اشفاق سعید
کرناہ // لائن آف کنٹرول کے نزدیک کرناہ، جو برفباری کے بعد کئی ماہ تک بند رہتا تھا، تک ہمہ موسمی رسائی حاصل کرنے کیلئے سادھنا ٹنل پر 2026میں ابھی تک کام شروع نہیں ہوسکا ہے۔یہ بات قابل ذکر ہے کہ سادھنا علاقے میں نومبر کے بعد کوئی بھی تعمیراتی کام شروع نہیں کیا جاسکتا کیونکہ برفباری کے بعد یہ راستہ بند ہوجاتا ہے۔مرکزی وزیر ٹرانسپورٹ اور ہائی ویز نتن گڈکری نے اعلان کیا تھا کہ اس ٹنل پر اسی سال کام شوع ہونے جارہا ہے لیکن ابھی جون 2026 تک بھی نہ ٹینڈر جاری ہوا، نہ نامزد کسی تعمیراتی کمپنی کو کام الاٹ کیا گیا ہے۔زمینی سطح پر سادھنا اور اسکے آس پاس علاقے میں کوئی معمولی سی بھی سرگرمی دکھائی نہیں دے رہی ہے اور نہ کوئی وثوق کیساتھ یہ بتا رہا ہے کہ عملی کام کب شروع ہوگا؟ ۔سرکاری دستاویزات کے مطابق سادھنا ٹنل ابھی بھی DPR اور تکنیکی منظوریوں کے مرحلے میں ہے، جبکہ تعمیراتی کمپنی کا انتخاب ہونا باقی ہے۔سادھنا ٹنل جموں اور کشمیر میں ایک منظور شدہ اسٹریٹجک روڈ پروجیکٹ ہے، جسے برفانی تودے کے شکار سادھنا ٹاپ(نستہ چھن گلی) کو بائی پاس کرنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔
یہ کپواڑہ ضلع کے دور دراز کرناہ( ٹنگڈار)علاقے کے لیے سال بھر، ہمہ موسمی رابطے کو یقینی بنائے گا، جس سے شہری سفر اور فوجی نقل و حرکت دونوں میں نمایاں اضافہ ہوگا۔ تفصیلی پروجیکٹ رپورٹ (DPR) کی تشکیل اور ترتیب کو حتمی شکل دینے کا کام فی الحال روڈ ٹرانسپورٹ اور ہائی ویز کی وزارت اور نیشنل ہائی ویز اینڈ انفراسٹرکچر ڈیولپمنٹ کارپوریشن لمیٹڈ (NHIDCL) کے ذریعے جاری ہے۔ ٹنل کی لمبائی تقریباً 6 کلومیٹر سے 6.2 کلومیٹر ہے اور یہ سطح سمندر سے 3,130 میٹر( (10,269 فٹ اونچے سادھنا پاس کے نزدیک تعمیر کی جائیگی۔ مرکزی وزیر برائے ہائی ویز نتن گڈکری نے حالیہ دنوں میں امید ظاہر کی ہے کہ سادھنا ٹنل منصوبے پر رواں سال پیش رفت ہوگی اور کام شروع ہونے کی سمت اہم اقدامات کیے جائیں گے۔ تاہم جون 2026 نصف سے زائد گزر جانے کے باوجود زمینی سطح پر باقاعدہ تعمیراتی سرگرمیاں شروع نہیں ہو سکی ہیں۔سادھنا ٹاپ، جو کرناہ کو وادی کشمیر سے جوڑنے والا اہم پہاڑی راستہ ہے، ہر سال برفباری، برفانی تودوں اور خراب موسمی حالات کی وجہ سے ہفتوں تک بند رہتا ہے۔ اس صورتحال سے نہ صرف عام شہری متاثر ہوتے ہیں بلکہ مریضوں، طلبہ، ملازمین، تاجروں اور سرحدی علاقوں میں تعینات سیکیورٹی فورسز کو بھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
پارلیمنٹ میں دی گئی معلومات کے مطابق منصوبے کا تفصیلی پروجیکٹ رپورٹ (DPR) کی تیاری کا کام جاری ہے جبکہ جیوٹیکنیکل اور جیو فزیکل تحقیقات اور مناسب الائنمنٹ کے انتخاب کا مرحلہ بھی ختم ہو چکا ہے ۔حکومتی جواب میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ سادھنا ٹنل کے لیے مٹی، چٹانوں اور زمینی ساخت کا تفصیلی مطالعہ کیا جا رہا ہے تاکہ سرنگ کی تعمیر کے لیے محفوظ اور موزوں راستہ منتخب کیا جا سکے۔ اس مقصد کے لیے مختلف مقامات پر بور ہول ڈرلنگ اور تکنیکی سروے کی گئی ہے۔ دستیاب معلومات کے مطابق منصوبے کے ڈیزائن اور DPR کی تیاری کا کام بین الاقوامی انجینئرنگ کنسلٹنسی Bernard Gruppe کو سونپا گیا تھا۔حکومت نے کہا ہے کہ منصوبے پر عمل درآمد کی ذمہ داری نیشنل ہائی ویز اینڈ انفراسٹریکچر ڈیولپمنٹ کارپوریشن لمیٹیڈکے سپرد ہوگی۔سادھنا ٹنل صرف ایک ترقیاتی منصوبہ نہیں بلکہ کرناہ کے عوام کے لیے زندگی کی شہ رگ کی حیثیت رکھتی ہے۔2025 میں منصوبے کے سلسلے میں سب سرفیس اور جیوٹیکنیکل تحقیقات کا آغاز کیا گیا۔ ٹی پی (Tee Pee) اور اطراف کے علاقوں میں بور ہول ڈرلنگ اور مٹی و چٹانوں کے نمونوں کی جانچ کی گئی تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ سرنگ کس راستے سے محفوظ طریقے سے تعمیر کی جا سکتی ہے۔ مقامی سطح پر اس عمل کو سادھنا ٹنل کے عملی آغاز کے طور پر دیکھا گیا، تاہم یہ دراصل ابتدائی تکنیکی سروے تھا۔مرکزی حکومت نے 2025 میں جموں و کشمیر کے لیے منظور کیے گئے بڑے روڈ اور ٹنل پیکیج میں سادھنا ٹنل کو بھی شامل کیا۔ اس منصوبے پر تقریباً 3300 کروڑ روپے سے زائد لاگت آنے کا اندازہ لگایا جا رہا ہے۔