کشمیر میں حالیہ عرصہ کے دوران کچھ عجیب و غریب واقعات پیش آئے جن سے سیاسی اُتھل پتھل پیدا ہوئی۔ آئی اے ایس فیصل شاہ نے اپنی ملازمت سے استعفیٰ دیا۔ کشمیریوں کے مفاد کے لئے عملی سیاست میں داخل ہوگئے۔ اب زائرہ وسیم نے اچانک فلمی دنیا سے تعلق ختم کردینے کا اعلان کیا۔ فیس بک پر ان کی 6صفحات پر مشتمل تحریر کا اگر بغور مطالعہ کیا جائے تو اندازہ ہوتا ہے کہ اس کشمیری لڑکی نے ضمیر اور نفس کے کشمکش میں ضمیر کو فتح یاب کیا۔ یہ بہت کم دیکھنے میں آیا ہے کہ کسی بالی وُڈ اداکارہ نے اپنی کیریر کے سنہری دور میں اسے ترک کیا ہو، بلکہ حقیقت تو یہ ہے کہ کوئی ایک مرتبہ بالی ووڈ میں داخل ہوجاتا ہے وہاں کی چمک دمک سے اس قدر اس کی آنکھیں چندھیا جاتی ہیں کہ بالی وُڈ سے باہر کی دنیا نظر ہی نہیں آتی۔ یہی وجہ ہے کہ وہ اس وقت تک وہیں پر رہتی ہیں‘ تاوقتیکہ یا تو زندگی سے اس کا رشتہ ٹوٹ جاتا ہے یا پھر خود بالی وُڈ اسے فراموش کردیتا ہے۔ بالی وُڈ میں قسمت آزمائی کے لئے ہزاروں لڑکیوں نے اپنی زندگی تباہ کی ہے۔ چند ایک کو کامیابی مل جاتی ہے مگر اس کے لئے انہیں کیا قیمت چکانی پڑتی ہے‘ وہ وہی بتاسکتی ہیں جنہیں کامیابی نہیں ملتی چوں کہ وہ کشتیاں جلاکر رشتے ناطے توڑ کر آجاتی ہیں‘ اس لئے چاہنے کے باوجود واپس نہیں جاسکتیں۔ ان میں سے کچھ کا بالی ووڈ کے پروڈیوسر، ڈائرکٹر، مین پاور سپلائرس استحصال کرتے ہیں اور کچھ جسم فروشی کے ذریعہ اپنی گذر بسر کرتی ہے۔ جتنی بھی کامیاب سپر اسٹار اداکارائیں ہیں‘ وہ بھی ہر بدترین دور سے گذر کر کامیابی کی دہلیز تک پہنچی ہیں۔ اس موضوع پر کئی فلمیں بنائی جاچکی ہیں اور کئی ناولیں لکھی جاچکی ہیں۔
یہ حقیقت ہے کہ بالی وُڈ کا اپنا کوئی مذہب نہیں۔ یہاں کسی کی مذہبی شناخت نہیں ہے۔ چند ایک کو چھوڑ کر سبھی نے اپنے کیریئر کو سنبھالنے کیلئے اچھے برے حالات سے سمجھوتہ کیا ہے۔ کسی مسلم نام کی اداکارہ کو غیر مسلم پروڈیوسر ڈائرکٹر یا اداکار کی منظور نظر بن کر زندگی گزارنی پڑتی ہے تو کسی مسلم نام کے اداکار کو بالی وُڈ میں تعصب پرستوں سے بچنے کے لئے غیر مسلم بیویوں کا سہارا لینا پڑتا ہے۔ بالی وُڈ کی تاریخ گواہ ہے کہ اداکاری کے شوق میں آنے والی لڑکیاں یا تو ان کا خاندانی پس منظر اُس معیار کا نہیں ہوتا جو بالی وُڈ میں داخلے کی اجازت دیتا، یا جو باقاعدہ مختلف ایکٹنگ انسٹی ٹیوٹ سے فلمی دنیا میں داخل ہوتی ہیں‘ وہ بھلے ہی مالی اعتبار سے مستحکم اور تعلیم یافتہ اور آزاد خیال کیوں نہ ہوں‘ ان کے ارکانِ خاندان کو بھی وقت لگ جاتا ہے کہ وہ اپنی لڑکیوں سے اپنے رشتے کا علی الاعلان اظہار کرسکیں۔ جہاں تک مسلم معاشرہ کا تعلق ہے‘ مسلم اداکاروں کو تو معاشرہ ہیرو کے طور پر تسلیم کرلیتا ہے اور ان کا مداح بھی ہوجاتا ہے‘ مگر مسلم ایکٹرس کا معاملہ آجائے تو وہ اسے پسند نہیں کرتا۔ کیوں کہ بالی وُڈ کی تاریخ جس کا مشاہدہ مختلف فلموں کے ذریعہ کیا جاسکتا ہے‘ اس بات کی گواہی دیتی ہے کہ جب کبھی مسلم نام کی ادکارائیں فلمی دنیا میں داخل ہوتی ہیں‘ تو پروڈیوسر اور ڈائرکٹر اُنہیں جتنا عریاں کرنا چاہتے ہیں‘ کرکے رہتے ہیں۔ چاہے زینت امان ہو یا ممتاز، ظاہرہ ( فلم دھرماتما ) ریحانہ سلطان ہو یا کوئی اور۔
