سانپوں کا ذکر سن کر کوئی بھی شخص لا تعلق نہیں رہ سکتا، یا تو وہ اُن کے بارے میں دلچسپی اور پسندیدگی ظاہر کرے گا اور یا پھر اُن سے خوف کا اظہار کرے گا۔کہتے ہیں کہ سانپ انسان کا بہت بڑا دشمن ہے، اس میں کوئی دو رائے بھی نہیں ۔ اقوام متحدہ کے ادارہ برائے صحت کے مطابق دنیا بھر میں ہر سال پچاس لاکھ افراد سانپ کے ڈسنے سے بری طرح زخمی ہوجاتے ہیں ۔ ان میں سے ایک لاکھ پچیس ہزار افراد ہلاک اورتقریباً تیس لاکھ معذور ہوجاتے ہیں۔حیرت انگیز طور پر ڈینگو بخار ، ہیضے اور دیگر خطرناک امراض سے اتنی اموات نہیں ہوتیں جتنی سانپ کے کاٹنے سے ہوتی ہیں۔ایک محتاط اندازے کے مطابق دنیا بھر میں جتنے لوگوں کو بھی سانپ ڈستے ہیں، ان کی اکثریت ایشیاء خصوصاًبھارت میں رہتی ہے۔ بھارت دنیا کے ایسے ممالک میں سرفہرست ہے جہاں ہر سال پچاس ہزار افراد کو سانپ ڈس لیتے ہیں۔پورے ایشیاء میں سال بھر میں کتنے افراد سانپ سے ڈسے جاتے ہیں ،یہ تعداد بتانا تو مشکل ہے کیو ں کہ عموماً لوگ سانپ کے کاٹنے کی شکایات کہیں درج نہیں کراتے۔ عام طور پر غریب کسان اور باغوں میں کام کرنے والے مزدور سانپوں کا آسان ہدف ہوتے ہیں۔ یہ کسان یا تو غربت کے باعث اپنا علاج نہیں کراپاتے یا ان کی ایسے اسپتالوں تک رسائی ممکن نہیں ہوپاتی۔
عالمی ادارہ برائے صحت کے ماہرین کا کہنا ہے کہ سانپ اسی صورت میں حملہ آور ہوتا ہے جب کہ اسے ڈرایا جائے یا وہ خود کسی چیز سے ڈر جائے۔سانپ کے ڈسنے سے سب سے زیادہ اموات برسات کے موسم میں ہوتی ہیں۔ سانپ عموماً پانی میں چھپ جاتے ہیں اور خطرہ بھانپ کر حملہ آور ہوتے ہیں۔ علاوہ ازیں جن موسموں میں کسان کھیتوں اور کھلیانوں میں زیادہ وقت گزارتے ہیں ان میں سانپ کے کاٹنے کے واقعات کی تعداد بڑھ جاتی ہے۔
بھارت، بنگلہ دیش اور میانمار میں سیلابی موسموں میں سانپ کے کاٹنے کے واقعات میں اضافہ ہوجاتا ہے۔ سیلاب کے بعد جیسے ہی متاثرہ مکانات اور سڑکوں کی تعمیر نو کا کام شروع ہوتا ہے سانپ کے ڈسنے کے حادثات بڑھ جاتے ہیں۔تھائی لینڈ میں سال بھر کے دوران دس ہزار افراد سانپوں کے حملے کا شکار ہوتے ہیں تاہم ان میں سے دس سے بھی کم افراد کی موت ہوجاتی ہے جبکہ تھائی لینڈ کے پڑوسی ملک میانمار میں سالانہ دس ہزار میں سے سات سو سے زائد افراد سانپوں کے ڈسنے سےازجان ہوجاتے ہیں۔
سانپ کا زہر ایک ہاتھی تک کو بھی مار سکتا ہے۔ دنیا کے زہریلے ترین سانپوں میں Viper , King Cobra اور Python شامل ہیں ۔ دنیا میں دو سَروالے سا نپ بھی پائے جا تے ہیں لیکن ان کی تعدا د بہت کم ہے،جو زیا دہ دیر تک زندہ نہیں رہتے ۔70 فیصد سانپ انڈے دیتے ہیں اور 30 فیصد سا نپ بچو ں کو جنم دیتے ہیں ۔اس وقت کرہ ارض پر Losia Racer نامی سانپ تیزی سے ختم ہور ہے ہیں،اس وقت ان کی تعداد 18سے 100 کے درمیا ن پائی گئی ہے۔ دنیا میں سالانہ ایک لاکھ کے قر یب افراد کی اموات سانپ کے کاٹنے سے ہو رہی ہے، جن میں آ دھے سے زیادہ افرادکی تعداد جنوب و مشرقی ایشیا میں ہے۔
