ٹی ای این
سرینگر//سرینگر میں ایل پی جی کی ہوم ڈیلیوری بظاہر بحال ہونے کے باوجود متعدد گیس ایجنسیوں کی جانب سے صارفین کو خود گوداموں تک آنے پر مجبور کیے جانے کا معاملہ سامنے آیا ہے، جس پر عوامی حلقوں میں شدید ناراضگی پائی جا رہی ہے۔مقامی صارفین کے مطابق کئی علاقوں میں گیس ایجنسیاں ہوم ڈیلیوری فراہم کرنے کے بجائے صارفین کو فون یا پیغام کے ذریعے اطلاع دیتی ہیں کہ وہ اپنا سلنڈر حاصل کرنے کے لیے متعلقہ گودام یا ڈسٹری بیوشن پوائنٹ پر خود پہنچیں۔ حیران کن طور پر وہاں پہنچنے پر صارفین سے 35.10 روپے بطور ڈیلیوری چارج بھی وصول کیے جاتے ہیں، جسے لوگ سراسر ناانصافی قرار دے رہے ہیں۔متاثرہ صارفین کا کہنا ہے کہ اگر وہ خود گودام جا کر سلنڈر حاصل کر رہے ہیں تو پھر ڈیلیوری چارج کی وصولی کا کوئی جواز نہیں بنتا۔
ان کا کہنا ہے کہ یہ عمل نہ صرف صارفین کے ساتھ دھوکہ ہے بلکہ سرکاری ہدایات کی بھی کھلی خلاف ورزی ہے، جن کے تحت گھریلو ایل پی جی کی ہوم ڈیلیوری یقینی بنائی جانی چاہیے۔شہر کے مختلف علاقوں سے موصول ہونے والی شکایات کے مطابق بزرگ افراد، خواتین اور دور دراز علاقوں میں رہنے والے لوگ اس صورتحال سے سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں، کیونکہ ان کے لیے گودام تک پہنچنا نہایت دشوار ہوتا ہے۔ کئی صارفین نے الزام لگایا کہ اگر وہ اضافی رقم ادا کرنے سے انکار کریں تو انہیں سلنڈر کی فراہمی میں تاخیر کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔یہ مسئلہ کوئی نیا نہیں ہے۔ اس سے قبل بھی اس حوالے سے آواز اٹھائی گئی تھی اور متعلقہ محکموں کی توجہ اس جانب مبذول کرائی گئی تھی، تاہم زمینی سطح پر کوئی خاص تبدیلی دیکھنے کو نہیں ملی۔ عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ محکمہ امور صارفین اس معاملے میں یا تو سنجیدگی نہیں دکھا رہا یا جان بوجھ کر چشم پوشی اختیار کی جا رہی ہے۔ماہرین کا ماننا ہے کہ اس طرح کے اقدامات نہ صرف صارفین کے حقوق کی خلاف ورزی ہیں بلکہ اس سے سرکاری سبسڈی کے نظام پر بھی سوال اٹھتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر ڈیلیوری کا نظام شفاف نہ ہو تو اس سے بدعنوانی اور غیر قانونی وصولیوں کو فروغ مل سکتا ہے۔