اس موضوع کو شروع کرنے سے پہلے انسان کے ذہن میں بہت سارے سوالات جنم لیتے ہیں۔ پہلی چیز جو ذہن میں آتی ہے وہ یہ کہ زندگی کیا ہے؟ اس کے بعد جو سوال ذہن میں آتا ہے کہ وہ یہ کہ زندگی کا مقصد کیا ہے؟ اس کے علاوہ جو سوال ذہن کو پریشان کرتا ہے وہ یہ کہ کون سا طریقہ زندگی گزارنے کا صحیح ہے اور کون سا غلط؟ اس دنیا میں اتنے نظریات ہیں کہ ایک ذِی حس انسان سوچنے پر مجبور ہو جاتا ہے کہ کس چیز کو مانے اور کس کو چھوڑے؟
جب یہ بات ہے تو ایسے میں ہم ان چیزوں یا نظریات کی طرف آتے ہیں جو ہمارے ارد گرد پائے جاتے ہیں۔ ان سب کو اگر نچوڑ دیا جائے تو یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ کچھ باتیں ایسی ہیں جو ہر مذہبی اور غیر مذہبی کتابوں یا فلسفوں میں پائی جاتی ہے۔ جن میں یہ لکھا ہے کہ زندگی کا مقصد ہے کہ اپنے آپ کو پہچان کر اپنے خالق کو پہچاننا ہے۔دوسرے مقام پر لکھا ہے کہ زندگی کا اصل مقصد ہے، آخرت کے لئے تیاری کرنا۔ کسی اور کتاب میںیہ بھی لکھا ہوا ہے کہ زندگی کا مقصد ہے لگاتار جنم لینا تاکہ انسان مکمل طور پر نجات حاصل کر سکے۔گویا ان سبھی نظریات کو ماننے والے ان سے بہت محبت کرتے ہیں اور وقت آنے پر ان کے لئے قربانی بھی دیتے چلےآرہے ہیں۔ مگر ان میں سے ایک نظریہ کو ماننے والوں کو اگر ہم منافق کہیں تو بے جا بھی نہ ہوگا۔ بغور جائزہ لیا جائے تو دورِ حاضر میں بیشتر مسلمان منافقانہ رول ادا کر تے ہوئے نظر آرہے ہیں۔ ان کا ایمان اور بھروسہ جن کاموںپر منحصر ہے مگر وہ کچھ اور ہی کام کر رہے ہیں۔یعنی جو کچھ انہیں کرنا ہے ،کرتے کچھ اور ہیں۔ یہی میرے موضوع کا مقصد ہے۔ اگر کم و بیش دنیا کے باقی لوگ کسی نظریہ کے تحت جی رہے ہیںتو ہم مسلمان کن نظریات کے مطابق اپنی زندگی جی رہے ہیں۔ اس کے پیچھے کچھ وجوہات ضرور ہوںگے، جن کا ذکر آنے والی سطروں میں آئے گا۔
پہلا ہے دنیا کی محبت : مسلمانوں کواس بات کا صحیح ادراک ہے کہ دنیا فنا ہونے والی ہے۔ اس دنیا کے بعد ایک اور دنیا ہوگی، جہاں ہر اچھے اوربُرے کا فیصلہ ہوگا۔ دنیا آخرت کی کھیتی ہے، یہاں پر آخرت کی تیاری کا حکم دیا گیا ہے۔ یہ بھی ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ دنیا کی زینت بھی حرام نہیں ہے جب تک نہ اس میں غرق ہوکر اللہ کو بُلا دیا جائے۔ مگر ہم لوگ دنیا کی زینت سے اور یہاں کی رنگینیوں سے اس قدر متاثر ہوئے کہ اب ہم اُن کی طرح جینے لگے ہیں، جن لوگوں میں آخرت کی جوابدہی کا کوئی بھی تصور نہیں ہے۔ یہ ہے ہماری زندگی کا پہلا المیہ۔
دوسرا ہے اللہ پر کم بھروسہ : ہم بنانے والے پر بھروسہ کم مگر اس کی بنائی ہوئی نا پائدار چیزوں پر زیادہ بھروسہ کرتے ہیں۔ ہم مال کی موجودگی کو اصل مان لیتے ہیں، جسکا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ہم لوگ بھی اُنہیں کی طرح ہوجاتے ہیں، جو مادیت کو پوجتے ہیں۔ اس کا براہ راست اثر اُس شکل میں نکل آتا ہے کہ ہم اپنی پہچان کھو دیتے ہیں اور ان کے رنگ میں رنگ جاتے ہیں۔ ان کا مشاہدہ کرنے والے ان سے رازی ہوجاتے ہیںکیونکہ وہ جو کہتے ہیں، اُسے کر کے بھی دکھاتے ہیں لیکن ہم کہتے کچھ اور ہے مگر کرتے کچھ ہیں۔ یہ ہے دوسری مثال اوروں کی زندگیاں جینے کا۔
