عظمیٰ نیوز سروس
نئی دہلی//سرکاری آئل مارکیٹنگ کمپنیوں (OMCs)کی منافع بخش صورتحال میں بہتری کے آثار ظاہر ہو رہے ہیں کیونکہ خام تیل کی قیمتوں میں کمی سے ایندھن کی مارکیٹنگ مارجنز بہتر ہو رہی ہیں۔ تاہم بڑھتا ہوا قرض اور فیول ٹیکسز سے متعلق غیر یقینی صورتحال طویل مدتی آمدنی کے منظرنامے کو محدود کر سکتی ہے، یہ بات جے پی مورگن رپورٹ میں کہی گئی ہے۔رپورٹ کے مطابق پیٹرول اور ڈیزل کی فروخت پر سرکاری ریفائنرز اور ریٹیلرز کی مجموعی مارجنز اب حالیہ مشرق وسطی تنازع سے پہلے کی سطح سے بھی اوپر جا چکی ہیں۔ اس بہتری کی بڑی وجہ خام تیل کی قیمتوں میں کمی اور مرکزی ایکسائز ڈیوٹی میں کمی کو قرار دیا گیا ہے۔
مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کے آغاز پر عالمی تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوا تھا، تاہم بھارت میں ریٹیل فیول قیمتیں طویل عرصے تک مستحکم رہیں اور صرف معمولی اضافہ دیکھا گیا۔ مئی میں پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں 7.50 روپے فی لیٹر اضافے کے باوجود بھی ریٹیل نرخ حقیقی لاگت سے کم رہے۔رپورٹ میں کہا گیا کہ LPG پر خسارے اب بھی زیادہ ہیں، لیکن خام تیل کی قیمتوں میں کمی کے اثرات جلد اس شعبے تک بھی پہنچ سکتے ہیں۔ ساتھ ہی یہ بھی بتایا گیا کہ موجودہ مالی سال کی پہلی سہ ماہی(اپریل تا جون)میں کمپنیوں کی آمدن پر انوینٹری نقصان کے باعث دبا رہے گا، تاہم دوسری سہ ماہی میں منافع بہتر ہونے کی توقع ہے۔رپورٹ میں کہا گیا کہ حکومت نے مارچ میں پیٹرول اور ڈیزل پر ایکسائز ڈیوٹی 10 روپے فی لیٹر کم کی تھی ۔تاکہ ریٹیل قیمتوں میں فوری اضافہ نہ ہو۔ یہ امکان بھی ظاہر کیا گیا کہ جب عالمی قیمتیں مستحکم ہوں گی تو یہ ڈیوٹیز دوبارہ بحال کی جا سکتی ہیں۔