونے کی پیشگی خبر دے رہے ہیں۔
ای میل۔[email protected]
فون نمبر۔9419514537