فون اور انٹرنیٹ سہولیات سے محروم مقامی آبادی اور طالب علموں کومشکلات کا سامنا
محمد تسکین
بانہال// سب ڈویژن بانہال کے سراچی علاقے میں بی ایس این ایل اور جیو سیلولر کمپنی کی طرف سے کئی سال پہلے نصب کئے موبائل ٹاور مسلسل غیر فعال ہیں جس کی وجہ سے سراچی اور اس کے ملحقہ علاقوں میں آباد سینکڑوں صارفین کو ناقابل مشکلات کا سامنا ہے ۔ مقامی سماجی کارکن محمد اشرف نائیک نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ سراچی کا علاقہ تحصیل کھڑی کا سب سے بچھڑا ہوا علاقہ ہے جہاں سڑک کے ساتھ دیگر بنیادی سہولیات کی عدم موجودگی کی وجہ سے ہزاروں کی آبادی ملک کی آزادی سے ابتک دشواریوں کا سامنا کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اجکل کے دور میں موبائل اور انٹرنیٹ سروسز کے بغیر جہاں زندگی کا تصور ناممکن ہے وہیں سب ڈویژن بانہال سے محض دس بارہ کلومیٹر دور سراچی میں کے علاقے میں موبائل فون اور انٹرنیٹ کی خدمات کمپنیوں کی خود غرضی کا شکار ہوکر رہ گئی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ علاقے میں جیو سیلولر موبائل کمپنی اور بی ایس این ایل نے اپنے ٹاور نصب تو کر رکھے ہیں لیکن ان ٹاوروں کو ابھی چالو نہیں کیا گیا جس کیوجہ سے عام لوگوں کے ساتھ یہاں کے زیر تعلیم بچوں کی انٹرنیٹ تک رسائی ناممکن ہو کر رہ گئی ہے۔ سراچی ، ٹینکہ اور آرم ڈکہ کے مقامی لوگوں نے بتایا کہ یہ معاملہ کئی بار ضلع انتظامیہ اور ممبر اسمبلی بانہال حاجی سجاد شاہین کی بھی نوٹس میں لایا ہے لیکن نہ انتظامیہ کی طرف سے اور ناہی ممبر اسمبلی بانہال کی طرف سے اس سنگین معاملے میں ہماری کوئی مدد ہو سکی ہے ۔ اس سلسلے میں بات کرنے پر ممبر اسمبلی بانہال سجاد شاہین نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ وہ اس اہم معاملے کو لیکر متعلقہ کمپنیوں کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہیں اور جلد ہی ان ٹاوروں کو قابل استعمال بنایا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جیو سیلولر کمپنی کے حکام نے انہیں یقین دلایا کہ وہ جلد ہی اس ٹاور کیلئے کچھ بقایا ضروری سامان کو نصب کر رہے ہیں جو برفباری کے دوران ممکن نہیں ہو سکا تھا۔ انہوں نے کہا کہ انہیں امیدہےکہ جلد ہی ان دونوں ٹاوروں میں کمی پیشی کو ہر لحاظ سے مکمل کرکے موبائل اور انٹرنیٹ سروسز کو شروع کیا جائے گا۔