نواز رونیال
رام بن// ضلع رام بن کے ٹنگر علاقے میں مجوزہ 1856 میگاواٹ ساولاکوٹ ہائیڈرو الیکٹرک پروجیکٹ کے حوالے سے جمعرات کو رام بن میں سینکڑوں افراد نے ساولاکوٹ جوائنٹ ایکشن کمیٹی کی قیادت میں ایک پرامن ریلی نکالی اور متاثرہ عوام کے حقوق، شفافیت، منصفانہ معاوضے اور مقامی نوجوانوں کو روزگار میں ترجیح دینے کا مطالبہ کیا۔یہ ریلی ڈاک بنگلہ رام بن سے شروع ہو کر قصبے کے مختلف بازاروں اور اہم سڑکوں سے گزر کر پر امن طور پر اپنے اختتام کو پہنچی۔ مظاہرین نے ہاتھوں میں پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جن پر ’’ہماری زمین، ہمارے حقوق، ہمارا مستقبل‘‘، ’’رامبن کی مجبوری ہے، ساولاکوٹ ضروری ہے‘‘، ’’فیئر کمپنسیشن ایکٹ کے تحت معاوضہ دیا جائے‘‘ اور ’’مقامی نوجوانوں کو روزگار میں پہلی ترجیح دی جائے‘‘ جیسے نعرے درج تھے۔
ریلی کے اختتام پر منعقدہ عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے ایس جے اے سی کے صدر ایڈووکیٹ فیروز خان نے کہا کہ رامبن کے لوگ ترقی کے مخالف نہیں ہیں، تاہم ترقی مقامی آبادی کے حقوق، عزت اور روزگار کی قیمت پر قبول نہیں کی جا سکتی۔ انہوں نے کہا کہ منصوبے سے متاثر ہونے والے افراد کو فیئر کمپنسیشن ایکٹ کے مطابق معاوضہ دیا جائے اور مقامی نوجوانوں کو روزگار کے مواقع میں ترجیح دی جائے۔انہوں نے مزید کہا کہ اگرچہ آج کی ریلی مکمل طور پر پرامن تھی، لیکن اگر انتظامیہ اور متعلقہ حکام نے متاثرہ خاندانوں کے ساتھ شفاف اور بامعنی بات چیت نہ کی تو تحریک کو مزید وسعت دی جائے گی۔جوائنٹ ایکشن کمیٹی نے منصوبے کے ٹینڈر عمل میں بار بار توسیع پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔ مقررین نے کہا کہ فروری سے اب تک ٹینڈر کی مدت کئی مرتبہ بڑھائی جا چکی ہے اور تازہ ترین توسیع کے تحت آخری تاریخ 4 جون سے بڑھا کر 16 جون کر دی گئی ہے۔ریلی پرامن طور پر اختتام پذیر ہوئی اور شرکاء نے انتظامیہ سے مطالبہ کیا کہ منصوبے کے حوالے سے مقامی لوگوں کے تحفظات دور کیے جائیں اور ترقیاتی عمل میں رامبن کے عوام کو بنیادی شراکت دار بنایا جائے۔