نئی دہلی // پارلیمان کے ایوان زیریں یعنی لوک سبھا میں سنیچر کے روز جموں وکشمیر تنظیم نو(ترمیمی )بل مجریہ 2021 منظورکی گئی۔اس سے قبل مذکورہ ترمیمی بل پرایوان میں حزب اقتدار اورحزب اختلاف سے وابستہ ممبران نے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے ترمیمی بل پر ہوئی بحث کو سمیٹتے ہوئے کہا’’ حکومت جموں و کشمیر کو ایک مناسب وقت پر مکمل ریاست دینے کا عزم رکھتی ہے،اور ایسا ہوگا‘‘۔ امت شاہ نے کہاکہ جموں و کشمیر کو مناسب وقت پر ریاست کا درجہ دیا جائے گا ۔وزیر داخلہ نے واضح کیا کہ اس بل کا جموں و کشمیر کے ریاستی درجے کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے۔مرکزی وزیرداخلہ کاکہناتھا’ہم جموں وکشمیر کو ریاست کادرجہ دیں گے،میں نے پہلے ہی کہا ہے کہ یہ ایک عارضی نظام ہے‘‘۔مرکزی وزیر داخلہ نے سرکار کے جموں و کشمیر کو خوشحال اور خود انحصار بنانے کے عزم کو دہراتے ہوئے ہوئے کہا ہے کہ مرکز کے زیر انتظام علاقوں جموں و لداخ میں تیزی سے ترقیاتی کام جاری ہیں ، اس لئے سیاسی مفاد کیلئے عوام کوگمراہ نہیں کیا جانا چاہئے ۔ شاہ نے ہفتہ کے روز لوک سبھا میں جموں و کشمیر تنظیم نو (ترمیمی) بل 2021 پر بحث کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ جموں و کشمیر میں آرٹیکل 370 کے خاتمے کے بعد جو ترقی ہوئی ہے وہ 70 برسوں میں نہیں ہو سکی ۔ اس بل کے ذریعے وہاں انتظامی نظام کو مضبوط کیا جارہا ہے اور جو لوگ یہ خدشہ ظاہر کر رہے ہیں کہ یہ بل وہاں یونین ٹیر یٹری کا درجہ مزید بڑھانے والا ہے ، ان کا خدشہ بے بنیا د ہے اور اس بل کا اس طرح کا کوئی مقصد نہیں ہے ۔وزیر داخلہ نے کہا کہ جموں و کشمیرسے 370 کی منسوخی کے بعد سے پنچایتی راج شروع ہو گیا ہے اور 51.7 فیصد لوگوں نے ووٹنگ میں حصہ لے کر خوشحالی قائم کرنے کیلئے پنچایت ، بلاک پنچایت اور ضلع پنچایتوں کے لئے اپنے نمائندوں کا انتخاب کر کے ان کو اپنی خوشحالی کی ذمہ داری سونپی ہے ۔ ڈی ڈی سی چیرمین کو ضلع افسر کی طرح اختیارات دیئے گئے ہیں اور وہ دہشت گر ادانہ واقعہ یا اس سے متاثرکسی بھی خاندان کے لئے 25 لاکھ روپے تک وگذار کر سکتا ہے ۔انہوں نے کہا کہ ریاست سے 370 کو ختم ہوئے 17 ماہ ہوئے ہیں اور اپوزیشن کے اراکین اس دور میں وہاں ترقیاتی کاموں کا حساب مانگ رہے ہیں جنہوں نے 70 سال تک وہاں حکومت کی ۔ شاہ نے کہا کہ سال 2022میں ریل خدمات کے ذریعے جموںکشمیر کو ملک کے دیگر حصوں کے ساتھ جوڑ دیا جائے گا ۔ انہوں نے کہا کہ جموں کشمیر کی تعمیر و ترقی میں سب سے بڑی رکاوٹ یہ تھی کہ لوگ وہاںزمین نہیںخرید سکتے تھے جس کے باعث وہاں فیکٹریوںکا قیام ممکن نہ ہو سکا ۔ انہوںنے کہا کہ آج کے دور میں جموں کشمیر راجستھان اور پنجاب سے کم نہیںہے اور جموںکشمیر کے لوگوں کو اس بات کی فکر نہیںکرنی چاہیے کیونکہ ان سے کوئی زمین چھین نہیںسکتا اور کہا کہ حکومت کے پاس پہلے ہی کافی زمین موجود ہے جہاں فیکٹریوں اور انڈسٹر ی کا قیام عمل میںلاکر جموںکشمیر کی اقتصادی ترقی کو یقینی بنایا جا سکتا ہے ۔ ان کا کہنا تھا کہ جموں و کشمیر میں ترقیاتی کام ہونے کے ساتھ ساتھ لوگوں کو انصاف مل رہا ہے ، نوکریاں پہلے کی طرح خطوط لکھ کر نہیں ملتی ، اس کے لئے بچوں کو بھرتی بورڈ کا امتحان پاس کرنا ہوگا اور انہی بچوں کو نو کری ملے گی، جو اہل ہوں گے ۔سرپنچ بھی عوام کی خدمت کرتے ہوئے لوک سبھا تک اپنی قابلیت سے پہنچ سکتا ہے ، جبکہ 70 برسوں میں صرف تین خاندانوں تک یہ حق ایک طرح سے محدود تھا۔اپوزیشن جماعتوں سے اپنی سیاست کیلئے عوام کو گمراہ نہ کرنے کی اپیل کر تے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ معاملہ اس ریاست کی ترقی سے وابستہ ہے جس کو سیاست کی وجہ سے کئی دہائیوں سے دہشت گردی کا شکار ہونا پڑا ، اس پر اب سیاست نہیں کی جانی چاہئے اور جو حقیقت ہے ، اسی پر بات کر کے عوام کو صحیح پیغام دینا چاہئے ۔ انہوں نے کہا کہ گمراہی کرنے کی سیاست کرنے والوں کو یہ سمجھ لینا چاہئے کہ کہ 370 کی بحالی کو بنیاد بنا کر الیکشن لڑنے کا ان کا خواب چکنا چور ہوا ہے ۔