سالِ رفتہ میں مہلک کرونا وائرس کے پھیلاؤ نے پوری دنیا میں زندگی کے ہر شعبے کو جھنجوڑ کے رکھ دیا۔ ہر شہر میں سناٹا اور ہر علاقہ سْنسان تھا۔پورا عالم لاک ڈائون میں تھا۔اس وجہ سے نہ صرف معاشی اور جانی نقصان ہوا، بلکہ ایک ایسے نقصان سے ہر ملک کو دوچار ہونا پڑا جس کی تلافی بے حد مشکل ہے۔وہ نقصان تعلیم کے شعبے کا ہے۔باقی دنیا کے ساتھ ساتھ ہماری وادی کا حال بھی کچھ ایسا ہی تھا۔یہاں پچھلے برس مارچ میں سکول کھلتے ہی مذکورہ بیماری کے پھیلاؤ کو روکنے کیلئے جلدی ہی تعلیمی ادارے بند کرنے پڑے اور تب سے بند ہی ہیں اور یوں طالب ِ علموں کا بہت قیمتی وقت ضائع ہوا۔ متعلمین اپنے سماج کا مستقبل ہوتے ہیں۔جس قوم کے طالب علم ذہین اور محنتی ہوتے ہیں، اس قوم کا آنے والا کل بہت ہی روشن اور تابندہ ہوتا ہے۔ ملک و قوم کی ترقی کا دارومدار طالب علموں پر ہوتا ہے۔لہٰذا وہ کسی بھی ملک و قوم کیلئے گراں بہا ہوتے ہیں۔دنیا کی عظیم قومیں تعلیم اور طالب علموں کو فوقیت دیتے ہیں۔
ہماری وادی میں یکم مارچ 2021سے ہائر سکینڈری سطح سے نیچے تمام تعلیمی ادارے ایک طویل اور دشوار گزار مرحلے کے بعد کھلنے والے ہیں جو ایک خوش آئند بات ہے۔دوسری طرف وادیٔ کشمیر میں یکم مارچ سے ہی موسم بہار کی بھی شروعات ہوتی ہے۔لہٰذا امسال یہ بہار کچھ زیادہ ہی سہانی ہونے والی ہے کیونکہ انسان کو مشکل حالات سے گزرنے کے بعد جب راحت ملتی ہے تو وہ بے حد مزے دار ہوتی ہے۔چنانچہ ربِ کعبہ قرانِ کریم میں فرماتا ہے؛ "یقینامشکلات کے ساتھ آسانی بھی ہوتی ہے "( سورت الشرح)
اس سال تعلیمی اداروں کے کھلنے کا لوگ بے صبری سے انتظار کر رہے ہیں۔یوں تو ہر سال اس موقعے پر بڑی چہل پہل ہوتی ہے،لیکن آج صورتحال کچھ اور ہی ہے۔ مدرسوں کے صحنوں میں جب ننھے بچے اپنی معصوم زبانوں سے رب العزت سے دعا کرتے ہیں تو بڑے سے بڑا سنگ دل بھی بچشم ِ نم محضوظ ہوجاتاہے لیکن بدقسمتی سے پچھلے ایک سال سے ایسی سکون بخش آوازیں کہیں بھی سنائی نہیں دیں۔ہمارے تعلیمی ادارے سنسان اور ویران ہوگئے۔ یہ صورتحال بہت ہی اذیت ناک ہے۔کہتے ہیں کہ وقت ہر چیز کی دوا ہے۔ یہاں یہ کہاوت بالکل صحیح بیٹھتی ہے کیونکہ ہر گھڑی گزرنے کے بعد اس اضطرابی کیفیت میں بہتری آنے لگی۔ الحمداللہ!! اللہ تعالی کے فضل وکرم سے کرونا وائرس کا زور بھی کافی حد تک کم ہوا ہے۔جس کے نتیجے میں زندگی کا ہر شعبہ معمول پر آنے لگا۔
چونکہ وادیٔ کشمیر میں روایتی طور پر موسم سرما کی سخت سردی اور امکانی برفباری کے پیش ِ نظر تمام سرکاری و غیر سرکاری تعلیمی ادارے بند رہتے ہیں اور مارچ مہینے کے آغاز سے ہی کام کاج شروع کردیتے ہیں۔حالانکہ اس وقفے میں سرکار کی طرف سے مفت کوچنگ کا بھی اہتمام کیاجاتا ہے ، جو اس سال بھی جاری ہے ، لیکن اس بار تھوڑی بہت دیر سے شروع ہوا۔