عظمیٰ نیوز سروس
سرینگر//کشمیر کے زعفران کی قیمتوں میں گزشتہ ایک سال کے دوران نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ تاجروں اور کاشتکاروں کے مطابق ایران میں جاری کشیدگی اور کشمیر میں زعفران کی کم پیداوار اس اضافے کی بڑی وجوہات ہیں۔فی الحال جی آئی (GI) ٹیگ یافتہ کشمیری زعفران 350 سے 400 روپے فی گرام میں فروخت ہو رہا ہے، جبکہ گزشتہ سال اسی عرصے میں اس کی قیمت 200 سے 250 روپے فی گرام تھی۔ اسی طرح عام زعفران کی قیمت بھی 200 روپے سے بڑھ کر تقریباً 300 روپے فی گرام تک پہنچ گئی ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران دنیا میں زعفران کا سب سے بڑا پیدا واری ملک ہے اور عالمی پیداوار کا تقریباً 90 فیصد حصہ ایران سے آتا ہے۔ ایران میں پیدا ہونے والی غیر یقینی صورتحال اور سپلائی میں رکاوٹوں کے باعث عالمی منڈی میں زعفران کی قیمتیں بڑھ گئی ہیں۔دوسری جانب کشمیر میں بھی زعفران کی پیداوار گزشتہ چند برسوں سے موسم کی خرابی کی وجہ سے متاثر ہو رہی ہے۔
پامپور اور پلوامہ کے زعفران کاشتکاروں کا کہنا ہے کہ بے وقت بارشوں، طویل خشک موسم اور درجہ حرارت میں تبدیلیوں نے فصل کو نقصان پہنچایا ہے، جس کے نتیجے میں پیداوار کم ہوئی ہے۔کاشتکاروں نے کہا کہ اگرچہ حکومت نے نیشنل سیفران مشن کے تحت آبپاشی اور دیگر سہولیات فراہم کی ہیں، لیکن موسمی تبدیلیاں اب بھی زعفران کی کاشت کے لیے بڑا چیلنج بنی ہوئی ہیں۔اننت ناگ کے ایک تاجر کے مطابق کشمیر میں زعفران کی پیداوار کم ہے جبکہ ایران کی صورتحال نے قیمتوں میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ آنے والے مہینوں میں قیمتیں مزید بڑھ سکتی ہیں۔کشمیر بھارت کے تقریباً 90فیصد زعفران کی پیداوار فراہم کرتا ہے اور اس کی زیادہ تر کاشت پامپور کے علاقوں میں ہوتی ہے، جسے زعفران ٹاؤن بھی کہا جاتا ہے۔ کشمیری زعفران کو 2020میں جی آئی ٹیگ ملا تھا، جس سے اس کی عالمی شناخت مزید مضبوط ہوئی۔سرکاری اعداد و شمار کے مطابق زعفران کی کاشت کا رقبہ 1996-97میں5707ہیکٹر تھا جو کم ہو کر 2019-20 میں 2387ہیکٹر رہ گیا۔ اسی طرح پیداوار میں بھی مسلسل اتار چڑھاؤ دیکھا گیا ہے اور 2024 اور 2025میں پیداوار توقعات کے مقابلے میں بہت کم رہی۔تاجروں اور ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر ایران میں کشیدگی برقرار رہی اور کشمیر میں پیداوار بہتر نہ ہوئی تو زعفران کی قیمتیں آئندہ مہینوں میں بھی بلند رہنے کا امکان ہے۔ تاہم کم پیداوار کے باعث بیشتر کاشتکار موجودہ بلند قیمتوں سے مکمل فائدہ اٹھانے سے محروم ہیں۔