سرینگر/ صوبائی انتظامیہ نے سرینگر میں سرکاری اراضی پر6ہزار ’’غیر قانونی قابضین ‘‘کی فہرست کو جاری کیا ہے جنہوں نے ضلع میں قریب10ہزار کنال پر ناجائز قبضہ کیا ہوا ہے۔ صوبائی انتظامیہ نے حال ہی میں ہائی کورٹ کی ہدایت پر رشنی اسکیم سے مستفید ہوئے لوگوں کے علاوہ سرکاری اراضی پر قابضین کے ناموں کو سرکاری رابطہ گاہ پر ناموں کا اندراج کرنا شروع کردیا ہے۔اس فہرست میں 4ہزار 557 افراد کا پروفارما،سی ( روشنی کے علاوہ محکمہ مال میں درج شدہ سرکاریا راضی پر قابض) اور1415 کو پرفارما،ڈی (روشنی کے بغیرسرکاری اراضی پر قبضہ،تاہم محکمہ مال میں درج نہیں ہے) کے زمرے میں رکھا گیا ہے۔ سرکاری اعدادوشمار کے مطابق2001 سے 2007تک 3 لاکھ 48 ہزار 200 کنال اراضی کا روشنی ایکٹ کے تحت معاوضہ حاصل کرکے مالکانہ حقوق دئے گئے اور 3 لاکھ 40 ہزار 100 کنال زرعی زمین کو مفت میں اسکے مستحق افراد کے نام منتقل کیا گیا۔سال 2014 میں کمپٹرولر اینڈ آڈیٹر جنرل آف انڈیا نے اپنی رپورٹ میں اس بات کا انکشاف کیا کہ یہ سکیم اپنے مقاصد کی حصولیابی میں ناکام ہوئی ہے اور جہاں اس سکیم سے25448 کروڑرویے کی رقم وصول ہونی تھی تاہم سال 2007سے2013 تک صرف 76کروڈ روپے کی رقم وصول ہوئی ہے ۔ ہفتہ کو جموں و کشمیر ہائی کورٹ کی ہدایت پر عمل کرتے ہوئے انتظامیہ نے روشنی ایکٹ سے فائدہ اٹھانے والے افراد کی فہرست تیار کرنا شروع کر دیا ہے جس کے بعد ان کے پتہ اور نام سرکاری ویب سائٹ پر شائع کئے ہیں ان میں سابق وزراء سرکاری ملازمین، سیاستدان ، کسان، تاجر اور دیگر افراد شامل ہیں۔