سرینگر //جموں کی انتظامیہ16برسوں میں 23سکولوں کی تعمیر مکمل نہیں کرسکی ہے۔تحصیل کرنا ہ کو یہ امتیاز حاصل ہے کہ یہاں 8اکتوبر 2005میں تباہ ہوئے قریب 23 اسکولوں کی تعمیر 16برسوں کے طویل عرصے کے دوران بھی مکمل نہیں ہوئی ہے۔کہیں پر سکولوں کی بنیادیں بنا کر کام چھوڑ دیا گیا، کہیں چار دیواریاں بنائی گئیں ہیں، کہیں سلیب ڈالنے کا انتظار ہے، کہیں کھڑکیاں اور در وازے نہیں کہیں، تو کہیں کوئی تعمیر ہی نہیں ہوئی ہے۔ہاں کرناہ کے دو مقامی اراکین اسمبلی اور ایک قانون ساز کونسل رکن نے اس عرصے کے دوران کرناہ کی نمائندگی کرنے کے دعوے ضرور کئے، لسانی بنیادوں پرووٹ بٹورے، لوگوں کو بیوقوف بھی بنایا لیکن بچوں کو تعلیم کے نور سے آراستہ کرنے کیلئے تدریسی اداروں کی تعمیر نہ کرواسکے۔دو سال قبل فنڈس کی کمی پورا کرنے کیلئے حکام نے لنگویشن سکیم شروع کی اور دعویٰ کیا کہ جن سکولوں کی تعمیر فنڈس کی عدم دستیابی کے نتیجے میںرکی ہوئی ہے ان کو سکیم کے دائرے میں لاکر ان کی تعمیر مکمل کی جائے گی لیکن سکیم کا بھی کوئی فائدہ نہیں مل سکا ۔ نامکمل سکولوں کی حالت یہ ہے کہ انہیں لوگوں نے مال مویشی کیلئے استعمال کیا ہوا ہے،منشیات فروشوں کے ٓدے ان میں قائم ہیں، کتوں نے ان عمارتوں کو اپنی آمجگاہ بنایا ہوا ہے، اور بیشتر مقامات پر لوگوں نے ان عمارتوں کو بیت الخلاء کے طور پر بھی استعمال کیا ہے۔ذرائع نے بتایا کہ ان سکولوں کی تعمیر کیلئے ارتھ کیوک ڈیولیمنٹ فنڈس سکیم کے تحت پیسہ واگزار کیا گیا تھا لیکن سرحدی علاقوں میں سکولوں کی تعمیر پر میٹریل کی لاگت زیادہ آنے سے ان کی تعمیر مکمل نہیں ہو سکی ۔حد تو یہ ہے کہ نا مکمل سکول عمارتوں پر خرچ کی گئی رقوم ٹھیکیداروں نے حاصل کر لیا ہے۔ کرنا ہ میں ایس ایس اے سکیم کے تحت 100سے زائد سکولوں کی تعمیر کا کام ہاتھ میں لیاگیا اور انکی تعمیر مکمل کی گئی لیکن محکمہ آر اینڈ بی نے جن 25سکولوں کی تعمیر کا کام ہاتھ میں لیا تھااْن میں سے 12سکول ابھی بھی تشنہ تکمیل ہیں اور ان سکولوں کے بچے یا تو ٹین کے شیڈوں میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں یا پھر انہیں دوسرے سکولوں کے ساتھ ضم کیا گیا ہے ۔ان سکولوں میں مڈل سکول درنگلا ، بوائز مڈل سکول کونہ گبرہ ،مڈل سکول بیاڑی ، گرلز مڈل سکول ایبکوٹ ، مڈل سکول مرچھلاں ، بوائز مڈل سکول دھنی ،مڈل سکول نہچیاں ، مڈل سکول جبڑی اور پرائمری سکول امروہی شامل ہیں۔سرحدی قصبہ اوڑی میں 16برسوں میں 11سکولوں کی تعمیر مکمل نہیں ہو سکی ہے۔ان سکولوں میں بوائز مڈل سکول اوڑی ، بوائز پرائمری سکول اوڑی بالا ،بوائز پرائمری سکول بنجراں ، بوائز پرائمری سکول بانڈی گھرکوٹ ، بوائز پرائمری سکول شیخ محلہ نامبلا ، بوائز پرائمری سکول غازی آباد ، گرلز پرائمری سکول دائورن ، بوائز پرائمری سکول اْپر دارا ، گرلز پرائمری سکول ناملہ( اے ) ،بوائز پرائمری سکول سلیکوٹ اوربوائز مڈل سکول موتھل شامل ہیں۔ان سکولوں کی حالت کرناہ سکولوں کی جیسی ہے۔مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ اگر ارتھ کیوک ڈیولپمنٹ سکیم کے تحت کرناہ اور اوڑی کے نام پر اربو ں روپے جمع کئے گئے،لیکن یہ کہاں خرچ ہوئے، اسکا حساب کوئی نہیں دے رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ 16برسوں میں سکولوں کی تعمیر کا خواب دیکھنا بھی لوگ بھول چکے ہیں اور لوگوں کے ذہنوں سے یہ بھی نکل چکا ہے کہ یہاں کبھی سکول بنائے گئے تھے ۔محکمہ تعمیرات عامہ کے چیف انجینئر کا کہنا ہے ’’مجھے تو پتہ ہی نہیں ہے ،2005میں اگر زلزلہ آیا تھا تو ابھی تک کیوں سکول نہیں بنیں ،میں اس بارے میں جانکاری حاصل کر کے بتا سکتا ہوں ‘۔