رام بن //ریاست کے باقی علاقوں کی طرح ضلع رام بن میں بھی رہبر تعلیم ٹیچرس کی طرف سے سکول بند کرکے ایک احتجاجی مظاہرہ کیا گیا اور اپنی تنخواہوں کے ڈی۔ لنک کرنے اور ساتویں تنخواہ کمیشن کے مطابق تنخواہیں واگذار کرنے کے مطالبے کو لیکر احتجاجی ٹیچروں نے زونل ایجوکیشن افسروں کو میمورنڈم بھی پیش کئے۔ اس موقع پر بی ایل اوز کی اضافی ڈیوٹی کرنے والے ٹیچروں نے متفقہ طور پر اپنے استعفے حکام کو پیش کئے۔ اس موقع پر مقررین نے سرکار سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ رہبر تعلیم ٹیچروں کے مسائل کو طْول دینے کے بجائے انہیں حل کرنے میں سنجیدگی دکھائے تاکہ اساتذہ کو بار بار سڑکوں پر نہ آنا پڑے۔ اساتذہ کی ہڑتال کی وجہ سے رام بن ضلع کے بانہال ، کھڑی ، اکڑال ، پوگل پرستان ، بٹوت، گول کے علاقوں میں پرائمری اور مڈل سکولوں میں کام متاثر رہا اور بیشتر سکول ٹیچروں کی ہڑتال کی وجہ سے بند پائے گئے۔ بانہال ، کھڑی اور بٹوت میں رہبر تعلیم ٹیچروں نے زونل تعلیمی دفتروں کے سامنے احتجاجی مظاہرے کئے۔ انہوں نے کہا کہ تنخواہوں کو مرکزی سرکار سے ڈی۔ لنک کرکے تنخواہوں کو ریاستی بجٹ سے دینے اور ساتویں تنخواہ کمیشن کے مطابق تنخواہیں واگذار کرنے کا اعلان کرنے تک احتجاجی کلینڈر مطابق احتجاج جاری رہے گا اور عید کی نماز سرینگر میں ادا کی جائے گی۔ بٹوت میں جموں وکشمیر رہبر تعلیم ٹیچرس فورم کے سینئر وائس چیرمین بھوپندر سنگھ نے وہاں رام بن ، اکڑال وغیرہ سے پہنچے ٹیچروں سے خطاب کیا۔ بانہال میں اس موقعہ پر ٹیچرس فورم کے ضلع صدر سجاد احمد خان ، فورم کے صوبائی صدر آفتاب ملک ، ریاستی ایگزیکٹیو ممبر و میڈیا انچارج مظفر احمد وانی ، جرنل سیکریٹری شفقت نثار ، زونل صدر بہار میر جبکہ کھڑی میں ایگریکیٹیو ممبر مشاق احمد ملک ، زونل صدر فاروق احمد وانی نے احتجاجی دھرنے پر بیٹھے ٹیچروں کو خطاب کیا۔