بہرحال' دیر آید درست آید' کے مصداق وقت کی ضرورت کے مطابق محکمہ تعلیم نے سکول کھولنے کا بالکل صحیح فیصلہ لیا ہے۔چونکہ ہمارے بچوں کا بہت سارا قیمتی وقت تلف ہوا ہے۔اس نقصان کی بھر پائی کرنے کیلئے بہت زیادہ محنت کی ضرورت ہے۔ حکومت کو چاہئے کہ طالب علموں کی بہتری اور فائدے کے لئے زیادہ سے زیادہ موثر اقدامات اٹھائے جائیں اور معلمین حضرات سے بھی توقع کی جاتی ہے کہ وہ بھی اپنی حتی المقدور کوشش اور محنت کریں اور بچوں کی بھلائی کیلئے اپنی قابلیت اور تجربے کو بروئے کار لائیں تاکہ ہمارے طالب علم، جن کے کندھوں پر ہمارا مستقبل ہے ، کو راہِ راست پر لایاجاسکے کیونکہ اگر آج اِن میں کسی بھی قسم کی خامی رہ جاتی ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ ہمارے آنے والے معاشرے میں نقائص ہونگے۔ لہٰذا اب بھی زیادہ محنت کرنے کی ضرورت اور گنجائش ہے۔
جہاں تک طالب علموں کا تعلق ہے ، اُن پر سب سے زیادہ ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں کیونکہ حکومتی اقدامات اور اساتذہ کی محنت تبھی رنگ لاسکتی ہیں جب وہ تندہی اور لگن سے اپنے آپ کو تعلیم کے نور سے منور کریں۔اُن کو یہ بات ذہن میں رکھنی چاہے کہ ہم اپنی قوم کا مقدر ہیں اور ہماری قوم ہم پر ہی انحصار کرے گی۔ طالب علموں کی کسی بھی قسم کی کوتاہی نہ صرف ان کے لئے ضرر رساںہے بلکہ سماج کیلئے بھی تباہ کْن ثابت ہو سکتی ہے۔اگر تاریخ کے اوراق کی ورق گردانی کی جائے تو یہ حقیقت اظہار ہو جاتی ہے کہ ہر وقت نو جوانوں نے ہی انقلاب لائے ہیں۔ہر قوم و ملت اپنے نوجوانوں سے اعلیٰ توقعات رکھتی ہے اور ہم بھی اپنے طالب علموں سے بہت امیدیں لگائے بیٹھے ہیں۔لہٰذا ان کا سب سے بڑا فرض یہ ہے کہ وہ اپنی صلاحیتوں کے مطابق سوفیصد دینے کی بھر پور کوشش کریں۔انہیں یہ بات بھی بالکل یاد رکھنی چاہے کہ ان کا ایک سال کا عرصہ بغیر ِ پڑھائی کے بیت گیا۔ اب انہیں موجودہ سال میں گزشتہ سال کی بھر پائی بھی کرنی ہے۔طالب علموں کے مقاصد بڑے اور عظیم ہونے چاہئیں اور انہیں ہر وقت چلینجز کا سامنا کرنے کیلئے تیار رہنا چاہے۔ بقولِ علامہ اقبال ؒ
تو شاہین ہے پرواز ہے کام تیرا
تیرے سامنے آسماں اور بھی ہیں
آخر پر میں طالب علموں سے یہ گزارش کرتا ہوں کہ سکول کھلنے والے ہیں تو ایک نیا جوش اور ولولہ لے کر اپنی پڑھائی کا نئے سرے سے آغاز کیا جائے اور ذہن میں یہ بات رکھنی چاہئے کہ ہم اپنی قوم کا مستقبل ہے۔اگر آپ اپنی پڑھائی میں کوئی بھی کوتاہی کرتے ہیں تو آپ نہ صرف اپنے لئے پریشانی کا باعث ہونگے، بلکہ تم اپنے سماج کے ساتھ دھوکا کرینگے کیونکہ آئیندہ سماج کے ناخدا تو تم ہی ہونگے۔اللہ تعالی سے دست بہ دعا ہیں کہ ہماری پڑھائی اب بغیر ِ کسی رکاوٹ کے آگے بڑھے۔ آمین!!
چمن میں جب لگتی ہے بہاروں کی زینت
اذیت بھی لیتی ہے راحت کی صورت
پتہ۔ستورہ ترال، پلوامہ کشمیر
موبائیل نمبر۔ 9797013883
���������