سانپ ایک صفائی پسند رینگنے والاRepitile انور ہے، جو وقتاً فوقتاً اپنی جلد کو تبدیل کر تا رہتا ہے۔ جلد کی تبدیلی کے اس عمل کو Moltingولٹینگ )کہتے ہیں۔ سانپ سال میں تین سے چھ بار تک اپنی کھال تبدیل کر تے ہیں ۔ یہ بات قابل ذکرہے کہ ہر سانپ زہریلا نہیں ہوتا، کچھ سا نپ تو زہر بناتے ہی نہیں۔ سا نپ کا زہر یعنی Venom وینم سانپ کا تھوک ہو تا ہے، جو اس کے زہریلے دانتوں Fangs فینگس کے ذریعے دوسرے جانوروں یا انسانوں میں منتقل ہوتا ہے۔ عموماً سانپوںکی خوراک میں دیمک ، چو ہے ، پرندے اور ان کے انڈے، مینڈک سے لے کر چھوٹے بکر ے یا ہرن وغیرہ بھی شامل ہو سکتے ہیں۔ سانپ عمو ماً اپنے منہ کے سائز سے تین گناہ زیادہ بڑا شکا ر ہڑپ کر سکتا ہے کیوںکہ سانپ کے جبڑوں میں بہت زیادہ لچک ہوتی ہے۔ زہریلے سا نپ عمو ماً اپنے شکا ر کو زہر کے ذریعے قابو کر تے ہیں جبکہ بڑے سانپ اپنے شکار کو اپنی لپیٹ میں لے کر قابو میں کر تے ہیں۔تمام سانپ پیدائشی طور پر تیرنا جانتے ہیں اور یہ عموماً روزانہ کی بنیاد پر شکار نہیں کر تے۔ مثال کے طور پر (اینا کونڈ ا ) AnacondaائتھنPython ایک بار اپنی بھر پور خور اک کھانے کے بعد تقریبا ایک سال تک زندہ رہ سکتے ہیں۔ اس وقت سانپ دنیا کے ہر کونے میں موجود ہیں، سوائے انٹارکٹکا، آئس لینڈ ، نیو زی لینڈ اور گرین لینڈکے۔ سانپ عمو ما گر میوں میں نکلتے ہیں اور سر دیوں میں یہ زیرِ زمیں چلے جاتے ہیں۔ سا نپ ایک پُر امن جانور ہے، جو حملہ کرنے میں عموما پہل نہیں کر تے، لیکن انسان فطر ی طور پر سانپ سے خو فزدہ ہوجاتا ہے۔ اس خو ف کو نفسیات کی زبان میںOphidiophobia کہتے ہیں ۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ انسان سانپ کو دیکھ کر جتنا خو فزدہ ہو تا ہے، سانپ اس سے تین گنا ہ زیادہ انسان کو دیکھ کر خوفزدہ ہو جاتا ہے۔
سانپ عموماً چار انچ سے لے کر تیس فٹ تک لمبے ہو سکتے ہیں اور یہ وزن میں ایک گرام سے لے کر 227کلو گرام تک ہو سکتے ہیں۔ سانپوں کی آ نکھوں کی پتلی سے ان کے زہر یلے اور غیر زہریلے ہو نے کا پتہ چل سکتا ہے۔ عموما زہریلے سانپ کی پہچان ان کی بیضوی آنکھ کی پتلی سے ہوتی ہے اور یہ عموما عمودی ہو تی ہے۔ سا نپ رنگوں کی تمیز نہیں کر سکتے ۔دنیا کی مختلف تہذیبوں میں مختلف حوالوں سے اس کا تذکرہ موجود ہے۔ دنیا کے بعض مذاہب میں اس کی پوجا کی جاتی ہے اور اس کو دیوتا کا رتبہ دیا جاتا ہے۔ بعض تہذیبوں میں اس کو بطور خوراک استعمال کیا جاتا ہے، خاص کر سوپ بنا کر پیا جاتا ہے ہے،اس کی شراب بھی بنائی جاتی ہے۔ کچھ تہذیبوں میں اس کو پالتو جانور کے طور پر بھی پالا جاتا ہے۔ ملکہ قلوپطرہ واحد ملکہ تھیں، جنھوں نے خود کو سانپ سے ڈسوا کر خود کشی کی۔ موجودہ ترقی کے دور میں سانپ کی جلد کے جوتے، پرس، بیگ، بیلٹ اور لباس تیار کیے جاتے ہیں۔
