بلاشبہ موجودہ جدید دور میں انسان کے لئےسوشل میڈیا نے بے شمار مثبت امکانات پیدا کئے ہیں۔ علم کا منتقل کرنا آسان ہواہے،مجبور وبے بس انسان کی آواز دوسروں تک پہنچ پاتی ہے اور سیاسی ،اصلاحی و دینی پیغامات عام لوگوں تک پہنچتے میں دیر نہیں لگتی ہے۔دنیا بھر میں رونما ہونے والے حالات و واقعات کی خبریں چند منٹوں میں انسان تک پہنچ رہی ہیں،گویا موجودہ دور کا انسان ہر اچھی اور بُری خبر سے با خبر ہوجاتا ہے۔مطلب یہ کہ سوشل میڈیا ایک ایسی سہولت ہے ،جس کا تصور چند دہائیاں پہلے ممکن ہی نہیں تھا،لیکن آج گھر بیٹھے ہی انسان چند منٹوں میں بہت ساری معلومات سے واقف ہوجاتاہے۔اس لئے یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ آج کا انسان ایک نئی دنیا میں جی رہا ہے،ایک ایسی دنیا میں جہاں فاصلے ختم ہو چکے ہیں اور ایک موبائل اسکرین پوری کائنات کوانسان کے سامنے لے آتی ہے۔
سوشل میڈیا نے ہر فرد کو بولنے، لکھنے اور اثر انداز ہونے کی طاقت دے دی ہے۔ اب نہ کسی بڑے پلیٹ فارم کی ضرورت ہے، نہ کسی ادارے کی ۔ہر شخص خود ایک ’’میڈیا‘‘ بن چکا ہے۔اب اگرصورت حال کا طائرانہ جائزہ لیا جائے تویہ بات بخوبی سامنے آجاتی ہے کہ یہ سب کچھ سوشل میڈیا کا پہلا رُخ ہے، جسے ہم اچھا اور خوش آئند قرار دے سکتے ہیں ،مگر جب ہم اس کے دوسرے رُخ پر نظر ڈالتے ہیںتو وہ انتہائی بُرااور تشویشناک ہے، جس پر ہمیں غور و فکر کرنے کی ضرورت ہے۔ظاہر ہے کہ جہاںیہ سوشل میڈیا، روشنی پھیلا سکتا ہے، وہیں اندھیرا بھی بڑھا رہا ہے،جہاں یہ اصلاح کی سبیل بن جاتا ہے،وہیں یہ اندھیرے کی دلیل بھی بن جاتا ہے۔ جھوٹی خبریں، اُدھوری معلومات، نفرت انگیز تقاریر اور بے بنیاد الزامات تیزی سے پھیلاتا رہتا ہے۔ ہر شخص بغیر تحقیق کے کچھ بھی شیئر کر دیتا ہےاور یوں ایک جھوٹ سینکڑوں سچائیوں پر بھاری پڑ جاتا ہے۔ جس سے ظاہر ہوتا ہےکہ انسان نے سوشل میڈیا کو آئینہ بنانے کے بجائے ہتھیار بنا لیا ہے۔
پھر یہی سوال اُبھر آتا ہے کہ اس ٹیکنالوجی کا اصل رُخ کس طرف ہے؟آج کل سوشل میڈیا پر بڑی تعداد میں مذہبی پیغامات، ویڈیوز اور تقاریر گردش کرتی رہتی ہیں۔ بظاہر یہ سب دین کی خدمت معلوم ہوتے ہیں، مگر ہر بات دُرست ہو، یہ ضروری نہیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ نوجوان نسل جو سوشل میڈیا کو سب سے زیادہ استعمال کرتی ہے، اکثر یہ پہچان نہیں کر پاتی کہ کس کی بات معتبر ہے اور کس کی نہیں۔یہی وہ نازک مقام ہے جہاں سے گمراہی کے دروازے کھلتے ہیں۔ اُدھوری معلومات، جذباتی بیانات اور غیر مستند افراد کی باتیں بعض اوقات نوجوانوں کو انتہا پسندی، تنگ نظری یا غلط فہمیوں کی طرف لے جاتی ہیں۔ دین جو اعتدال، حکمت اور برداشت کا درس دیتا ہے، اُسے بعض لوگ سوشل میڈیا پر سختی، نفرت اور تقسیم کے رنگ میں پیش کرتے ہیں اور نادان ذہن اُسے ہی سچ سمجھ بیٹھتے ہیں۔
یہ صورت حال اس بات کا تقاضا کرتی ہے کہ ہم سوشل میڈیا کو صرف استعمال نہ کریں بلکہ اسے سمجھ کر، پرَکھ کر استعمال کریں۔ ہر دینی پیغام کو بلا تحقیق آگے بڑھانا دراصل ایک بڑی ذمہ داری سے غفلت ہے۔ ہمیں یہ دیکھنا ہوگا کہ بات کہنے والا کون ہے۔نہ کہ ہر وائرل ویڈیو یا جذباتی تقریر کو سچ مان لیں۔ اسی طرح والدین، اساتذہ اور سماجی رہنماؤں کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ نئی نسل کی رہنمائی کریں اور انہیں سوشل میڈیا کے صحیح استعمال کا شعور دیں۔سوشل میڈیا ایک طاقت ہے—نہ کہ مکمل خیراور مکمل شر۔ یہ ہمارے استعمال پر منحصر ہے کہ ہم اسے اصلاح کا ذریعہ بناتے ہیں یا انتشار کا ہتھیار۔ اگر ہم نے ذمہ داری، تحقیق اور شعور کو اپنا لیا تو یہی پلیٹ فارم محبت، اتحاد اور صحیح دینی فہم کو عام کرنے کا سب سے بڑا ذریعہ بن سکتا ہے،تاہم ہمیں اس بات کو سمجھنے کی ضرورت ہے کہ کوئی بھی پلیٹ فارم انسان کو تب تک کوئی صحیح راستہ نہیں دکھا سکتا ،جب تک وہ خود سنجیدہ ،با خبر اور ذمہ دار نہ بنے ۔ اس لئےضرورت اس بات ہے کہ ہم جہاں سے بھی ملے،حکمت و دانائی کوحاصل کرنے کی کوشش کریں ،کیونکہ اس میں مالکِ کائنات کی ودیعت ہوتی ہےاور حکمت و دانائی ہی بحرِ زندگی میں سلامتی سے کنارے اُتار دیتی ہے۔