عظمیٰ نیوز سروس
سرینگر// وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے جمعہ کو نیشنل کانفرنس کے سینئر رہنما اور ایم پی آغا سید روح اللہ کی جموں و کشمیر میں سرکاری ملازمتوں اور پیشہ ورانہ کالجوں میں ریزرویشن کے معاملے پر سرزنش کی۔ریزرویشن پر رکن پارلیمنٹ کے بیانات پر اپنے سخت ردعمل میں عبداللہ نے کہا: “میں کسی کی دھمکیوں سے نہیں ڈرتا اور نہ ہی دبائو میں آکر کوئی غلط فیصلہ لوں گا، مجھے نہیں معلوم کہ آپ اپنے بارے میں کیا سوچتے ہیں۔”وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ریزرویشن پالیسی جیسے معاملات کو ڈرا دھمکا کر یا سڑکوں پر دبا ئوکے ذریعے حل نہیں کیا جا سکتا اور تمام سٹیک ہولڈرز کے ساتھ مناسب مشاورت کے بعد اسے آئینی اور قانونی فریم ورک کے اندر حل کیا جانا چاہیے۔اس کا سخت ردعمل روح اللہ مہدی کی جانب سے حال ہی میں حکومت کو خبردار کرنے کے بعد آیا ہے کہ اگر وہ 27 دسمبر تک احتجاج کرنے والے طلبا کے ساتھ بات چیت کرنے میں ناکام رہی تو وہ ذاتی طور پر ان کے احتجاج میں شامل ہو جائیں گے۔جموں و کشمیر میں اوپن میرٹ کے امیدواروں کے لیے ریزرویشن کوٹہ کو بڑھا کر 40 فیصد کرنے کے لیے، عمر عبداللہ کی سربراہی میں ریاستی کابینہ نے پسماندہ علاقے کے رہائشی (RBA) کے تحت ریزرویشن کوٹہ میں 3 فیصد اور اقتصادی طور پر کمزور طبقوں کے لیے ریزرویشن کوٹہ کو 7 فیصد کم کرنے کی سفارش کی ہے۔ ادھروزیر تعلیم سکینہ ایتو نے کہا کہ کچھ لوگ ریزرویشن کے معاملے پر نوجوانوں اور طلبا کو گمراہ کر رہے ہیں اور غیر ضروری طور پر حکومت کو نشانہ بنا رہے ہیں حالانکہ اس معاملے کو کابینہ نے پہلے ہی کلیئر کر دیا ہے۔انہوں نے کہا کہ”حکومت نے اپنا کردار ادا کیا ہے،وزرا کی کونسل نے ریزرویشن سے متعلق ترامیم کی منظوری دے دی ہے اور اس فیصلے کو منظوری کے لیے لیفٹیننٹ گورنر کو پیش کر دیا ہے،” ۔انہوں نے کہا کہ اس مرحلے پر حکومت پر کی جانے والی تنقید غلط ہے۔