سا نپ عمو ما دس سے چا لیس سال تک زندہ رہ سکتا ہے۔ سانپ کے شکار کو پکڑنے والے اور زہر والے دانت الگ الگ ہوتے ہیں ۔ سا نپ کے زہریلے دانت اس کی آنکھوں کے پیچھے ایک تھیلی سے جڑے ہوتے ہیں جس میں زہر ہوتا ہے اور یہ زہرمائع کی شکل میں مو جود ہوتا ہے۔ جیسے ہی سانپ کسی کو کا ٹتا ہے تو یہ زہریلے دانتوں کے ذریعے دوسرے جاندار کے جسم میں داخل ہو جاتا ہے جو شکا رکو یا تو مفلو ج کر دیتا ہے یا مار دیتا ہے۔ اگر سانپ کے زہریلے دانتو ں کو تو ڑ دیا جائے تو کچھ ہی عر صہ کے بعد یہ دانت دوبارہ ظاہر ہو جاتے ہیں۔
اس بات کو انتہائی توجہ طلب ہےکہ اگر سانپ کو مار دیا جائے یا اس کے سر کو کاٹ کے الگ کر دیا جائے، تو پھر بھی یہ کاٹ سکتے ہیں، حتیٰ کہ مرنے کے کئی گھنٹے بعد بھی ان میں انسانوں اور دیگر جانوروں کے کاٹنے کی صلاحیت موجو د رہتی ہے اور مرنے کے بعد یہ عموما زیادہ زہر چھو ڑتے ہیں۔ چند جانور خاص طور پر نیولا سانپ کے زہر کے اثر سے قدرتی طور پر محفوظ رہتا ہے۔ان پر سانپ کا زہر کوئی اثر نہیں کرتا۔ زمینی، بحری، جنگلی سانپوں کے علا وہ اُڑنے والے سانپوں کی اقسام بھی پائی جا تیں ہیں۔ جو کے 300 فٹ سے زیادہ بلند ی تک ہو ا میں اُڑ سکتے ہیں۔ سانپ پتھروں، درختوں اور اینٹوں میں عمو ما اس لئے رہتے ہیں کیو نکہ یہ اشیا سورج کی روشنی کو جذب کرتی ہیں اور یہ ان کو گرم رکھنے میں مدد دیتی ہے۔ سانپ کی چند مخصوص اقسام ایسی بھی ہیں جو منہ سے زہر کو برا ہِ راست ہو ا میں پھینکتے ہیں اور اس کی رینج آٹھ فٹ تک ہو سکتی ہے۔ یہ کسی بھی پوزیشن میں زہر پھینک سکتے ہیں ۔ خا ص طور پر یہ شکار کی آ نکھو ں میں زہر پھینکنے کی کو شش کر تے ہیں۔ اگرچہ اژدھا دنیا میں سب سے بڑا سانپ ہے لیکن زہریلے پن کے حوالے سے دنیا کا لمبا ترین زہریلا سا نپ کنگ کوبرا ہے جو کہ ایشیا میں پایا جاتا ہے، اس کی لمبائی اٹھارہ فٹ تک ہو سکتی ہے۔
عصر حاضر میں کرہ ار ض پرسا نپوںکی تقریباً 3 ہزار اقسام پائی جاتی ہیں، جن میں 375اقسام زہریلے سانپوں کی ہے اور 45ایسی اقسام ہیں، جن کے ایک ہی بار ڈسنے سے انسان مر سکتا ہے۔ سانپ ہر قسم کے ماحول میں رہتےہیں، یہ جنگلوں، صحراؤں، پانی اور پہاڑوں پر موجود ہوتے ہیں، تاہم زیا دہ تر سانپ زمین میں بل بنا کر رہتے ہیں۔
سا نپوں کی تمام اقسام گو شت خور ہو تی ہیں۔ یہ اپنی خوراک کو چبا نہیں سکتے بلکہ نگلتے ہیں اور ان کی خوراک معدے میں تحلیل ہو جاتی ہے۔ سانپ قدرت کی ایک بہت پرانی تخلیق ہے، جس کا ذکر الہامی کتابوں میں بھی موجود ہے۔ خاص طور پر انجیل مقدس اورقرآن ِپاک میں بھی اس کا ذکر کیا گیا ہے۔ اس کے علا وہ سانپ کو مختلف کہانیوں، داستانوں، ناولوں میں بھی موضوع بنایا گیا ہے۔
رابطہ/6005293688