یواین آئی
نیویارک// دنیا بھر کے سائنسدانوں نے موسمیاتی ایمرجنسی ’’سپرایل نینو‘‘کا باضابطہ اعلان کرتے ہوئے کہا دنیا بھر میں بدترین خشک سالی، سیلاب اورشدید گرمی خدشہ ہے۔تفصیلات کے مطابق دنیا بھر کے ماہرینِ موسمیات اور سائنسدانوں نے کرہ ارض پر ماحولیاتی تباہی کے پیشِ نظر باضابطہ طور پر “موسمیاتی ایمرجنسی’’ اور خطرناک ترین موسمی مظہر ‘سپر ایل نینو’ کا اعلان کر دیا ہے۔سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ موسمیاتی تبدیلیوں کی تیز رفتار لہر کے باعث جاری سال 2026 تاریخ کا گرم ترین سال بننے کے شدید ترین خدشات پیدا ہو گئے ہیں، جس کے اثرات پوری دنیا کو بھگتنے پڑیں گے۔ سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ بحرالکاہل کے سطح کے درجہ حرارت میں غیر معمولی اور ریکارڈ بریکنگ اضافہ دیکھا گیا ہے، جس نے عالمی موسموں کا توازن پوری طرح بگاڑ کر رکھ دیا ہے۔ یہ ‘سپر ایل نینو’ دنیا کے مختلف خطوں میں بیک وقت بدترین خشک سالی، بے وقت اور شدید سیلابوں، اور ہولناک ہیٹ ویوز (شدید گرمی) کا سبب بنے گا۔رپورٹ میں کہا گیا کہ اس ماحولیاتی تبدیلی کے نتیجے میں دنیا کے اہم معاشی اور زرعی خطوں کو شدید خطرات لاحق ہو چکے ہیں امریکہ اور افریقہ کے کئی خطوں میں قحط سالی کے سنگین ترین خطرات منڈلا رہے ہیں۔ جنوب مشرقی ایشیا بشمول پاکستان و ہندوستان میں مون سون کے روایتی نظام پر انتہائی برے اثرات پڑنے کا خدشہ ہے، جس سے زراعت اور تیار فصلوں کی بڑے پیمانے پر تباہی کا خطرہ سر اٹھا رہا ہے۔اقوامِ متحدہ نے اس صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ ‘سپر ایل نینو’ کی وجہ سے دنیا بھر میں ایک بڑا عالمی غذائی بحران جنم لے سکتا ہے ساتھ ہی پینے کے پانی کی قلت اور زرعی پیداوار میں کمی سے کروڑوں انسان متاثر ہو سکتے ہیں۔ اقوامِ متحدہ نے مزید بتایا کہ ترقی پذیر ممالک کے پاس اس شدید موسمیاتی تباہی سے نمٹنے کے لیے فنڈز اور وسائل کی شدید کمی ہے، جس کے لیے عالمی امداد کی فوری ضرورت ہے۔ سائنسدانوں نے الرٹ جاری کیا ہے کہ سمندری درجہ حرارت میں غیر معمولی اضافے سے سمندروں کا ماحول تباہ ہو رہا ہے، جس کے باعث نازک مرجانی چٹانیں سفید ہو کر مر رہی ہیں اور دنیا بھر کی آبی حیات شدید خطرے سے دوچار ہو چکی ہے۔