تیسرا ہے شہرت : اس کی خاطر ہم کسی بھی حدتک جاسکتے ہیں۔ ہم سے یہ واضح الفاظ میں کہا گیا تھا کہ گم نامی کی زندگی بہت اچھی ہے۔ اب اگر شہرت تمہارے پیچھے بھاگتی ہے، تو اس کی ذمہ داری آ پ پر نہیں آتی۔ مصیبت تب شروع ہو جاتی ہے جب انسان کو صرف یہی پریشانی لاحق ہو جائے کہ میں کیسے شہرت یافتہ بنوں۔ ہم بھی اب اس مرض کا شکار ہوچکے ہیں۔ قانونی یا غیر قانونی طریقے سے ہم شہرت کی بلندیوں کو چھونا چاہتے ہیں، اس طرح اپنی اصل پہچان کھو دیتے ہیں۔ ہم وہ بن جاتے ہیں جو ہم نہیں ہوتے۔ اس سے انانیت جنم لیتی ہے اور انسان کی شخصیت مسخ ہو جاتی ہے۔
چوتھا ہے ہمارا اپنا رویہ : زندگی کا نام مسلسل جدوجہد ہے۔ ایک ہزار باتیں برابر ہوتی ہے ایک عمل کے، مگر ہم صرف لفظوں کے جادوگر ہیں۔ عملی طور پر ہم کہیں نہیں پائےجاتے۔ مانا کہ آج مسلمان ترقی کے لخاظ سے بہت پیچھے ہیں، مگر اس کا یہ مطلب نہیں کہ ہم اپنی زندگیاں کسی اور کے حوالے کر کے خود مست خوابوں میں سو جائیں اور ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے رہیں۔ ہماری حالت غلاموں سی ہوگئی ہے، ذہنی غلامی سے لے کر سیاسی غلامی تک، ہم ہر جگہ دبے ہوئے ہیں۔ اس کی ایک ہی وجہ ہے کہ آسمان سے چیزوں کا نزول چاہتے ہیں۔ قوموں کی زندگیوں میں کئی مواقع زیادہ اہمیت کے حامل ہوتے ہیں، وہ لمحات مستقبل کا تعین کرتے ہیں۔ اقبال نے بھی اپنی ایک نظم میں اس کی طرف اشارہ کیا ہے کہ جب پرانے زمانے کا وقت ختم ہوجاتا ہے اور نیا زمانہ اپنی رنگینیوں کے ساتھ جلوہ گر ہوتا ہےتو اس وقت ایک قوم کا امتحان لیا جاتا ہے۔ مگر ہمارے پاس بہت سارے مواقع تھے کہ ہم اپنے آپ کو الگ کر کے دکھاتے مگر ہم نے ایسا نہیں کیا اور اس کا اثر ہماری اپنی خودی کےسودے کی شکل میں ہوگیا ہے۔
پانچواں اور آخری ہے اختلافات : مسلمانوں میں ہر قسم کے اختلافات پائے جاتے ہیں جو اس حد تک بڑھ چکے ہیں کہ ہم جن کو دشمن سمجھتے ہیں، ان کا ساتھ دینے میں کوئی دیر نہیں کرینگے، مگر اپنے مسلمان بھائی کو جو کہ اُمت کا ایک حصہ ہے، اُس کا سہارا نہیں بنیںگے۔ اس کا نتیجہ نکلا کہ ہماری توانائیاں غیر ضروری کاموں میں صرف ہوئیں اور ہم اپنی شناخت کو سنوارنے میں بہت دیر کر گئے۔
اب وقت کی نزاکت کو سمجھنا ہوگا۔ جو قوم موجودہ حالات کے ساتھ بہنے کا گن نہیں جانتے ہوں، ان کی قسمت میں رسوائی ہے۔ہمیں وقت کے ساتھ ساتھ چلنا ہی ہے، مگر اپنی شناخت کو بھی برقرار رکھنا ہے۔ ہمارے پاس کیا نہیں ہے، البتہ دنیا ماضی سے زیادہ حال اور آنے والے کل پر نظر رکھتی ہے۔ ہم نے ماضی میں جو بھی حاصل کیا، وہ ہم سے کوئی نہیں چھین سکتا۔ اب ہم کیا کر رہے ہیں ،وہ سنہرے حروف میں لکھا جائے گا۔ کیا ہم اپنی زندگیاں جینے کے لئے تیار ہے؟ کیا ہماری کوئی بھی شناخت نہیں ہے؟ سوال باقی ہے!
رابطہ:حاجی باغ، زینہ کوٹ