نجی اسکولوں میں 52ہزار سے زائد کااضافہ
بلال فرقانی
سری نگر// جموں و کشمیر میں تعلیمی رجحانات میں نمایاں تبدیلی دیکھنے کو ملی ہے، جہاں سرکاری سکولوں میں طلبہ کی تعداد میں کمی جبکہ نجی تعلیمی اداروں میں خاطر خواہ اضافہ درج کیا گیا ہے۔ سرکاری دستاویزات کے مطابق تعلیمی سال 2023-24سے 2024-25کے درمیان سرکاری سکولوں میں داخلہ 28,013 کم ہوا، جبکہ اسی مدت میں نجی سکولوں میں 52,145 طلبہ کا اضافہ ہوا، جس کے نتیجے میں مجموعی طور پر 24,132 طلبہ کا خالص اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔دستاویزات کے مطابق سرکاری سکولوں میں طلبہ کی تعداد 2023-24میں 13,84,849 تھی جو 2024-25میں کم ہو کر 13,56,836 رہ گئی۔ اس کے برعکس نجی سکولوں میں داخلہ 12,08,834 سے بڑھ کر 12,60,979 تک پہنچ گیا۔ مجموعی طور پر دونوں شعبوں میں طلبہ کی تعداد 25,93,683 سے بڑھ کر 26,17,815 ہو گئی۔ اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ سرکاری اسکولوں میں کمی کی بڑی وجہ پرائمری سطح پر داخلوں میں گراوٹ ہے، جہاں تعداد 5,29,708 سے کم ہو کر 5,03,628 رہ گئی، یعنی 26,080 طلبہ کی کمی واقع ہوئی۔ اس کے برعکس پری پرائمری سطح پر معمولی اضافہ ہوا اور تعداد 1,80,261 سے بڑھ کر 1,85,385 تک پہنچ گئی، جبکہ ہائر سیکنڈری سطح پر بھی معمولی بہتری دیکھنے کو ملی اور تعداد 1,87,358 سے بڑھ کر 1,87,993 ہو گئی۔نجی سکولوں میں تقریباً تمام سطحوں پر اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ پری پرائمری میں داخلہ 2,39,054 سے بڑھ کر 2,67,376، پرائمری میں 5,15,312 سے بڑھ کر 5,24,469، اپر پرائمری میں 2,68,199 سے بڑھ کر 2,74,407، سیکنڈری میں 1,37,862 سے بڑھ کر 1,41,249 اور ہائر سیکنڈری میں 48,407 سے بڑھ کر 53,478 ہو گیا۔ سرکاری دستاویزات میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ سرکاری اسکولوں میں کم ہوتے داخلوں کو روکنے کے لیے مختلف اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ ان میں سالانہ داخلہ مہمات، گھر گھر سروے کے ذریعے اسکول سے باہر بچوں کی نشاندہی اور ان کا داخلہ، خانہ بدوش قبائلی بچوںکیلئے موسمی مراکز کا قیام شامل ہے۔ اس کے علاوہ تقریباً 8 لاکھ طلبہ کو مفت یونیفارم اور نصابی کتب فراہم کی جا رہی ہیں، جبکہ پری پرائمری سے آٹھویں جماعت تک پی ایم پوشن اسکیم کے تحت مڈ ڈے میل بھی فراہم کیا جا رہا ہے۔دستاویزات کے مطابق 15,550 سرکاری اسکولوں میں پری پرائمری سیکشن قائم کیے گئے ہیں، جس کے باعث اس سطح پر داخلہ میں کچھ اضافہ دیکھنے کو ملا ہے۔ تاہم حالیہ رجحانات ایک پیچیدہ صورتحال کی نشاندہی کرتے ہیں، جہاں بعض علاقوں میں داخلہ میں کمی اور کچھ اسکولوں میں صفر داخلہ تک کی صورتحال سامنے آئی ہے۔ پرائمری سطح پر ڈراپ آؤٹ شرح میں بھی اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جو 2022-23کے 3.89 فیصد سے بڑھ کر 2023-24میں 8.87 فیصد ہو گئی ہے۔