بیشتر مسلم نام کی اداکارائوں نے مصلحتاً یا مجبوری کے تحت یا پھر محبت کے نام پر اپنے آبائی مذہب سے تعلق ختم کیا۔ نرگس نے سنیل دت سے شادی کی۔ مغل اعظم کی انار کلی مدھو بالا ممتاز جہاں بیگم کے نام سے پیدا ہوئی تھی‘ ان کے والد سخت مزاج کے تھے۔ ہمیشہ شوٹنگ کے موقع پر وہ سیٹ پر موجود ہوا کرتے تھے۔ اس کے باوجود مدھوبالا کی شادی گلوکار کشور کمار سے ہوئی۔ سائرہ بانو کی شادی راجندر کمار سے ہوتے ہوتے رہ گئی کیوں کہ ان کی والدہ نسیم بانو رُکاوٹ بن گئی۔ سائرہ قسمت والی تھیں‘ کہ اپنے سے دوگنی والے یوسف خان ( فلمی نام دلیپ کمار) سے شادی ہوئی اور دونوں اب بھی ساتھ ساتھ ہیں۔ ممتاز نے اپنے کیریئر کے دورِ عروج میں امریکہ میں مقیم این آر آئی میور مادھوانی سے شانتی بن کر سات پھیرے لگائے۔ وحیدہ رحمان نے کمل جیت سے شادی کی۔ کہا جاتا ہے کمل جیت نے اسلام قبول کیا تھا مگر اس کی کوئی تصدیق نہیں کی گئی۔ البتہ کمل جیت کا اصل نام شیشی ریکھی تھا اور ان سے وحیدہ رحمن کی جو اولاد ہے‘ان کے نام سہیل ریکھی اور کاشوی ریکھی ہے۔ تبو کی بہن فرح نے داراسنگھ کے بیٹے وندو سے شادی کی۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ بعض بڑے بڑے اداکاروں نے محض ہندو دھرم میں دوسری شادی کی اجازت نہ ہونے کی بناء پر صرف شادی کی خاطر وقتی طور پر اسلام قبول کیا نکاح کیا اور پھر اپنے دھرم پر واپس چلے گئے۔ دھرمیندر، ونود مہرہ اور ایسے کئی نام ا س لسٹ میں شامل ہیں۔
زائرہ وسیم ابھی چھوٹی عمر کی تھی اور اس کے لئے شادی کا مرحلہ نہیں آیا تھا۔ فلمی دنیا میں کامیابی اس کے قدم چوم رہی تھی۔ اتفاق سے اس کی دونوں کامیاب فلمیں ’’دنگل، اور سکریٹ سوپر اسٹار‘‘ میں موصوفہ کی اداکاری بھی اچھی تھی ساتھ ہی ان فلموں میں ایک پیغام بھی تھا۔ اگرچہ ’’ سکریٹ سوپر اسٹار‘‘ میں قدامت پسند مسلم شوہر کے خلاف بیٹی کی کیریئر کی خاطر بیوی کی بغاوت کو پیش کیا گیا۔ ایسی ہی پاکستانی فلم ’’خدا کے لئے‘‘ بھی چند برس پہلے ہندوستان میں ریلیز ہوئی تھی جس میں نصیرالدین شاہ نے ایک عالم دین کا کردار ادا کیا تھا، جس میں اس نے مذہبی حوالوں سے موسیقی کو جائز قرار دینے کی کوشش کی تھی۔ زائرہ وسیم کی تیسری اور اب تک کی آخری فلم ’’دی اسکائی از پنک‘‘ میں بھی اس کا کیا رول بہت جاندارہے۔ یہ مشہور Motivational اسپیکر عائشہ چودھری کی زندگی پر مبنی ہے، جو صرف 13برس کی عمر میں جسم کی قوت مدافعت کی کمی کی وجہ سے جانبر نہ ہوسکی۔ہوسکتا ہے یہ فلم بھی کامیاب رہے۔ بہرحال اس کشمیری اداکارہ نے اپنے طویل مکتوب کے ساتھ فلمی دنیا کی چکاچوند سے آنکھیں پھیرلی ہیں۔ اپنے مکتوب میں انہوں نے قرآنی آیات اور احادیث کا جس طرح سے حوالہ دیا ہے‘ اس سے یہ ا ندازہ ہوتا ہے کہ اس لڑکی نے واقعی اپنے مذہب کا بڑی گہرائی کے ساتھ مطالعہ شروع کیا ہے اور اگر یہ تحریر واقعی اسی کی ہے تو مستقبل میں یہ نئی نسل پر اثر انداز ہوسکتی ہے۔ ملالہ یوسف زئی کو افغانستان میں تعلیم نسواں کی تحریک کے لئے قربانی کے لئے ایک رول ماڈل کے طور پر پیش کیا گیا۔ تاہم زائرہ وسیم نہ صرف کشمیریوں بلکہ ہندوستانی مسلم لڑکیوں پر بھی اثرانداز ہوسکتی ہے کیوں کہ اس نے اپنی تحریر اور فیصلے کے ذریعہ یہ پیغام دیا ہے کہ کامیابی ‘ شہرت اور دولت کے باوجود وہ ذہنی سکون اور قلبی طمانیت سے محروم تھی۔ اس کا ضمیر اسے کچوکے دیتا رہا اور دنیا میں سکون و طمانیت سے بہتر کچھ نہیں،اور یہ سکون اللہ سے لو لگانے میں ہی مل سکتا ہے۔ وہ لڑکیاں جو زائرہ وسیم کو دیکھ کر بالی وُڈ کی گلیمریس اور رنگین دنیا میں جانے کے لئے بے چین رہی ہوںگی، ایک لمحہ کے لئے ہی سہی اپنے فیصلے پر نظر ثانی کے لئے ضرور مجبور ہوںگی ۔ہمارے پاس ایسی اَن گنت مثالیں ہیں جب ہمارے سلیبریٹیز نے عزت‘ شہرت اور دولت کے باوجود سکون اور قلبی طمانیت کے لئے اپنے آپ کو راہ حق پر ڈال دیا۔ جنید جمشید پاپ سنگر کے طور پر دنیا بھر میں مشہور تھے‘ ان کا’’ دل دل پاکستان‘ ‘ہر پاکستانی کی زبان پر تھا۔ مولانا طارق جمیل کے الفاظ میں جنید جمشید نے ایک بار یہ خواہش ظاہر کی تھی کہ وہ امیتابھ بچن کی طرح شہرت حاصل کرے۔ کچھ عرصہ بعد جب انہوں نے پاپ میوزک چھوڑ کر ایک مبلغ اسلام کی حیثیت سے اپنی زندگی کا آغاز کیا فلمی نغموں کی جگہ حمد و نعت شریف بارگاہ رسالت مآبؐ میں نذرانہ سلام پیش کرنا شروع کیا تو انہیں شہرت سے زیادہ عزت ملنے لگی اور لوگ آٹو گراف لینے سے زیادہ ان کے ہاتھ چومنے لگے اور یہ مقام امیتابھ بچن کو بھی نہیں ملا
سعید انور، مشتاق احمد، ثقلین مشتاق اور انضمام الحق کو جب اللہ رب العزت نے توفیق کی تو وہ کھلاڑی جو اپنے کھیل سے کبھی واہ واہ وصول کرتے تھے تو کبھی خراب مظاہرہ پر گالیاں بھی سنتے تھے۔ جب دین حق کی تبلیغ کے لئے نکل گئے تو صرف اور صرف عزت ہی ان کے حصہ میں آئی اور یہی حال ہاشم آملہ، معین علی اور عادل رشید کا ہے۔آج بھی مبلغین اسلام اور نعت خوانوں کا جو مقام ہے وہ کسی بھی بالی ووڈ کی سلیبریٹی کو نہیں مل سکتا۔ فلمی دنیا میں اپنا مقام بنانے کے لئے جدوجہد کرنے والے یا اس جدوجہد میں کامیاب اداکارائوں کا بھی ضمیر کچوکے لگاتا ہوگا ۔ سب کچھ پالینے کے بعد سب کچھ کھولینے کا احساس انہیں ہر پل ہر لمحہ کچوکے لگاتا ہے اور اس درد کو سہنے کے لئے وہ شراب، ڈرگس کا سہارا لیتی ہیں اور آہستہ آہستہ دلدل میں اتنا دھنستی ہیں کہ آخر میں اس کا پورا وجود اس دلدل کا حصہ بن جاتا ہے۔ ’’می ٹُو‘‘ کی مہم نے ممبئی کی فلم نگری کا اصلیت بھی ظاہر وباہر کردی ۔
الغرض زائرہ وسیم خوش نصیب ہیں جس پر اللہ کی رحمت خاص ہے کہ وہ اس دلدل سے نکل گئیں اور ایک ایسے وقت جب مسلمانوں سے نفرت کا ماحول اس ماحول میں ایک ہندو پنڈت ہندو اداکارائوں کو مشورہ دینے کے مجبور ہوتا ہے کہ وہ زائرہ وسیم سے سبق لیں، کاش ہماری قوم کی بیٹیاں بھی زائرہ کے اس فیصلے سے کوئی سبق لیں۔
…………………………
رابطہ : ایڈیٹر’’ گواہ اردو ویکلی‘‘ حیدرآباد۔ فون:9395381226